تجزیہ
طبی مشاہدات، سرمایہ دارانہ ذہنیت اور لبرل فیمنزم کا امتزاج
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے قلم سے ایک تازہ تحریر مؤقر ویب سائٹ ”ہم سب“ پر شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے:
پچاس کے بعد – مسائل اور تجاویز
یہ تحریر بظاہر سنِ یاس (مینوپاز) کے بعد خواتین کو درپیش طبی مسائل اور ان کے تدارک کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک … Read the rest
ارادے کی خودمختاری: کانٹ کے اخلاقی فلسفے کے توجہ طلب پہلو
کانٹ کے فلسفے میں ارادے کی خودمختاری ایک اساسی اصول ہے۔ یہ اصول کچھ بنیادی مفروضوں پر قائم ہے جن کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
کانٹ کا موقف واضح طور پر ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
ارادے کی خودمختاری وہ اصول ہے جس کے تحت خالص اور عملی عقل، تمام تر خواہشات، جذبات اور بیرونی مقتدرات … Read the rest
اسلام میں تقدیس کی مکانیت اور ماورائے ادراک کا تصور (2)
اس حیرت انگیز عینی شہادت میں صرف چٹان اور اس کے معجزانہ طور پر معلق ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ ابن العربی نے یہاں قبۃ الصخرہ کی اس عظیم الشان عمارت کو یکسر نظر انداز کر دیا جو ساتویں صدی عیسوی سے وہیں کھڑی تھی۔ سولھویں صدی کے وسط کا ذکر ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم ایک فارسی گائیڈ … Read the rest
فطرت اور عقل کے مابین تعلق (2)
نظریہ ائتمانیہ یہ طے کرتا ہے کہ ”عالمِ مواثقہ“ (عہدِ ازل) میں ”فطرت“ (فطرتِ سلیمہ کے مفہوم میں) اور ”عقل“ (صریح عقل کے مفہوم میں) کے مابین تعلق محض ”تضمن“ (Inclusion) کا نہیں ہے بلکہ یہ وساطت (توسل) کا رشتہ ہے۔ یعنی ”عقل“ ”فطرت“ کا محض ایک حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے فطرت … Read the rest
فطرت اور عقل کے مابین تعلق(1)
ابنِ تیمیہ کا فکری انہماک ”عقل“ اور ”فطرت“ کے باہمی تعلق کے گرد گھومتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں موضوعات پر اُن کی گفتگو اس قدر باہم دگر پیوست ہے کہ ان کے مابین تعلق کی نوعیت کے بارے میں ان کا بیان ایک خاص قسم کے اضطراب کا شکار معلوم ہوتا ہے۔ اس تعلق کو بیان … Read the rest
عقل، تاریخ اور یورپ کا فکری حصار
فلسفے کی دنیا میں ایک بہت پرانا اور پیچیدہ سوال گردش کرتا رہا ہے: کیا ”عقل“ (Reason) ایک آفاقی روشنی ہے جو پوری انسانیت پر یکساں برستی ہے یا یہ ایک خاص ثقافتی اور جغرافیائی خطے کی پیداوار ہے؟
جرمن فلسفے کے دو دیو قامت ستون ہیگل اور ایڈمنڈ ہوسرل ہیں ۔ یہ دونوں مفکرین اگرچہ اپنے منہج میں مختلف … Read the rest
کیا ہم ’دورِ انسانی‘ میں جی رہے ہیں یا ’دورِ سرمایہ‘ میں؟
اکیسویں صدی میں جب ہم موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، ایک سوال بار بار دہرایا جاتا ہے کہ ”ہمارا یہ حال کس نے کیا؟“ گذشتہ ایک دہائی سے اس سوال کا ایک ہی جواب علمی اور عوامی حلقوں پر مسلط ہے کہ ”انتھروپوسین“ یعنی ”دورِ انسانی“۔
یہ بیانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ایک ارضیاتی … Read the rest
مائیکرو ہسٹری کے آئینے میں عقل کی تلاش
تاریخ کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔
ایک طریقہ وہ ہے جس میں ہم کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر نیچے وادی کا نظارہ کرتے ہیں۔ ہمیں بڑی بڑی سلطنتیں، جنگیں، معاشی انقلابات اور بادشاہوں کے کارنامے نظر آتے ہیں لیکن نیچے چلنے والے انسان چیونٹیوں کی طرح بے نام اور بے چہرہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسے میکرو … Read the rest
کیا خدا غصہ کرتا ہے؟
کائے ہینز کی کتاب ”اوریجن آن ڈیمونک ایگزیکیوشنز“ کے صفحات پلٹتے ہوئے ایک ایسے موضوع سے سامنا ہوا جو الہیات، فلسفے اور عام انسانی نفسیات کے سنگم پر کھڑا ہے۔ وہ موضوع ہے ”خدا کا غصہ“۔ ہم پڑھتے ہیں کہ خدا اپنی نافرمان قوموں پر غضب ناک ہوا، اس کا قہر بھڑکا اور اس نے انہیں نیست و نابود کر … Read the rest
