علم، اقتدار اور عصری تقاضے: پسپائی یا شعوری مزاحمت؟

صابر علی

برصغیر کے مابعد استعماری تناظر میں علم اور اقتدار کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ جدید ریاستی ڈھانچے کی تشکیل اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے سماجی کرداروں(صحافی، ٹیچر اور دانشور) کو اکثر استعماریت کے تسلسل یا سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس بیانیے میں جہاں ایک طرف جدید پیشوں کی ”طبعی اطاعت“ اور ”بیانیہ سازی“ پر گرفت کی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف ’عالم‘ یا روایتی صاحبِ علم کے لیے یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بقا اور صداقت کے لیے ”سماجی بے وقعتی“ اختیار کر لے۔ یہ نقطہ نظر بظاہر پرکشش اور رومانوی معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر ہم عصری سماجیات اور تاریخی شعور کی روشنی میں اس کا جائزہ لیں تو یہ حکمتِ عملی ”علمی خودکشی“ کے مترادف دکھائی دیتی ہے۔

اس بحث کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ کیا جدیدیت کے جبر اور علمیاتی تشدد سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ عالم خود کو ”غیر متعلق“کر لے؟ یا پھر میدان میں رہ کر مزاحمت کی کوئی صورت ممکن ہے؟

جدید پیشے: آلہ کار یا امکانات کے امین؟

یہ درست ہے کہ جدید نظام کے پیشوں کو اپنے بیانیے کی تشکیل اور ”طاقت کے نفاذ“کے لیے استعمال کرتی ہے۔ تاہم، ان پیشوں کو محض ”ریاستی جبر کا آلہ“ قرار دینا انسانی عقل اور فعالیت کی توہین ہے۔ اسی دفتری  نظام کے اندر سے ایسے صحافی اور اساتذہ بھی اٹھے ہیں جنہوں نے طاقت کے مراکز کو چیلنج کیا ہے۔ اگر ٹیچر محض ریاست کا ملازم ہے اور صحافی محض معلومات کا مینیجر تو پھر ایڈورڈ سعید، نوم چومسکی یا محمد دین جوہر جیسے مفکرین کو کس خانے میں رکھا جائے گا جنہوں نے مغربی اکیڈیمیا اور میڈیا کے اندر رہ کر استعماری بیانیوں کی دھجیاں اڑائیں؟

جدید دور میں  ”پبلک اسفیئر“  ہی وہ واحد میدان ہے جہاں خیر اور شر کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اگر اہل حق یا اہل علم اس میدان کو ”گندہ“ سمجھ کر خالی چھوڑ دیں گے، تو وہ دراصل باطل کو ”واک اوور“ دے رہے ہوں گے۔ صحافی یا ٹیچر کا پیشہ بذاتِ خود شر نہیں، بلکہ اس کا استعمال اس کی نوعیت متعین کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ ان پیشوں کی ساخت میں ہی جبر شامل ہے، ایک جبریت پسندانہ سوچ ہے جو اصلاح کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔

عالم کا کردار: گمنامی یا قیادت؟

سب سے حساس اور اہم بحث ’عالم‘ کے کردار کے حوالے سے ہے۔ یہ تصور کہ ایک عالم کو جدید سیاسی طاقت اور سرمائے سے مکمل طور پر غیر متعلق ہو کر ”انتہائی معمولی پن“اختیار کر لینا چاہیے، درحقیقت دین کے سماجی اور سیاسی کردار کی نفی ہے۔ اسلام میں علم کا تصور محض ”قلبی تزکیہ“ تک محدود نہیں بلکہ یہ ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کے سماجی فریضے سے جڑا ہوا ہے۔

اگر عالم خود کو سماج کے مادی اور سیاسی ڈھانچوں سے اس قدر کاٹ لے گا کہ وہ نظام کے لیے ”غیر موجود“ ہو جائے، تو وہ سماج کی رہنمائی کیسے کرے گا؟ جدیدیت ایک سیلاب کی طرح ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں کنارے پر بیٹھ کر پانی کو برا بھلا کہنا یا غار میں پناہ لے لینا مسئلے کا حل نہیں۔ حضرت امام غزالیؒ کی مثال اکثر دی جاتی ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امام غزالیؒ نے عزلت نشینی ضرور اختیار کی تھی مگر وہ ”احیاء علوم الدین“ لکھ کر واپس اسی سماج میں آئے اور فکری جمود کو توڑا۔ ان کا علم محض مابعد الطبیعیاتی نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے دور کے فلسفیوں اور باطل نظریات کا انہی کی زبان میں رد کیا ۔

اگر آج کا عالم جدید علوم، سیاسی حرکیات اور ابلاغی نفسیات سے ناواقف رہ کر صرف ”روایتی تقدس“ کے خول میں بند رہے گا، تو وہ نئی نسل کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہے گا۔ علم کی سچائی اس کی ”تنہائی“ میں نہیں، بلکہ باطل کے ہجوم میں حق بات کہنے کی جرأت میں پوشیدہ ہے۔

علمیاتی تشدد کا مقابلہ

یہ دلیل وزنی ہے کہ جدید نظام ”علمیاتی تشدد“ کرتا ہے۔ لیکن اس تشدد کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ کیا پسپائی اختیار کر کے؟ ہرگز نہیں۔ علمیاتی تشدد کا مقابلہ ”علمیاتی انصاف“سے کیا جاتا ہے اور یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو جدید علمیت کے ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ وہ عالم جو پروفیسر بننے یا جدید اداروں میں کام کرنے کو ”زوال“ سمجھتا ہے، وہ دراصل اس پلیٹ فارم کو کھو دیتا ہے جہاں سے وہ ہزاروں ذہنوں کو متاثر کر سکتا تھا۔

مسئلہ عہدہ یا پیشہ نہیں بلکہ ”حبِ جاہ“ ہے۔ اگر دل میں حب جاہ نہیں تو ایک عالم، پروفیسر کی کرسی پر بیٹھ کر یا صحافی کے قلم کے ذریعے بھی کلمہ حق بلند کر سکتا ہے۔ اور اگر دل میں دنیا ہے تو وہ مسجد کے حجرے اور خانقاہ کے کونے میں بھی ”دنیا دار“ ہی رہے گا۔

عصرِ حاضر کا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس ”غیر متعلق“ علماء کی کمی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے ”اینگیجڈ انٹیلیکچوئلز“ کی کمی ہے جو جدیدیت کے پیٹ میں اتر کر اس کے تضادات کو بے نقاب کر سکیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ علم کو ”سماجی بے حیثیتی“ کے حصار سے نکال کر ”سماجی فعالیت“ کے منصب پر فائز کیا جائے۔ عالم کو اقتدار کا غلام نہیں ہونا چاہیے، لیکن اسے اقتدار کی حرکیات سے اتنا بے خبر یا لا تعلق بھی نہیں ہونا چاہیے کہ معاشرہ ظالموں اور موقع پرستوں کے رحم و کرم پر رہ جائے۔ ہمیں پسپائی  کی نہیں، بلکہ ایک ایسی شعوری مزاحمت کی ضرورت ہے جو جدید اداروں کے اندر رہ کر اقدارِ حق کی آبیاری کرے۔ یہی انبیاء کی میراث ہے اور یہی علم کا حقیقی تقاضا ہے۔

Visited 3 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *