کائے ہینز کی بصیرت افروز تصنیف ”اوریجن آن ڈیمونک ایگزیکیوشنز“ کے ابواب سے گزرتے ہوئے جس موضوع نے سب سے زیادہ میری توجہ کھینچی وہ اوریجن کا فلسفہ سزا ہے۔ عام طور پر مذہب اور قانون کی دنیا میں سزا کا تصور ”انتقام“ یا ”بدلے“ کے گرد گھومتا ہے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ اور جرم کے بدلے قید۔ لیکن ہینز ہمیں بتاتے ہیں کہ تیسری صدی عیسوی کا یہ عظیم مفکر اوریجن سزا کو ایک بالکل مختلف اور انقلابی زاویے سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے نزدیک کائنات میں خدا کا کردار کسی ”جج“ یا ”جلاد“ کا نہیں بلکہ ایک ”ماہر طبیب“ کا ہے۔ اوریجن کے اس بیانیے میں جسے ہینز نے بڑی مہارت سے ترتیب دیا ہے، انسان کی تکالیف، آفات اور یہاں تک کہ وہ سزائیں جو شیاطین کے ذریعے مسلط کی جاتی ہیں، دراصل عذاب نہیں بلکہ ”تلخ ادویات“ اور ”جراحت“ ہیں جن کا مقصد روح کا ناسور کاٹ کر پھینکنا ہے۔
اوریجن کا یہ نظریہ اس بنیادی سوال کا جواب ہے کہ ”اگر خدا اچھا ہے تو وہ درد کیوں دیتا ہے؟“ اوریجن کا جواب یہ ہے کہ درد بذاتِ خود شر نہیں ہے۔ جب ایک ڈاکٹر کینسر کے مریض کا پیٹ چاک کرتا ہے یا اسے کیموتھراپی جیسی زہریلی دوا دیتا ہے جس سے اس کے بال جھڑ جاتے ہیں اور وہ الٹیاں کرتا ہے تو کیا ہم ڈاکٹر کو ظالم کہتے ہیں؟ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ظاہری ظلم کے پیچھے زندگی بچانے کا ایک گہرا منصوبہ چھپا ہے۔ اوریجن کہتا ہے کہ گناہ روح کی بیماری ہے اور انسان اکثر گناہ کی لذت میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کا احساس نہیں ہوتا۔ ایسے میں خدا جو کہ طبیبِ اعلیٰ ہے، اسے ہوش میں لانے کے لیے مصائب کی کڑوی گولی دیتا ہے۔ کتاب میں اوریجن کی اس تفسیر کا ذکر خاصا دلکش ہے جہاں وہ بائبل کے ان الفاظ ”میں مارتا ہوں اور میں ہی جلاتا ہوں“ کی تشریح کرتا ہے۔ اوریجن کہتا ہے کہ خدا اس لیے نہیں مارتا کہ اسے موت پسند ہے بلکہ وہ اس لیے مارتا ہے کہ وہ نئی زندگی دے سکے۔ وہ انسان کے اندر موجود ”گناہگار انا“ کو ہلاک کرتا ہے تاکہ ”روحانی انسان“ زندہ ہو سکے۔
یہاں اوریجن کے ”آسمانی جلادوں“ یعنی شیاطین کا کردار پھر سے اہم ہو جاتا ہے۔ اوریجن کے ماڈل میں یہ بدروحیں وہ اوزار ہیں جن سے خدا یہ سرجری پرفارم کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اوزار (شیاطین) خود اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ خدا کے کسی خیر کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ وہ تو اپنی درندگی میں انسان کو تکلیف دینا چاہتے ہیں، اسے اذیت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں لیکن خدا ان کی اس ”بد نیتی“ کو ”نتیجہ خیر“ میں بدل دیتا ہے۔ جب بابل کے ظالم بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے تو اوریجن کے نزدیک یہ خدا کی طرف سے اپنی قوم کے لیے ایک ”تربیتی کورس“ تھا تاکہ وہ بت پرستی کی غلاظت سے پاک ہو سکیں۔
اسلامی فکر کے تناظر میں دیکھیں تو اوریجن کا یہ فلسفہ قرآن و سنت کی ان تعلیمات سے بہت قریب نظر آتا ہے جہاں مصائب کو ”کفارہ“ اور ”تزکیہ“ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث نبویؐ ہے کہ مومن کو کانٹا بھی چبھے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ جھاڑ دیتا ہے۔ صوفیائے اسلام نے بھی درد کو خدا کی طرف سے ایک ”دعوت نامہ“ سمجھا ہے۔ رومی کہتے ہیں کہ ”درد وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے۔“ اوریجن بھی یہی کہہ رہا ہے کہ اگر انسان کو اس کی حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنی غفلت میں ہلاک ہو جائے گا؛ لہٰذا خدا اسے تکلیف کے جھٹکے دیتا ہے تاکہ وہ بیدار ہو۔ تاہم اوریجن اس اصلاحی فلسفے کو کھینچ کر آخرت تک لے جاتا ہے جو کہ ایک انتہائی متنازعہ مقام ہے۔ وہ جہنم کو بھی ”ابدی عذاب“ کے بجائے ایک ”طویل المدتی ہسپتال“ سمجھتا ہے جہاں سخت ترین گناہگاروں کو آگ کے ذریعے پاک کیا جائے گا اور بالآخر وہ بھی نجات پا جائیں گے۔ یہاں آ کر روایتی اسلامی عقیدہ اور عیسائی آرتھوڈوکسی دونوں اوریجن سے الگ ہو جاتے ہیں کیونکہ اسلام میں جہاں مومنوں کے لیے جہنم ایک تطہیری عمل ہو سکتی ہے، وہیں کفر اور شرک کے لیے یہ ایک ابدی ٹھکانہ بھی ہے۔
کائے ہینز نے اس کتاب میں یہ دکھایا ہے کہ اوریجن نے سزا کے تصور کو ”قانون“ سے نکال کر ”طب“ اور ”تعلیم“ کے دائرے میں داخل کر دیا۔ اس نے خدا کے قہر کو ایک جذباتی ردعمل کے بجائے ایک ”ضروری علاج“ ثابت کرنے کی کوشش کی۔
یہ بیانیہ ہمیں اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات کو دیکھنے کا ایک نیا عدسہ فراہم کرتا ہے۔ جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں، تو ہمارا پہلا سوال ہوتا ہے ”میرے ساتھ ہی کیوں؟“ اوریجن کا فلسفہ کہتا ہے کہ یہ سوال غلط ہے۔ درست سوال یہ ہے کہ ”اس درد کے ذریعے میرا طبیب (خدا) میرے اندر کی کس بیماری کا علاج کر رہا ہے؟“ اوریجن کی یہ سوچ، چاہے وہ اپنے تمام نتائج میں درست نہ بھی ہو، کم از کم انسان کو مایوسی کے گڑھے سے نکال کر امید کی طرف لاتی ہے کہ کائنات کا نظام کسی اندھے انتقام پر نہیں بلکہ ایک گہری شفقت اور اصلاح پر مبنی ہے۔ اور اس اصلاح کے عمل میں اگر شیطان جیسے جلادوں کو بھی استعمال کرنا پڑے، تو یہ اس ”طبیبِ اعلیٰ“ کی حکمت ہے جو زہر سے تریاق بنانا جانتا ہے۔
