لائبرم ویٹو: پولینڈ کا انوکھا سیاسی تجربہ اور مقامی عقل کا مقدمہ

عثمان عمر

سترھویں صدی کے یورپ کا تصور کریں۔ زیادہ تر ملکوں میں بادشاہوں کا راج ہے، ان کی زبان قانون ہے اور وہ خود کو خدا کا سایہ سمجھتے ہیں۔ لیکن مشرقی یورپ میں ایک ایسا ملک بھی تھا جو اپنے وقت سے بہت آگے یا شاید بہت مختلف سوچ رہا تھا۔ یہ ملک ”پولینڈ-لتھوانیا کی دولتِ مشترکہ“ تھا۔

اس ملک میں ایک ایسا سیاسی اصول رائج تھا جسے سن کر آج کی جمہوریتیں بھی دنگ رہ جائیں۔ اسے ”لائبرم ویٹو“ (Liberum Veto) کہا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ پارلیمنٹ کا کوئی ایک رکن بھی اگر کسی قانون پر   کہہ دے ”میں اجازت نہیں دیتا“ تو وہ قانون پاس نہیں ہو سکتا تھا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اکثر اوقات پوری اسمبلی ہی تحلیل ہو جاتی تھی۔

پاگل پن یا فلسفہ؟

مورخین، خاص طور پر مغربی یورپ کے مفکرین مثلاً  فریڈرک اعظم اور  ایمانوئل کانٹ نے اس نظام کا خوب مذاق اڑایا۔ انہوں نے اسے ”پولینڈ کا انتشار“ اور ”غیر منطقی“ رویہ قرار دیا۔ ظاہر ہے اگر ایک آدمی سب کو روک دے تو حکومت کیسے چلے گی؟ یہی وجہ تھی کہ اٹھارھویں  صدی کے آخر میں یہ ریاست کمزور ہو کر ختم ہو گئی۔

لیکن کیا واقعی یہ پولینڈ کے لوگوں کی بے وقوفی تھی؟ یا اس کے پیچھے کوئی گہرا فلسفہ تھا؟  مشیل ڈوبرزنسکی دلیل دیتے ہیں کہ یہ نظام پاگل پن نہیں تھا بلکہ ایک خاص قسم کی ”عقلی منطق“  یعنی مقامی عقل پر مبنی تھا جو مغربی یورپ کی سوچ سے مختلف تھی۔

آزادی بمقابلہ ہوس

اس ویٹو کو سمجھنے کے لیے ہمیں پولینڈ کے اشرافیہ کا موقف جاننا ہو گا۔ ان کے لیے سب سے قیمتی چیز ”آزادی“ تھی۔ لیکن آزادی کیا ہے؟

پولینڈ کے مفکروں جیسے آندرے فرائز اور آندرے وولان نے آزادی اور ”لائسنس“ (ہوس ) میں فرق کیا۔ ہوس وہ حالت ہے جب انسان اپنی خواہشات اور جذبات کا غلام ہو کر جو چاہے کرے۔ یہ بری چیز ہے۔ آزادی تب ملتی ہے جب انسان اپنی ہوس کو عقل کے ذریعے قابو کرے اور قانون کی حکمرانی میں رہے۔ اس سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ آزادی صرف قانون کے ذریعے ممکن ہے کیونکہ قانون آپ کو دوسروں  کی من مانی سے بچاتا ہے۔

اس دور کے پولینڈ کے مفکر بادشاہت کے سخت خلاف نہیں تھے لیکن وہ مطلق العنان بادشاہت  سے ڈرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بادشاہ بھی آخر کار ایک انسان ہے۔ اس کے پاس کوئی خدائی عقل نہیں ہے۔ اگر بادشاہ کو کھلی چھوٹ دے دی جائے تو وہ اپنی انسانی کمزوریوں اور جذبات کا شکار ہو کر عوام کی آزادی چھین لے گا۔ اسی لیے ان کا نعرہ تھا کہ  ”قانون بادشاہ سے اوپر ہے“۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ قانون بنائے گا کون؟ اگر بادشاہ بنائے گا تو وہ اپنی مرضی تھوپے گا۔ لہٰذا قانون وہ ہونا چاہیے جسے لوگ   خود بنائیں۔

پولینڈ کے فلسفیوں نے یہ اصول طے کیا کہ کوئی قانون اس وقت تک قانون نہیں جب تک وہ شخص جو اس قانون کا پابند ہونے والا ہے، خود اس کی اجازت نہ دے۔

اگر مجھ پر کوئی ایسا قانون لاگو کیا جائے جس پر میں راضی نہیں، تو میں آزاد نہیں بلکہ غلام ہوں۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے ”ویٹو“ کے بیج بوئے۔ ان کا ماننا تھا کہ اجتماعی عقل (یعنی پارلیمنٹ کے تمام ممبران کی سوچ) ایک اکیلے بادشاہ کی عقل سے ہمیشہ بہتر ہوتی ہے۔

اگر آزادی کی تعریف یہ ہے کہ ”قانون میری مرضی سے بنے“ تو پھر اکثریت  کا فیصلہ مجھ پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ اگر 100 میں سے 99 لوگ ایک قانون چاہتے ہیں اور میں نہیں چاہتا اور پھر بھی وہ قانون مجھ پر لاگو ہو جائے تو پولینڈ کے فلسفے کے مطابق میں آزاد نہیں رہا۔

یہی وہ منطق تھی جس نے ”اتفاقِ رائے“  کو لازمی قرار دیا۔ ان کے نزدیک قانون تبھی معتبر ہوگا جب پارلیمنٹ کے تمام ارکان اس پر راضی ہوں۔ اسی لیے ہر رکن کو ”ویٹو“ کا حق دیا گیا تاکہ کوئی بھی قانون کسی ایک شہری کی آزادی کو بھی مجروح نہ کر سکے۔

فریڈرو کا استدلال

سترھویں صدی کے پولینڈ کے سب سے بڑے سیاسی نظریہ ساز آندرے  فریڈرو نے ویٹو کے حق میں ایک بہت دلچسپ دلیل دی۔

اس نے کہا کہ زیادہ تر انسان خود غرض ہوتے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ صرف چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو واقعی ریاست کی بھلائی کا سوچتے ہیں۔ چونکہ ”اچھے لوگ“ ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں اور ”خود غرض اکثریت“ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان چند اچھے لوگوں کے پاس ایک ایسا ہتھیار (ویٹو) ہونا چاہیے جس سے وہ اکثریت کے غلط فیصلوں کو روک سکیں۔

گویا ویٹو کا مقصد انتشار پھیلانا نہیں تھا بلکہ اکثریت کی آمریت کو روکنا اور فریقین کو مجبور کرنا تھا کہ وہ بحث مباحثے کے ذریعے کسی ایسے نتیجے پر پہنچیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

عقل کی دو شکلیں

اسی دور میں  فرانس اور جرمنی وغیرہ میں روسو   اور کانٹ  جیسے مفکرین بھی آزادی اور خود مختاری کی بات کر رہے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ”عقل“ آفاقی ہے۔ اگر اکثریت ایک فیصلہ کرتی ہے تو وہ ”عمومی مرضی“  کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر آپ اکثریت سے اختلاف کر رہے ہیں تو شاید آپ اپنی ہی حقیقی آزادی کو نہیں سمجھ پا رہے۔ اس لیے مغرب نے ”اکثریت کی رائے“  کو قبول کر لیا۔

اس کے برعکس پولینڈ والوں کی سوچ ”تجرباتی“  تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ کوئی ایسی ”آفاقی عقل“ نہیں ہے جو ہوا میں موجود ہو۔ عقل وہی ہے جو مختلف افراد کے تجربات کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ کسی کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ”تمہارے بھلے کے لیے زبردستی یہ قانون لگا رہے ہیں“۔ جب تک وہ خود ”ہاں“ نہ کہے، وہ قانون درست نہیں۔

آخرکار لائبرم ویٹو کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ عملی طور پر اس نے ریاست کو مفلوج کر دیا، پڑوسی ملکوں نے رشوت دے کر ارکان سے ویٹو کروایا اور پولینڈ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

لیکن اس سے یہ  سبق ملتا ہے کہ پولینڈ کا یہ نظام محض بے وقوفی نہیں تھا۔ یہ آزادی کے ایک انتہائی خالص اور آئیڈیل تصور پر مبنی تھا،ایک ایسا تصور جہاں ریاست اپنے کسی ایک شہری کو بھی اس کی مرضی کے خلاف چلانے کی روادار نہیں تھی۔ یہ مغربی ماڈل کے مقابلے میں ایک متبادل ”مقامی عقل“ تھی جو افسوس کہ عملی دنیا کی سختیوں کو برداشت نہ کر سکی۔

Visited 5 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *