کیا عقل مقامی ہوتی ہے؟ عرب فکری بیداری کا حال

عثمان عمر

کیا انسانی عقل ہوا میں معلق کوئی ایسی چیز ہے جو ہر زمانے اور ہر خطے میں ایک جیسا کام کرتی ہے؟ یا عقل بھی کسی پودے کی طرح ہے جسے اپنی زمین، اپنی آب و ہوا اور اپنی مٹی کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں عرب دنیا کی فکری بیداری، جسے تاریخ میں ”النہضہ“  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کا مرکز بنا رہا۔

یہ کہانی صرف کتابوں اور فلسفوں کی نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب کی ہے جو اچانک ایک گہری نیند سے جاگی اور خود کو ایک بدلتی ہوئی دنیا کے چوراہے پر کھڑا پایا۔

زوال کا نوحہ اور بیداری کی دستک

انیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو عرب دنیا پر ایک عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی۔ مغرب اپنی سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو مسخر کر رہا تھا جبکہ مشرق جو کبھی علم کا گہوارہ تھا، خاموش اور سہما ہوا تھا۔

لبنان کے دانشور  بطرس البستانی نے 1859ء میں ایک ایسی چیخ بلند کی جس نے عرب دنیا کو جھنجھوڑ دیا۔ انہوں نے سوال کیا:

کہاں ہیں ہمارے فلسفی اور سائنس دان؟ دمشق کی عظمت اور بغداد کا جاہ و جلال کہاں کھو گیا؟ ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟

یہ محض جذباتی تقریر نہیں تھی۔ یہ اس احساس کا اعتراف تھا کہ عرب ”عقل“ بانجھ نہیں ہوئی بلکہ جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ البستانی اور ان کے رفقاء نے محسوس کیا کہ جہالت نے مذہب اور روایت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور لوگ نئے علم سے خائف ہیں۔ یہیں سے ”النہضہ“  کا آغاز ہوا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ مغرب سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کے علم کو سمجھا جائے کیونکہ مغرب کی ترقی بھی اسی عقل کی مرہونِ منت ہے جو کبھی عربوں کے پاس تھی۔

یونان سے رشتہ

جب ان دانشوروں نے اپنی شناخت ٹٹولی تو انہیں ایک حیران کن حقیقت یاد آئی۔ یورپ جس یونانی فلسفے پر نازاں ہے، اس کے اصل وارث تو خود عرب ہیں۔ مصر کے نامور ادیب طٰہٰ حسین نے ایک جرات مندانہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشرق (چین و جاپان) کا حصہ نہیں بلکہ ہم بحیرہ روم کی تہذیب ہیں، ہمارا رشتہ یونان اور روم سے ہے۔ یہ ایک بہت بڑی فکری کروٹ تھی۔ عرب دانشوروں نے ارسطو اور افلاطون کو ”غیر“ سمجھنے کے بجائے اپنا ”فکری بزرگ“ تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدیدیت کوئی پرایا مال نہیں بلکہ ہماری ہی گمشدہ میراث ہے جو اب یورپ کے راستے واپس آ رہی ہے۔

بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے یہ بیداری ایک پیچیدہ فکری جنگ میں بدل گئی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس ”نئی عقل“ کو اپنی ”پرانی روایت“ کے ساتھ کیسے جوڑا جائے؟ اس میدان میں تین بڑے مفکرین نے تین مختلف راستے دکھائے:

مراکش کے فلسفی محمد عابد الجابری نے ایک سخت گیر موقف اپنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ عرب ذہن کے زوال کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ”برہان“ (خالص منطقی استدلال) کو چھوڑ کر ”عرفان“ (تصوف اور وجدان) کا راستہ اپنا لیا۔ الجابری کے نزدیک تصوف اور غیر عقلی رویوں نے مسلمانوں کو غیر فعال بنا دیا۔ انہوں نے نعرہ لگایا کہ ہمیں ابنِ رشد کی عقلیت پسندی کی طرف واپس جانا ہوگا تاکہ ہم اپنی فکر کو توہمات سے پاک کر سکیں اور جدید سائنس کا مقابلہ کر سکیں۔

دوسری طرف ایران کے عبدالکریم سروش نے مذہب اور علم کے تعلق کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ”مذہب“ تو اٹل ہے لیکن ”مذہبی علم“ (یعنی ہماری سمجھ) انسانی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔ جیسے جیسے انسان کا تجربہ بڑھتا ہے، مذہب کو سمجھنے کا ڈھنگ بھی بدلنا چاہیے۔ سروش نے سکھایا کہ سچائی کسی کی جاگیر نہیں، یہ بکھری ہوئی ہے اور ہمیں مکالمے کی ضرورت ہے۔ وہ ایک ایسی ”مذہبی جمہوریت“ کے داعی بنے جہاں عقل اور ایمان ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کے بجائے ساتھ چل سکیں۔

لیکن سب سے چونکا دینے والا تجزیہ فاطمہ مرنیسی کا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم معاشرے جدیدیت سے ڈرتے کیوں ہیں؟ اور اس ڈر کا نشانہ عورت کیوں بنتی ہے؟

مرنیسی نے کہا کہ جب نوآبادیاتی دور میں مسلمان مردوں کو اپنی طاقت چھینتی ہوئی محسوس ہوئی تو انہیں ”شناختی بحران“ نے آ گھیرا۔ اپنی بچی کھچی عزت بچانے کے لیے انہوں نے بنیاد پرستی کا سہارا لیا اور عورت کو گھر میں قید کر دیا۔ ان کے مطابق، اسلام میں عورت کمزور نہیں بلکہ ”فتنہ“ (ایک طاقتور قوت) ہے جسے قابو کرنا مرد اپنی حکمرانی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ مرنیسی  کا پیغام تھا کہ حقیقی جدیدیت تب تک نہیں آ سکتی جب تک ہم اس ”خوف“ سے آزاد نہیں ہوتے اور اپنی شناخت کو ایک قید خانہ نہیں بنا لیتے۔

عقل اپنے گھر میں؟

النہضہ کی یہ پوری تحریک ہمیں بتاتی ہے کہ ”عقل“ کوئی درآمد شدہ مشین نہیں جسے کہیں بھی فٹ کر دیا جائے۔ عقل ”مقامی“ ہوتی ہے۔ یہ اپنی تاریخ، اپنی زبان اور اپنے کلچر کی زمین میں جڑیں پکڑتی ہے۔

الجابری، سروش اور مرنیسی نے اپنے اپنے انداز میں یہی کوشش کی کہ مغرب کی اندھی تقلید کرنے یا ماضی میں چھپنے کے بجائے، اپنی عقل کو اپنے حالات کے مطابق استعمال کیا جائے۔ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندہ قومیں وہی ہیں جو اپنی روایات کو بوجھ نہیں سمجھتیں بلکہ انہیں اپنے حال کی روشنی میں پرکھتی ہیں اور مستقبل کا راستہ خود تراشتی ہیں۔

Visited 2 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *