کیا مغربی ڈیزائن پائیدار ہے؟

محمد عاطف ریاض

یورپ مرکزیت (Eurocentricity) کا سوال ہمارے درمیان ایک عرصے سے موجود ہے مگر اس کی پیچیدگی اور چیلنجز آج بھی برقرار ہیں۔ اگرچہ تاریخ اور ثقافت کے شعبوں میں اس موضوع پر کافی بحث کی گئی ہے لیکن ڈیزائن اور پائیداری  کے تناظر میں اس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ یورپ مرکزیت کا تصور دراصل نوآبادیاتی دور کے بعد ان مباحثوں سے ابھرا جو مغربی تسلط پر تنقید کرتے تھے۔ اس موضوع نے مغربی اور غیر مغربی دونوں دانشوروں کو متحرک کیا ہے جنہوں نے ان اصولوں اور معیارات پر سوالات اٹھائے جن میں مغربی بالادستی کو عیاں کیا گیا تھا۔

تاہم، جب یہ سوال مختلف شعبوں میں سفر کرتا ہے تو اپنے ساتھ کچھ ایسے مسائل بھی لاتا ہے جن کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے اس سوال پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہ ”اپنے“ اور ”پرائے“(Self and Other) کے درمیان ایک خلیج پیدا کرتا ہے جہاں یورپی اور غیر یورپی کو مغربی اور غیر مغربی کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ تقسیم یہ فرض کر لیتی ہے کہ ایک ”دوسری“ غیر یورپی دنیا موجود ہے جہاں حقیقت کو سوچنے، بنانے اور برتنے کے امکانات مختلف ہیں۔ یہ سوچ یہ امید دلاتی ہے کہ ان ”دوسرے“ لوگوں کی انفرادیت کو ہمارے موجودہ تصوراتی آلات کے ذریعے سمجھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی اور مستقبل کو محفوظ بنانے میں اس کی کوتاہیوں کے احساس کے ساتھ اس ”دوسرے“  کی انفرادیت کی تلاش میں شدت آ گئی ہے۔ اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جینے، سوچنے اور تعمیر کرنے کے متبادل طریقے تلاش کیے جائیں جس نے اس بحث کو ایک نئی اہمیت دے دی ہے۔ کیا اس مقصد ڈیزائن کی سوچ میں وسعت اور تنوع لانا ہے؟ یا پھر یورپ مرکزیت سے آگے بڑھ کر نئے امکانات کی تلاش کی جا رہی ہے؟ شاید یہ سب کچھ بیک وقت مطلوب ہے۔ لیکن اس سفر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مغرب کے آفاقی تصورات واقعی ہر جگہ ناقابلِ قبول ہیں؟ اور کیا ”دوسرے“ لوگ بھی اپنی انفرادیت کھونے کے خوف میں مبتلا ہیں یا وہ بھی مغرب جیسا بننے کی خواہش رکھتے ہیں؟

ڈیزائن کی لسانی سیاست

ہمارے آرٹس اینڈ ڈیزائن شعبوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ڈیزائن ایک آفاقی عمل ہے جس کا مقصد افادیت، مضبوطی اور خوبصورتی ہے۔ مغربی  ماڈل کے تحت پڑھائے جانے والے نصاب میں مغربی رسائل اور رجحانات ہمارا معیار ہیں۔ پڑھنے والوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ”غیر مغربی“ کام کر رہے ہیں؛ ان کے لیے ڈیزائن کا کلچر آفاقی ہوتا ہے۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ نظریاتی طور پر مغربیت کی مخالفت کی جاتی ہے، مسلم  دنیا میں ڈیزائن کی تعلیم اور پریکٹس پوری طرح مغربی سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہے۔ عربی زبان میں ڈیزائن کے لیے جو لفظ ”تصمیم“ استعمال ہوتا ہے وہ بھی انیسویں صدی میں متعارف کرایا گیا۔ کلاسیکی عربی لٹریچر میں اس مفہوم کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ”تصمیم“ کا مادہ  ”صمم“ہے جس کے لغوی معنی ”بہراپن“ کے ہیں۔ اس کے دیگر معانی میں ”مضبوطی“ اور ”عزم“ شامل ہیں۔ یعنی لغوی اعتبار سے عربی میں ڈیزائن کا مطلب کسی معاملے پر ”عزم کر لینا“ یا فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ مسائل کا حل تلاش کرنا جو کہ موجودہ مغربی پیراڈائم ہے۔

جدید عرب لغت نگاروں اور ڈیزائنرز نے اس بات پر کبھی تنقیدی نگاہ نہیں ڈالی کہ انہوں نے مغربی تصورات کو اپنانے کے لیے جو اصطلاحات منتخب کیں، ان کا تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر کیا ہے۔ انہوں نے مغرب کے ماڈلز کو شعوری طور پر اپنایا اور اب یورپ مرکزیت کے سوال میں الجھے ہوئے ہیں۔ اگر اس وقت یہ سوال اہم نہیں تھا جب ان ماڈلز کو اپنایا گیا تو اب اس پر کیوں پریشان ہیں؟ شاید اس کا جواب ”فرق“  کی ان پیچیدہ تہوں میں چھپا ہے جو آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہی ہیں۔

مستقبل کا بحران اور پائیداری کا سوال

یورپ مرکزیت کے سوال کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اب مغربی ماہرین خود یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے ماڈلز ناقص ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ”ہمارے طرزِ زندگی اور ڈیزائن نے انسانیت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اس لیے ہمیں متبادل تلاش کرنے ہوں گے اور یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے“۔ اگرچہ یہ بات بظاہر نیک نیتی پر مبنی لگتی ہے لیکن اس میں بھی وہی پرانا مسئلہ چھپا ہے۔ یہ رویہ مغرب اور غیر مغرب کی تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے جہاں جدیدیت کے پروجیکٹ کا مالک تو مغرب ہی رہتا ہے لیکن اس کے نقصانات (جیسے ماحولیاتی مسائل) سے نمٹنے کے لیے وہ ”دوسروں“ کو شریک کرنا چاہتا ہے۔

عرب دنیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک نے عجیب طور پر اس پوزیشن کو قبول کر لیا ہے۔ وہ اپنے حال سے بیزار ہو کر اپنے ماضی کی ”سنہری روایات“ میں کھدائی کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور متبادل حل تلاش کر سکیں۔ ان کے لیے یورپ مرکزیت کا جواب ان کا شاندار ماضی ہے۔ لیکن ایک منقسم دنیا میں ”فرق“ کی یہ تلاش ہمیشہ تعمیری نہیں ہوتی۔ اکثر اس کا نتیجہ انتہا پسندی اور ثقافتی تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس تنازعات سے بھرپور ماحول میں، پائیداری  کا سوال شاید وقتی طور پر اپنی اہمیت کھو دے، لیکن یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو انسانیت کو جوڑ سکتا ہے۔ جدیدیت کے برعکس، پائیداری کوئی ”پروجیکٹ“ نہیں بلکہ ایک ”بحران“ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ بحران مغرب اور مشرق کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اس سیارے پر زندگی کو بچانا ہم سب کی بقا کا مسئلہ ہے۔ یہ مشترکہ احساس ہمیں یکجا کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کے خواب اور مفادات ایک ہو جائیں گے، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا ادراک ہے کہ ہمارا موجودہ طرزِ عمل ناقابلِ دوام   ہے اور اگر ہم نے مل کر اسے نہ بدلا تو یہ ہمارا آخری انجام ہو سکتا ہے۔

Reference:

Akkach, S. (2003). Design and the Question of Eurocentricity. Design Philosophy Papers, 1(6), 321-326.

Visited 3 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *