ترتیبِ علوم اور مبادیِ اولیٰ: جدید فکری انتشار کا مابعد الطبیعیاتی رد

کریم لحام / صابر علی

اس مقالے کا مقصد علم کی ترتیب اور اس کے اصولوں کے مابین تعلق اور اس ترتیب کے جواز کا جائزہ لینا ہے۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ اس علمی ڈھانچے کے ایک پہلو کو جیسا کہ اسے بو علی سینا اور مابعد از سینا فکر میں بیان کیا گیا ہے یعنی اصولِ عدمِ تناقض  بطور اصولِ اولیں، لیا جائے اور اس کی اولیت اور فوقیت کا امتحان لیا جائے۔ اس مقالے کا سیاق و سباق علوم کے درجات کے تصور کے عصری زوال کو رد کرنا ہے۔ اس زوال نے بعض لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ علم کی منتقلی کے روایتی طریقے فرسودہ ہیں اور ان کی بنیاد محض ایسے رواجوں پر ہے جو ایک مخصوص طبقے کے سماجی اور فکری تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس، ہمارا استدلال یہ ہے کہ علم کی ترتیب درحقیقت وجود کی ترتیب کا عکس ہے اور یہ کسی بیرونی مسلط کردہ نظام کی وجہ سے نہیں بلکہ عقلی اور وجودی ضرورت کے تحت ہے۔ تاہم، یہ ضرورت اپنے اندر ایک ایسا عملِ انتقال  بھی رکھتی ہے جو علوم کے مطالعے کے لیے لازمی شرائط کا تعین کرتا ہے۔

گزشتہ صدی  کے دوران روایت پسند مصنفین کا یہ ادبی دستور رہا ہے کہ وہ اپنے اصلاحی مقالوں یا مضامین کا آغاز اس اعلان سے کرتے ہیں کہ یہ کام ایک ایسے دور کی علمی اور اخلاقی غلطیوں کی اصلاح کی امید میں پھیلایا جا رہا ہے جو فکری اور اخلاقی انتشار میں گھرا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ایک بار جب غلطیوں کو سمجھ لیا جائے یا اجاگر کر دیا جائے تو خوش فہمی یہ تھی کہ ایک باضمیر قاری فکری جائزہ لے گا یا کم از کم سابقہ مواقف پر سوال اٹھائے گا۔ تاہم، مسئلہ صرف قاری کے غیر فعال رویے یا اس کی سست روی میں نہیں ہو سکتا۔ اکثر اوقات، مسلم دنیا پر حملہ آور جدید افکار کے حوالے سے ایسے مطالعوں میں تاریخی شعور کی ایک قابلِ ذکر کمی بھی رہی ہے۔ تاریخی باریکیوں کے عنصر کے بغیر حال پر فکری نقطہ نظر کو مسخ کرنے کا ایک ناقابلِ انکار رجحان پیدا ہوتا ہے جس میں پرانے حقائق اور پرانے نظریات کو نیا سمجھ لیا جاتا ہے جس کا حتمی نتیجہ اور شاید ناگزیر طور پر نئی تحریکوں اور مناہج کی اہمیت کا اندازہ لگانے میں ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ کسی بھی خیال کی تاریخ، اس کی فلسفیانہ بنیاد اور اس کی سابقہ شکلیں اس ادراکی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں جو ہمیں کسی علم کے مسائل کو سمجھنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ سمجھ بوجھ ادھوری رہتی ہے اگر یہ محض ان مسائل کے وجودی مطالعے پر منحصر ہو۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں اسلامی دنیا کے روایتی ادراکی نظاموں میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہوا ہے، یہاں تک کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایتی فکر کے سامنے کھڑی کی جانے والی شرپسند قوت محض علمی غلطی نہیں بلکہ علمی فتنہ  کے مترادف ہے۔ فتنے سے مراد روایتی مذہبی اتھارٹی اور علم کے محافظین اور پاسبانوں کے خلاف اور ان کے اندر فکری بغاوت اور انتشار کو ہوا دینے کے لیے ایک غیر معمولی اقلیت کی طرف سے فعال اشتعال انگیزی ہے۔ غلطی اور فتنے کے درمیان فرق اہم ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عصری مخالفین کی طرف سے روایتی فکر یا روایتی بنیاد پرستی کا رد بنیادی طور پر ایک فکری انحراف کے بجائے ایک نفسیاتی فریب کاری ہے۔ اس طرح کا رد زیادہ تر اس لیے نہیں کیا جاتا کہ متعلقہ فکر غلط ہے بلکہ اس لیے کہ اسے غلط جانا گیا ہے۔ علمیاتی طور پر بات کی جائے تو انسانی علم تک رسائی بھی ایک نفسیاتی عمل ہے اور اسی لیے اسے علم المعرفت کے تحت نباتاتی، حیوانی اور عقلی افعال اور قویٰ کے مطالعے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

مابعدالطبیعیات یا مبادیِ اولیٰ کے علم کو رد کرنا جیسا کہ دورِ حاضر کی جدید فکر ایک مشکوک تشکیک کے نام پر کرتی ہے، طویل عرصے سے کسی برہانی اور معروضی سچائی کی ناکام تلاش کے بجائے ایک نفسیاتی رحجان کا نتیجہ رہا ہے۔ اتفاق سے یہ خود بھی ایک مابعدالطبیعیاتی عمل ہے اور اسے کبھی بھی مابعدالطبیعیاتی طور پر غیر جانب دار نہیں سمجھا جا سکتا۔ ذہنوں کی تیاری میں نیک نیتی  بہت دور تک جا سکتی ہے، یہاں تک کہ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک جاہل آدمی کا نیک ہونا ممکن ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جہالت کبھی بھی فضیلت کے درجے کو پہنچ سکے۔ اسلامی دنیا کے موجودہ تناظر میں نواثباتی نیچرل سائنسز اور ان کے ملحقہ فلسفیانہ نظریات کو غیر تنقیدی طور پر اپنانا ایک ایسے عالمگیر رجحان کی علامت ہے جو عقیدے، مسلک یا الہیاتی وابستگی سے قطع نظر پھیل چکا ہے۔

نفسیاتی رحجان کی اہمیت کو دہرانے سے جدید نفسیات کے غیر عقلی اصولوں کو مزید اعتبار دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ منطق کے قوانین نفسیات فراہم کرتی ہے، بلکہ یہ کہ وہ معروضی قوانین ہیں جو خود کو ہم پر مسلط کرتے ہیں اور اس لیے ہماری نفسیات پر بھی مسلط ہیں۔ چنانچہ موضوعی اعتبار سے ان کی قبولیت کا انحصار کافی حد تک ذاتی رحجان پر ہے لیکن معروضی اعتبار سے ان کی صداقت کبھی اس پر منحصر نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ چیز ہے جو ہمارے نقطہ نظر کو منطق میں نفسیاتی توجیہات  کے جدید حامیوں سے الگ کرتی ہے۔ اگر ہم ایک قضیے (Proposition) کی مثال لیں تو اس کا نفسیاتی تجزیہ اس کے منطقی تجزیے سے مختلف ہے کیونکہ منطق اسے صرف اسی صورت میں پرکھ سکتی ہے جب وہ ضرورت (Necessity) اور آفاقی صداقت کی خصوصیات کا حامل ہو۔

Visited 10 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *