کیا کانٹ نازی تھا؟ فلسفے کی تاریخ کا ایک بھیانک فراڈ

عثمان عمر

جرمن فلسفی کانٹ  کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟ عقل محض، اخلاقیات، انسانی حقوق اور دائمی امن کا خواب۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ اسی کانٹ کی کتابیں نازی جرمنی کے ٹینکوں اور گیس چیمبرز کے نظریاتی دفاع کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہوا؟ کیا کانٹ جیسا روشن خیال فلسفی ہٹلر کے نظریات کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا؟ یا نازیوں نے فلسفے کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ کیا؟

نازی اپنے باپ دادا کی تلاش میں

جب نازی اقتدار میں آئے تو انہیں اپنی حکومت کو جائز ثابت کرنے کے لیے صرف بندوقوں کی نہیں بلکہ کتابوں کی بھی ضرورت تھی۔ وہ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ان کا نظریہ نیا نہیں بلکہ جرمن روح کی قدیم پکار ہے۔

انہوں نے ماضی کے اوراق پلٹے۔ انہیں افلاطون پسند آیا۔ کیونکہ اس نے اپنی مثالی ریاست میں کمزور بچوں کو مار دینے اور ریاست کی خاطر فرد کی قربانی کی بات کی تھی۔ انہیں مارٹن لوتھر پسند آیا جس نے رومن چرچ کے خلاف جرمن قوم پرستی کو ابھارا تھا۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج کانٹ تھا۔ کانٹ جرمن فکر کا دیوتا تھا، اسے نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔ چنانچہ نازیوں نے فیصلہ کیا کہ کانٹ کو نازی ثابت کیا جائے۔

کانٹ کا نازی چہرہ؟

نازی مفکروں نے کانٹ کے فلسفے میں سے اپنی مطلب کی چیزیں چننا شروع کیں۔

 کانٹ کا فلسفہ کہتا تھا کہ اخلاقیات کا مطلب خوشی حاصل کرنا نہیں بلکہ فرض ادا کرنا ہے، چاہے اس میں کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ نازیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ انہوں نے کہا: دیکھو! کانٹ بھی یہی کہتا ہے کہ اپنی ذاتی خواہشات کو مار دو اور ریاست کے لیے فرض ادا کرو۔ یہاں تک کہ ہولوکاسٹ کے مرکزی کردار ایڈولف ایخمان نے بھی عدالت میں دعویٰ کیا کہ وہ کانٹ کے اصولِ فرض پر عمل کر رہا تھا۔

کانٹ اگرچہ روشن خیال تھا لیکن اس نے یہودیت کے بارے میں کچھ سخت ریمارکس دیے تھے اور اسے محض ایک سیاسی قوانین کا مجموعہ کہا تھا۔ نازیوں نے کانٹ کے مذہبی خیالات کو اپنی نسل پرستی کے لیے ڈھال بنا لیا۔

لیکن کہانی میں اصل موڑ تب آتا ہے جب ارنسٹ کریک سٹیج پر آتا ہے۔ کریک کوئی عام نازی نہیں تھا؛ وہ ایک جارحانہ مزاج کا پروفیسر تھا جو یونیورسٹی کے روایتی نظام سے نفرت کرتا تھا۔ تمام تر نازی کوششوں کے باوجود کریک وہ واحد شخص تھا جس نے چیخ کر کہا:

کانٹ ہمارا ہیرو نہیں ہے! کانٹ روشن خیالی  کا ایجنٹ ہے اور ہمیں اس سے جان چھڑانی ہوگی۔

کریک کا استدلال بہت دلچسپ اور خطرناک تھا:

کریک نے کانٹ پر الزام لگایا کہ اس نے جرمنی میں نیوٹن کی فزکس کو رائج کیا۔ کریک کے نزدیک نیوٹن کی ریاضیاتی سائنس ایک مغربی اور یہودی سازش ہے تاکہ فطرت کی روح کو مار دیا جائے۔ کریک چاہتا تھا کہ جرمن سائنس معیاری  ہو، نہ کہ مقداری ۔

کریک کا ماننا تھا کہ کانٹ نے انسان کو ایک کائناتی شہری بنانے کی کوشش کی جبکہ نازی نظریہ انسان کو صرف اس کی قوم اور خون کے حوالے سے پہچانتا ہے۔

عقل کی مقامیت

یہاں کریک نے عقل کی مقامیت کا  انتہا پسندانہ تصور پیش کیا۔

اس نے کہا کوئی آفاقی عقل  وجود نہیں رکھتی۔ یہ سب مغرب کا جھوٹ ہے۔

اس کے نزدیک عقل ہمیشہ مقامی ہوتی ہے۔ ایک جرمن عقل ہے، ایک انگریزی عقل ہے اور ایک یہودی عقل ہے۔ سچائی وہ نہیں جو منطق سے ثابت ہو بلکہ سچائی وہ ہے جو قوم کے خون اور کردار سے پھوٹے۔

اگر عقل مقامی ہے تو پھر جرمنوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی الگ سائنس بنائیں، اپنی الگ اخلاقیات بنائیں اور کسی عالمگیر انسانی حقوق کی پرواہ نہ کریں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں عقل کی مقامیت کا فلسفہ بربریت کا جواز بن گیا۔

Visited 10 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *