دین، عقل اور علم کی اصطلاحوں میں تحریف

عبیداللہ خان

بنیادی دینی مفاہیم و احکام میں تحریفات سے تجاہل

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دیگر ثقافتوں سے ربط و اتصال ذہنوں کو کشادہ کرنے اور سینوں کو فراخ کرنے کا ایک بڑا سبب ہے۔ خواہ وہ ثقافت جس سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے غالب ہو یا مغلوب۔ تاہم اس کشادگی اور وسعت میں کبھی ایسی چیز کی آمیزش ہو سکتی ہے جو اس مقامی ثقافت کے بعض اصولوں کے لیے مضر ہو یہاں تک کہ اس کے غلبے کی حالت میں بھی۔ ورنہ کم از کم یہ تو ہو گا کہ یہ رابطہ اپنے لوگوں کو دوسری ثقافتوں کے الفاظ استعمال کرنے اور انہی کے پیدا کردہ مسائل (اشکالات) پر بالکل انہی ثقافتوں کے طریقے پر غور و فکر کرنے کی طرف دھکیل دے گا جن سے انہوں نے رابطہ قائم کیا اور جب بھی فریقین کے مابین تعلق مضبوط ہوتا ہے، یہ سب کچھ نادانستگی میں ہو تا ہے۔ اور یہی حال اسلامی ثقافت کا قدیم اور جدید زمانے میں رہا ہے۔ چنانچہ اس کے لوگ ایسی بنیادی اصطلاحات استعمال کرنے لگے جن کی دلالتوں (معانی) کی تائید بنیادی دینی نصوص نہیں کرتیں۔ اور پھر انہوں نے ان اصطلاحات پر ایسے احکام اور مسائل کی بنیاد رکھی جو ذہنوں میں اس قدر راسخ ہو گئے کہ گویا وہ طے شدہ مسلمات یا عقلی بدیہیات ہوں۔اور ان اصطلاحات کا یہ استعمال ان مفاہیم کے اس ارتقاء کے باب سے نہیں ہے جو اسلامی معرفت کے ارتقاء کے سبب ہوا ہو، بلکہ یہ تو ”کلمات کو ان کے مقامات سے پھیر دینے“ (تحریف) کے باب سے ہے۔ اس پر ہم چند کلیدی اصطلاحات کی مثال پیش کرتے ہیں اور وہ ہیں: ”دین“، ”عقل“ اور ”علم“۔

دین چنانچہ جیسا کہ معلوم ہے مسلمانوں کے نزدیک دین صرف اس کی زندگی کے معنوی پہلو ہی کو منظم نہیں کرتا بلکہ اپنی ہمہ گیریت کے سبب اس زندگی کے تمام پہلوؤں کو منظم کرتا ہے، خواہ وہ معنوی ہوں یا مادی۔ اس کے باوجود، قدیم زمانے میں ”دین“ اور ”دنیا“ کے مابین ایک تقابل (dichotomy) مشہور ہو گیا([1]) اور مسلم علماء و مفکرین نے اسے ایک بدیہی حقیقت کے طور پر آپس میں نقل کیا یہاں تک کہ انہوں نے ”دینی علم“ اور ”دنیوی علم“ میں بھی تقابل قائم کر لیا۔ اگرچہ ان میں سے بعض نے اس تقابل کو محض ایک وظیفی (functional) تقابل ہی سمجھا، اس معنی میں کہ ہر وہ علم جس سے مقصود آخرت کے لیے عمل کرنا ہو، اسے دینی علم شمار کیا جائے گا، خواہ وہ علمِ منطق ہی کیوں نہ ہو؛ اور ہر وہ علم جس سے مقصود دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہو، اسے دنیوی علم شمار کیا جائے گا، خواہ وہ علمِ فقہ ہی کیوں نہ ہو([2])۔ بالکل اسی طرح جدید دور میں ”دین“ اور ”سیاست“ کے مابین تقابل مشہور ہو گیا ہے اور سیکولر حضرات اور بعض اسلام پسندوں نے اسے بھی ایک ایسی مسلمہ حقیقت کے طور پر عام کیا جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ انہوں نے ”دینی عمل“ اور ”سیاسی عمل“میں تقابل قائم کیا، اس بنیاد پر کہ اول الذکر کا تعلق ایمان کے نجی معاملات سے ہے جبکہ ثانی الذکر کا تعلق عمومی نظم و نسق (public administration) کے معاملات سے ہے؛ یہ سب دین کے جدید تصور سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حالانکہ دین تو دین دار (متدین) شخص کی دنیائے وجود (world of being) ہے تو پھر یہ دنیا اپنے نظم و نسق (تدبیر) کے بغیر کیسے وجود میں آ سکتی ہے!

عقل: رہی بات عقل کی، تو اسے ”مجرد رائے“کے معنی تک محدود کر دیا گیا اور ”نقل“ یا ”شرع“  کو جو خود بھی ”نازل شدہ وحی“ کے معنی تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، اس عقل کی ضد بنا دیا گیا۔ یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ ”یہ عقلاً و نقلاً صحیح ہے“ یا ”یہ عقلاً و شرعاً صحیح ہے“۔ اور نتیجتاً، معرفت کی ”نقلی معرفت“ اور ”عقلی معرفت“ میں درجہ بندی راسخ ہو گئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شرعی خطاب (discourse) کی عقلیت وضعی گفتمان (positivist discourse) سے کم نہیں، بلکہ شاید اس میں اس کا رتبہ بلند تر ہی ہو۔ یہ اور بات کہ دین داری عقلی معرفت کے ذریعے بھی جائز ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ نقلی معرفت کے ذریعے ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کے ذریعے قربِ الٰہی کی خالص نیت پائی جائے۔

علم: اور رہا علم، تو اس کا حصہ اس تخفیف میں ”عقل“ کے حصے سے بھی بڑا تھا، یہاں تک کہ اس کا معنی انتہائی تنگ ہو گیا اور وہ ”دین“ کے معنی کی ضد بن کر رہ گیا۔ چنانچہ جہاں دین ہو وہاں علم نہیں اور جہاں علم ہو وہاں دین نہیں۔ پس جن لوگوں پر اپنے دین کی غیرت غالب آئی، وہ طبعی سائنس کی کامیابیوں کے ذریعے دین کی صحت پر استدلال کرنے لگے اور انہوں نے خود کو قرآن کے ”اعجازِ علمی“بیان کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ حالانکہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ دین کی تعلیمات کے ذریعے طبعی علم کی حدود پر استدلال کیا جاتا جس طرح فرع سے اصل پر استدلال کیا جاتا ہے یا ادنیٰ سے اعلیٰ پر۔

[1]  اس  ضمن میں الماوردیؒ کی کتاب ”ادب الدنيا و الدين“ کی مثال دینا مناسب ہوگا جس کا عنوان اس نکتے سے مناسبت رکھتا ہے۔

[2]  ملاحظہ ہو: الغزالي، إحياء علوم الدين ( بيروت/ دمشق، دار الفكر، طبع  1975ء) جلد اول ، ص 30 – 37۔

یہ مضمون طہ عبدالرحمان کی کتاب سے ترجمہ کیا گیا ہے ، ملاحظہ ہو: من الانسان الابتر الی الانسان الکوثر، ص 40 تا 42۔

Visited 4 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *