روایتی فکر کی بازگشت اور جدیدیت کا انکار (قسط چہارم)

صابر علی

ہم نے دیکھا کہ جدیدیت  کا شکنجہ کس قدر سخت اور ہمہ گیر ہے۔ یہ ریاست، قانون، معیشت اور تعلیم کے ذریعے ہمیں جکڑ لیتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس شکنجے سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی ہے؟ کیا مغرب میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے اس طلسم کدے کو توڑنے کی کوشش کی ہو؟

ایڈورڈ سعید نے یقیناً مغرب پر تنقید کی لیکن  سعید کی تنقید ”نظام کے اندر“کی تنقید تھی۔ وہ لبرل ازم اور سیکولر ازم کی شاخوں پر تو وار کرتا رہا لیکن اس درخت کی جڑ کو انہوں نے پانی ہی دیا۔

ہم آپ کو ایک ایسے شخص سے ملواتے ہیں جو سعید کے برعکس مغرب کی پوری عمارت زمین بوس کرنے کا خواب دیکھتا تھا۔ یہ ایک فرانسیسی مستشرق تھا جس نے مغرب کی روحانیت سے خالی دنیا سے تنگ آ کر اسلام اور تصوف کی پناہ لی۔ اس کا نام رینے گینوں (René Guénon) تھا جسے دنیا شیخ عبدالواحد یحییٰ کے نام سے بھی جانتی ہے۔

اختلافی بمقابلہ باغی مصنف

مصنفین کی دو اقسام ہوتی ہیں اور یہ فرق سمجھنا ہماری اپنی فکری اصلاح کے لیے بہت ضروری ہے:

1۔ اختلافی مصنف (The Dissenting Author): یہ وہ لکھاری ہے جو نظام کی خرابیوں پر تنقید کرتا ہے لیکن نظام کی بنیادوں کو قبول کرتا ہے۔

اس کی ایک مثال ایڈورڈ سعید ہے۔ سعید کہتا ہے کہ مغرب نے مشرق کے ساتھ انصاف نہیں کیا، مغرب کو زیادہ ”جمہوری“اور ”انسان دوست“ہونا چاہیے تھا۔ وہ ٹائی ٹینک جہاز کے کپتان پر تنقید کر رہا ہے کہ وہ جہاز غلط چلا رہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ جہاز ہی غلط سمت میں جا رہا ہے اور ڈوبنے والا ہے۔ وہ اسی جہاز پر ایک بہتر سیٹ کا طلبگار ہے۔

باغی مصنف (The Subversive Author): یہ وہ لکھاری ہے جو نظام کی بنیادوں  کو ہی چیلنج کر دیتا ہے۔

اس کی مثال رینے گینوں ہے۔ گینوں یہ نہیں کہتے کہ مغرب کو ”بہتر“ہونا چاہیے؛ وہ کہتے ہیں کہ جدید مغرب سرے سے ایک ”بے قاعدگی“(Anomaly) ہے، ایک بھٹکی ہوئی تہذیب ہے جو روحانیت اور مابعد الطبیعات (Metaphysics) سے کٹ کر پاگل پن کا شکار ہو چکی ہے۔ وہ ٹائی ٹینک کی سجاوٹ پر نہیں، اس کے پیندے میں ہوئے سوراخ پر بات کرتے ہیں۔

مغرب کا اصل مرض: مادیت پرستی (Materialism)

سعید نے اورینٹلزم پر تنقید کرتے ہوئے سیاست اور کلچر پر زور دیا۔ گینوں نے اس سے کہیں گہرا وار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دوسری قوموں پر قبضہ کرتا ہے؛ اصل مسئلہ اس کا ”ذہنی رویہ“(Outlook) ہے۔

یہ رویہ کیا ہے؟ یہ مادیت پرستی ہے۔

گینوں کے نزدیک دنیا کی تمام بڑی تہذیبیں (اسلامی، ہندو، چینی، حتیٰ کہ قرونِ وسطیٰ کا عیسائی یورپ) ایک نکتے پر متفق تھیں: ”حقیقت صرف وہ نہیں جو آنکھ سے نظر آتی ہے“۔  انسان کا اصل جوہر اس کی روح ہے اور علم کا مقصد خدا اور کائنات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

جدید مغرب نے (جس کا آغاز نشاۃ ثانیہ یا Renaissance سے ہوا) اس اصول کو الٹ دیا۔ اس نے کہا کہ صرف مادہ (Matter) ہی حقیقت ہے۔ سائنس نے خدا کو کائنات سے بے دخل کر دیا اور انسان کو فطرت کا حاکم بنا دیا۔ گینوں کے مطابق جب آپ آسمان سے رشتہ توڑ لیتے ہیں تو زمین پر فساد برپا ہونا لازمی ہے۔ استشراق اسی مادیت پرست ذہن کی پیداوار ہے جو مشرق کی روحانیت کو سمجھ ہی نہیں سکتا، اس لیے وہ اسے ”عجیب“، ”پسماندہ“ یا ”غیر عقلی“قرار دے دیتا ہے۔

اندھی سائنس اور ترقی کا بت

ہم آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی سے بہت مرعوب ہیں۔ گینوں ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ جدید سائنس دراصل ”جاہلانہ علم“ (Ignorant Knowledge) ہے۔ یہ ایک بہت سخت جملہ ہے لیکن اس کا مطلب سمجھیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جدید سائنس چیزوں کی سطح (Surface) کو تو بہت باریکی سے دیکھتی ہے، لیکن وہ چیزوں کے ”معنی“(Meaning) اور ”مقصد“سے عاری ہے۔ یہ ہمیں ایٹم بم بنانا تو سکھا سکتی ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ اسے چلانا اخلاقی طور پر غلط کیوں ہے۔

اسی طرح مغرب نے ”ترقی“(Progress) کا ایک نیا بت تراشا۔ ہمیں بتایا گیا کہ انسانیت ہمیشہ بہتری کی طرف سفر کر رہی ہے اور چونکہ مغرب ٹیکنالوجی میں آگے ہے، اس لیے وہ تہذیب کی معراج ہے۔ گینوں نے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام نہاد ”ترقی“دراصل ”روحانی تنزل“ہے۔ مشرق کی جن روایات کو مغرب ”جامد“(Static) اور ”غیر متحرک“ کہہ کر طعنہ دیتا ہے، وہ دراصل ”مستحکم“ (Stable) ہیں کیونکہ وہ ابدی اصولوں (Principles) پر کھڑی ہیں۔ جو چیز اصولوں پر کھڑی ہو، وہ روز روز نہیں بدلتی۔ تبدیلی اور حرکت ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی؛ کینسر بھی جسم میں بہت تیزی سے ”ترقی“کرتا ہے!

سعید کی کوتاہی اور گینوں کا سبق

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایڈورڈ سعید اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود جدیدیت کے فریب سے نہیں نکل سکا۔ سعید کو مذہب سے چڑ تھی؛ وہ تصوف اور روایت کو ”پرانے زمانے کی باتیں“سمجھتا تھا۔ اسی لیے وہ ماسینیون (Massignon) جیسے صوفی منش مستشرقین کے ساتھ انصاف نہ کر سکا جو مشرق کی روحانیت کے شیدائی تھے۔

سعید نے چاہا کہ مغرب استشراق چھوڑ کر ”سیکولر انسانیت پرستی“(Secular Humanism) اپنا لے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے آپ شرابی کو کہیں کہ شراب چھوڑ دو لیکن مے خانے میں بیٹھے رہو۔ اورینٹلزم تو سیکولر انسانیت پرستی ہی کی اولاد ہے۔

اس کے برعکس رینے گینوں کا پیغام یہ ہے کہ اگر مغرب (اور مغرب زدہ مشرق) کو بچنا ہے تو اسے ”روایت“ (Tradition) کی طرف پلٹنا ہوگا۔ اس روایت کی طرف نہیں جو محض رسم و رواج کا نام ہے، بلکہ اس ”ازلی حکمت“(Philosophia Perennis) کی طرف جو اسلام کے سینے میں محفوظ ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہمیں چاہیے ہم مغرب پر تنقید کرتے ہوئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کریں۔ ہمیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ”اسلام بھی جدید اور لبرل ہے“۔  بلکہ ہمیں رینے گینوں کی طرح یہ کہنے کی جرات پیدا کرنی چاہیے کہ اگر جدیدیت کا مطلب خدا فراموشی، ماحول کی تباہی اور انسان کی روحانی موت ہے، تو ہمیں ایسی جدیدیت نہیں چاہیے۔

ہمیں ایک باغی مصنف بننے کی ضرورت ہے جو شاخوں پر نہیں، جڑوں پر کلہاڑا رکھے۔

قسط اول کے لیے کلک کریں

قسط دوم کے لیے کلک کریں

قسط سوم کے لیے کلک کریں

قسط پنجم کے لیے کلک کریں

آخری قسط کے لیے کلک کریں

Visited 5 times, 1 visit(s) today

1 thought on “روایتی فکر کی بازگشت اور جدیدیت کا انکار (قسط چہارم)”

  1. Pingback: تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم) – bayania.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *