تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم)

صابر علی

جب ہم ایڈورڈ سعید کی ’اورینٹلزم‘ پڑھتے ہیں تو ایک عجیب سحر طاری ہو جاتا ہے۔ اس کا قلم تلوار کی طرح چلتا ہے اور قاری کو یقین دلا دیتا ہے کہ مغرب نے شروع دن سے ہی مشرق کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ لیکن جیسے ہی جذباتی غبار چھٹتا ہے اور ہم ٹھنڈے دل و دماغ سے سعید کے مقدمے کا جائزہ لیتے ہیں  تو ہمیں اس کی بنیادوں میں گہری دراڑیں نظر آتی ہیں۔

اصل اور بنیادی مسئلہ سعید کا ”تاریخی اور جغرافیائی شعور“  ہے۔

وقت کا پہیہ اور سعید کی الجھن

سعید کا دعویٰ ہے کہ اورینٹلزم وہ علم ہے جس نے جدید استعمار (Colonialism) کو جواز فراہم کیا۔ یعنی جب انگریز اور فرانسیسی فوجیں ہماری زمینوں پر قابض ہو رہی تھیں تو یہ علم ان کا ہراول دستہ تھا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سعید اسی کتاب میں اورینٹلزم کی جڑیں تلاش کرتے کرتے قدیم یونان  تک پہنچ جاتا ہے۔

ذرا سوچیے! ایک طرف وہ کہتا ہے کہ یہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کا جدید استعماری پروجیکٹ ہے اور دوسری طرف وہ ’اسکائلس‘ (Aeschylus) جیسے یونانی ڈرامہ نگاروں کو بھی ”مستشرق“کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ”ایٹم بم جدید سائنس کی ایجاد ہے“ اور پھر دلیل کے طور پر مہابھارت یا قدیم جنگوں کا حوالہ دینے لگے۔

جب آپ ہر زمانے، ہر خطے اور ہر دور کے لکھاری کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں تو آپ دراصل اس ’خاص زہر‘ کی تشخیص کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جو صرف اور صرف ’جدیدیت‘  نے پیدا کیا ہے۔ اگر یونان کا شاعر بھی مستشرق ہے اور انیسویں صدی کا برطانوی افسر بھی تو پھر جدید استعمار میں وہ کون سی ”نئی بات“ تھی جس نے ہماری دنیا تہس نہس کر دی؟ سعید کی یہ تاریخی بے اعتدالی ہمیں اصل مجرم (یعنی جدید یورپی علمی ڈھانچے) تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔

مصنف: زندہ یا مردہ؟

ایک طرف سعید یہ تاثر دیتا ہے کہ مستشرقین  بڑے بااختیار لوگ تھے جنہوں نے اپنی ذہانت اور چالاکی سے اسلام کی غلط تصویر کشی کی۔ یعنی وہ انفرادی طور پر ذمہ دار ہیں۔ لیکن دوسری طرف جب وہ مشل فوکو (Michel Foucault) کے فلسفے کا سہارا لیتا ہے تو وہ یہ بھی کہتا ہے کہ یہ مصنفین تو ایک بڑے ”ڈسکورس“ (Discourse) کے قیدی تھے اور اپنی مرضی سے سچ لکھ ہی نہیں سکتے تھے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ مصنفین مجبور تھے، تو انہیں گالی کیوں دی جائے؟ اور اگر یہ مختار تھے، تو پھر فوکو کی تھیوری کا کیا کام؟

مسئلہ ”اچھے“ یا ”برے“ مصنف کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ برنارڈ لیوس برا تھا اور ماسینیون (Massignon) اچھا تھا۔ مسئلہ اس ”مرکزی دائرے“ (Central Domain) کا ہے جس کے اندر رہ کر یہ سب لکھ رہے تھے۔ یہ دائرہ جدیدیت، سیکولرازم اور مادیت پرستی کا دائرہ ہے۔ اس دائرے کے اندر رہ کر اگر کوئی اسلام کی تعریف بھی کرے گا (جیسے کچھ مستشرقین نے کی)، تب بھی وہ اسلام کو مسخ ہی کرے گا کیونکہ وہ اسلام کو دیکھنے کے لیے جو عینک استعمال کر رہا ہے، وہ بذاتِ خود ناقص ہے۔

نمائندگی کا دھوکہ

سعید کی ساری جنگ اس بات پر تھی کہ مغرب نے ہماری ”غلط نمائندگی“(Misrepresentation) کی۔  یہ اعتراض ہی سطحی ہے۔ فرض کریں اگر مغرب ہماری ”درست“نمائندگی کرتا تو کیا وہ استعمار چھوڑ دیتا؟ ہرگز نہیں!

اصل خطرہ یہ نہیں کہ استشراق نے ہمیں کتابوں میں غلط پیش کیا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ استشراق ایک ”پرفارمیٹو“(Performative) طاقت تھا۔ اس نے صرف ہمیں بیان نہیں کیا بلکہ اس نے ہماری حقیقت کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے ہمارے قوانین بدلے، ہمارے سکول بدلے، ہماری سوچ بدلی، یہاں تک کہ ہمیں خود کو اپنی ہی نظروں میں اجنبی بنا دیا۔ یہ تحریر کا نہیں، ”تعمیرِ نو“(Re-engineering) کا پروجیکٹ تھا۔

ہمیں ایڈورڈ سعید کے جذباتی بیانیے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اورینٹلزم محض چند تعصبات کا مجموعہ نہیں جسے ”اچھے استشراق“ سے ٹھیک کیا جا سکے۔ یہ جدید علم کے اس بڑے کارخانے کا ایک پرزہ ہے جس کا مقصد ہی انسان کو خدا اور فطرت سے کاٹ کر ریاست اور مارکیٹ کا غلام بنانا ہے۔

جب تک ہم اس ”علمی ڈھانچے“ کو نہیں سمجھیں گے، ہم مغرب کو برا بھلا تو کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کے بچھائے ہوئے جال سے نکل نہیں سکتے۔

قسط اول کے لیے کلک کریں

قسط سوم کے لیے کلک کریں

قسط چہارم کے لیے کلک کریں

قسط پنجم کے لیے کلک کریں

آخری قسط کے لیے کلک کریں

Visited 4 times, 1 visit(s) today

5 thoughts on “تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم)”

  1. Pingback: استشراق: ادھوری کہانی سے آگے (قسط اول) – bayania.com

  2. Pingback: استشراق اور واپسی کا راستہ(آخری قسط) – bayania.com

  3. Pingback: مہذب دنیا کا خونی چہرہ (قسط پنجم) – bayania.com

  4. Pingback: روایتی فکر کی بازگشت اور جدیدیت کا انکار (قسط چہارم) – bayania.com

  5. Pingback: روحوں کی گرفتاری کا نظام (قسط سوم) – bayania.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *