عرب اور عثمانی مفکروں نے یورپی روشن خیالی کے تصورات انیسویں صدی میں اختیار کیے۔ اس سے پہلے سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے مسلمان اہل علم کا اپنا فکری پروگرام تھا جس کی روشنی میں وہ مغرب سے معاملات کرتے تھے۔ اس فکر کی روشنی میں وہ دیکھتے کہ کیا کچھ اختیار کرنا ہے۔ وہ نئے خیالات سے نمٹنے میں پراعتماد تھے۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اپنی روشن خیالی تھی۔
عبدالغنی النابلسی (1641 – 1731) دمشق کے باشندے تھے اور یورپی روشن خیالی کے بڑے مفکروں، سائنس دانوں، شاعروں اور فلسفیوں کے ہم عصر تھے۔ آپ اسلامی روشن خیالی کی ممتاز شخصیات میں سے ایک تھے۔ آپ کی زندگی اور تحریروں سے ہم جان سکتے ہیں کہ ہمارا تجربہ یورپی تجربے سے کس طرح مختلف ہے۔ نابلوسی اپنے وقت کے سرکردہ عالم دین تھے اور دینی علوم پر آپ کا اثر نمایاں ہے۔
یورپی روشن خیالی عالمی فکری تاریخ میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس نے جدید دنیا کی عقلی تفہیم کی بنیادیں رکھیں اور اسے واضح شکل دی۔ روشن خیالی کی ایک بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ مذہب کے لیے رویہ تبدیل ہو گیا۔ عقیدہ اور دین کا عقل اور سائنس سے جھگڑا نمودار ہوا۔ سترھویں صدی میں سائنسی انقلاب آیا تو اس کے نتیجے میں سائنس اور انسانی عقل کے لیے احترام بڑھ گیا۔ اس کے ساتھ ہی مذہب اور مذہبی اتھارٹی کے لیے احترام کم ہونے لگا۔ نئے اختلافات پیدا ہونے لگے۔ سیکولرازم اور بڑھتے ہوئے مذہب مخالف جذبات کے ساتھ ساتھ نئے مذہبی خیالات متعارف ہوئے اور خدا، انسان اور کائنات کے درمیان تعلق کی نئی تفہیم سامنے آئی۔ اسی دور میں غیروں یعنی دوسروں کو سمجھنے کے نئے طریقے بھی سامنے آئے۔ مذہب کے بجائے علم البشریات یعنی انتھروپولوجی اہم ہو گئی۔ ایمان اور کفر کی جگہ علم اور جہالت نے لے لی۔
اسلامی دنیا میں اسلام کو عقلیت پسندوں کی طرف سے اس سطح کی دشمنی کا سامنا نہ ہوا جس سطح کی دشمنی یورپ میں عیسائیت نے دیکھی۔ مسلمانوں کا مذہبی تصورِ کائنات متاثر ضرور ہوا لیکن یورپ جیسی صورت حال نہ ہوئی جہاں نئی سائنسی معلومات نے عیسائی تصورِ کائنات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اہم بات یہ کہ غیروں کو اب بھی علم بشریات کے بجائے مذہب کے لحاظ سے دیکھا جاتا رہا۔ اس کی ایک وجہ سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں اسلام میں سائنس کی صورت حال ہے۔ مسلمانوں نے تازہ ترین سائنسی پیش رفتوں کے ساتھ قدم ملانے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن ان کی سائنسی مہمات یورپیوں کی کوششوں تک نہ پہنچ سکیں۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے ہاں سائنس کا احترام اس بلندی تک پہنچا جہاں تک یورپ میں پہنچ گیا تھا۔ پھر بھی غوروفکر کے عقلی رجحانات نمودار ہوئے اور کچھ سیکولر اور سائنسی تحریروں، مذہبی اصلاح پسندی اور تصوف مخالف فکر میں ان کا اظہار ہوا۔ علم کی پیداوار اور ابلاغ کے طریقوں میں تبدیلی بھی اثرانداز ہوئی۔
نابلسی کی شخصیت اور تعلیمات میں ان عقلی رجحانات کے کئی پہلو جھلکتے ہیں۔ آپ ایک سیلف میڈ صوفی مرشد تھے جنہوں نے روحانی ترقی کے لیے مرشدوں کے بجائے متون پر انحصار کیا اور دنیاوی لذت اور روحانی بالیدگی میں کوئی فرق نہ کیا۔ آپ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے مذہبی فکر کی عقلیت پسندی کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے مذہب کا ایسا فلسفہ تشکیل دیا جو اسلام کی مساوات پسندانہ تفہیم کا حامی تھا اور رواداری کا دائرہ وسیع کرتا تھا۔ آپ نے وجود کا ایک فلسفہ متعارف کروایا جو یورپ میں ظاہر ہونے والی نیچرل تھیالوجی کا متبادل تھا۔ آپ نے متنازعہ صوفیانہ متون کی نئی تفہیم کے ذریعے تصوف کی سماجی قبولیت کے لیے راہ ہموار کی جس میں عوامی شرکت کو فروغ دیا گیا۔ آپ نے تصوف مخالف جذبات کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی طاقت کا فائدہ اٹھایا جس سے دمشق میں بہت ہلچل پیدا ہوئی۔
عبدالغنی النابلسی کی شہرت بطور صوفی ہے لیکن آپ ایک صوفی سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہیں۔ آپ کی تمام تصانیف سے ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو اسلام کی فکری تاریخ کے نئے پہلو دکھاتی ہے۔

My family members all the time say that I am wasting my time here at net, but I know I am getting
knowledge everyday by reading thes fastidious articles or reviews.