لفاظی کی دھول میں علمی فرار: محمد دین جوہر کے معقولاتی تضادات

صابر علی

نعمان علی خان کے دو سوالوں پر  محمد دین جوہر صاحب کی تحریر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ تحریر ”جواب“ سے زیادہ ”فرار“ کی ایک کوشش ہے۔ جوہر صاحب الفاظ کی بازی گری اور پیچیدہ فلسفیانہ اصطلاحات کی دھول اڑا کر اصل سوالات غائب کر دیتے ہیں۔ ذیل میں ان کے متن کے مختلف حصوں کے مابین گہرے تضادات اور سوالات سے فرار کی تکنیک کا تفصیلی تجزیہ پیش خدمت ہے۔

تضادات فی السدس

1۔ تحریر کے پہلے حصے میں  جوہر صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ ”ہمارے ہاں معقولات کا مطلق خاتمہ ہو چکا ہے“ اور ”مکالمے کی اساس ختم ہو گئی ہے“۔  چھٹے حصے کے آخر میں لکھتے ہیں: ”عقل ایک خودآگاہ انسانی ملکہ ہے اور اگر اس سے کچھ پوچھو تو فرفر بولتی ہے۔“

اگر معقولات کا مطلق خاتمہ ہو چکا ہے اور عقل مر چکی ہے تو چھٹے حصے میں وہ اچانک ”فرفر بولنے“ کیسے لگی؟ اگر عقل خود اپنا تعارف کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو پھر برصغیر میں اس کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ جوہر صاحب نے پہلے حصے میں عقل کو مردہ قرار دیا تاکہ  نعمان علی خان اور زاہد مغل کو نااہل ثابت کریں اور آخری حصے میں عقل کو زندہ قرار دیا تاکہ خود جواب دینے کی ذمہ داری سے بچ سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جوہر صاحب کے سامنے تو عقل فر فر بولتی ہے اور نعمان علی خان کے سوالوں پر واقعی فر فر بولی لیکن اس فرفر میں اپنا کچھ اتاپتا دیے بغیر ہی فرار ہو گئی۔ اب بھی موقع ہے، اگر عقل کی طبیعت ناساز نہیں تو دریافت فرمائیے کہ بی بی عقل خودآگاہ اپنی آگاہی کیا دیتی ہے اور جو کچھ فرماتی ہے اس کے سچ جھوٹ کی پرکھ کس سے کروانے کو کہتی ہے۔ ویسے جوہر صاحب اپنا معقولاتی دفتر کھنگال کر یہ بھی انکشاف فرما دیں کہ وہ مردہ عقل کو کیا منتر پڑھ کر فر فر بولنے پر لگاتے ہیں  اور کیا ان کی عقل مانتی ہے کہ مردہ عقل فرفر بول سکتی ہے؟

2۔ تحریر کے تیسرے حصے میں جوہر صاحب امام غزالیؒ کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے ارسطو سے اس لیے مکالمہ کیا کیونکہ ”دونوں کے ہاں عقل اور استدلال کے معنی قطعی ایک ہیں“۔ یعنی مشترک آلاتِ استدلال کا استعمال درست تھا۔ پہلے حصے میں جوہر صاحب ڈاکٹر زاہد مغل پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ علم الکلام (جو عقل و استدلال کا نظام ہے) کے ذریعے جدیدیت کا رد کر رہے ہیں اور آپ  اسے پلاسٹک کی ادوائن والی چارپائی کہتے ہیں۔

 اب عقل کا کمال دیکھیے ۔ غزالی کا یونانی منطق استعمال کر کے یونانی فلسفے کا رد کرنا ”شاہکار“ ہے۔   آج کا مسلمان عالم اگر جدید منطق یا قدیم کلامی استدلال کو استعمال کر کے الحاد کا رد کرے تو وہ ”مجاوری“ ہے۔  جوہر صاحب کے پاس اس فرق کی کوئی عقلی دلیل نہیں سوائے ان کی ذاتی پسند و ناپسند کے۔

3۔ تحریر کے چوتھے حصے میں آپ کہتے ہیں کہ جدید علوم ”روحانیت، مذہب اور اسرار کو نکال باہر کرتے ہیں“ اور یہ کہ ”جدید عقلی علوم ریاضیاتی ہونے کی وجہ سے جبر کو مستلزم ہیں“۔ (یعنی جدید سائنس اپنی ماہیت میں متعصب اور غیر مذہبی ہے)۔پانچویں حصے میں آپ فرماتے ہیں کہ ”دنیا بھر کے انسانوں میں عقل سے مراد ایک ہی ہے… میں مسلمانوں کے لیے کسی نویکلی (Unique) عقل کو نہیں مانتا۔“

اب اسے تناقض نہ کہیں تو کیا کہیں؟  اگر عقل ایک آفاقی چیز ہے تو پھر ”جدید عقل“ خاص طور پر ”مذہب دشمن“ کیسے ہو گئی؟ اگر سائنس یا عقل آفاقی ہے تو اسے غیر جانبدار ہونا چاہیے تھا۔ ایک طرف آپ عقل کی وحدت کے قائل ہیں، دوسری طرف مغربی عقل کو مخصوص ”ایجنڈے“ یعنی اثباتیت کا حامل بتاتے ہیں۔ بوقت فرصت و فراغت یہ طے کر لیں  کہ عقل ایک ”غیر جانبدار آلہ“ ہے یا ”مغربی تہذیب کا خانہ زاد نظریہ“۔

کیا نعمان علی خان کو سوالات کے جواب مل گئے؟

نعمان علی خان کے دو سادہ سوالات تھے۔ آئیے دیکھتے ہیں جوہر صاحب نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

سوال نمبر 1: ”آپ علم سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کہیں آپ اس میں سے روحانیت تو نہیں نکال رہے؟“

جوہر صاحب کا ردعمل ملاحظہ ہو کہ پہلے تو آپ نے سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کنندہ کی نیت پر حملہ کیا کہ یہ نیوٹرل سوال نہیں ہے۔ پھر ایک تکنیکی حیلہ اختیار کرتے ہوئے اصطلاحات کے پردے میں راہِ فرار پر چل نکلے کہ یہ سوال ”علمیاتی“ نہیں بلکہ  ”ہرمینیاتی“ ہے  لہٰذا اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح درپردہ اعترافِ شکست کو طویل بحث میں چھپاتے ہوئے بالواسطہ تسلیم کیا کہ ہاں! جدید عقلی علوم روحانیت کو نکال دیتے ہیں اور میں اس پر دکھی ہوں لیکن کچھ کر نہیں سکتا۔

حاصل یہ کہ آپ نے اپنی تعریفِ علم پیش نہیں کی۔ آپ  نے یہ نہیں بتایا کہ قرآن کے لفظ ”علم“ کو کیسے سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے آپ نے قاری کو ”یونانی فلسفے“ اور ”تاریخی جبریت“ کی بھول بھلیوں میں گم کر دیا اور جواب صفر۔

سوال نمبر 2: ”قرآن میں بیان کردہ عقل سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟“

اس سوال پر جوہر صاحب کا ردعمل یہ تھا کہ پہلے تو ابطالِ سوال کیا اور کہا کہ یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ پہلے ”مجرد عقل“ کا پتہ ہونا چاہیے پھر ”قرآنی عقل“ کا۔ پھر نفسیاتی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اندر ایک ”انگریز“ بیٹھا ہے جو ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ استدلال کا جواب نہیں بلکہ نفسیاتی تذلیل ہے۔ پھر رانجھا راضی کرنے کے بعد چھٹے حصے کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے کہ  ”میری تو کچھ مجال نہیں کہ میں کوئی مراد بیان کروں۔ بہتر ہے عقل سے براہ راست پوچھ لیں۔“

یہ ایک علمی خودکشی اور مناظرانہ چال ہے۔ تین ہزار الفاظ لکھنے کے بعد یہ کہنا کہ میری مجال نہیں کہ میں جواب دوں، یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کے پاس یا تو کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے یا وہ اسے بیان کرنے کی جرات نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا تصورِ عقل قرآن سے متصادم ہو سکتا ہے۔  اس لیے دوسرے سوال کا جواب ابطال اور  مکمل انکار ہے۔

الفاظ کی دھول

جوہر صاحب نے سوالات غائب کرنے کے لیے مندرجہ ذیل ”دھول اڑانے والی تکنیکیں“استعمال کیں۔

1۔ تاریخی مرعوبیت: امام غزالی، ارسطو، ابن سینا، کانٹ، ہرمینیات، علمیات، اثباتیت۔ ان بھاری بھرکم الفاظ کا مقصد عام قاری اور سوال کنندہ  کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ”جاہل“ ہے اور سوال پوچھنے کا حق نہیں رکھتا۔

2۔ دائروی استدلال:  ہم عقل کی بات نہیں کر سکتے کیونکہ عقل ختم ہو چکی ہے اور چونکہ عقل ختم ہو چکی ہے اس لیے ہم عقل کی تعریف نہیں کر سکتے۔ اس چکر میں قاری اصل سوال بھول جاتا ہے۔

3۔ مایوسی کا انجکشن: جوہر صاحب ہر دلیل کا اختتام اس بات پر کرتے ہیں کہ مسلمان شکست کھا چکے ہیں، تاریخ ہمیں روند کر چلی گئی، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ جب آپ نتیجے کے طور پر تہذیبی موت کا اعلان کر دیں تو پھر علمی سوالات  غیر اہم ہو جاتے ہیں۔ یہی ان کا مقصد تھا۔

حاصل یہ کہ محمد دین جوہر صاحب   دونوں سوالات ایڈریس کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

آپ نے ”علم“ کی تعریف نہیں کی۔

آپ  نے ”عقل“ کی قرآنی تشریح نہیں کی۔

آپ  نے اپنے موقف کا دفاع کرنے کے بجائے  نعمان علی خان اور دیگر علما  کی تحقیر کا راستہ اپنایا۔

جوہر صاحب کی یہ تحریر ”علمی گہرائی“ کا نہیں بلکہ ”علمی الجھاؤ“  کا شاہکار ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی آپ سے وقت پوچھے اور آپ جواب میں گھڑی کی تاریخ، سوئس میکانزم کا زوال اور وقت کے فلسفے پر لیکچر دینا شروع کر دیں اور آخر میں کہیں کہ ”وقت تو گزر چکا، اب ٹائم پوچھنے کا کیا فائدہ؟“

Visited 18 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *