مائیکرو ہسٹری کے آئینے میں عقل کی تلاش

عثمان عمر

تاریخ کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔

 ایک طریقہ وہ ہے جس میں ہم کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر نیچے وادی کا نظارہ کرتے ہیں۔ ہمیں بڑی بڑی سلطنتیں، جنگیں، معاشی انقلابات اور بادشاہوں کے کارنامے نظر آتے ہیں لیکن نیچے چلنے والے انسان چیونٹیوں کی طرح بے نام اور بے چہرہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسے میکرو ہسٹری یا کلاں تاریخ کہا جاتا ہے۔

لیکن اگر ہم پہاڑ سے نیچے اتر کر اپنے ہاتھ میں ایک خوردبین  پکڑ لیں اور کسی ایک گاؤں، کسی ایک واقعے یا کسی ایک عام انسان کی زندگی کا مشاہدہ کریں تو کیا ہوگا؟ کیا ہمیں وہی تاریخ نظر آئے گی؟ یا شاید ہمیں ایک ایسی عقل اور منطق کا سراغ ملے گا جو شاہی ایوانوں کی بڑی عقل سے بالکل مختلف ہے؟

ملبرگر ہمیں اسی دوسری دنیا میں لے جاتا ہے جسے مائیکرو ہسٹری کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی دو اطالوی مورخین کارلو گنزبرگ اور جیوانی لیوی کی ہے جنہوں نے سولھویں اور سترھویں صدی کے معمولی کسانوں کی زندگیوں میں چھپی عقل کو دریافت کیا۔

سراغ رساں کا طریقہ

کارلو گنزبرگ کے نزدیک تاریخ لکھنا کسی جاسوسی ناول سے کم نہیں۔ وہ اسے سراغ کا طریقہ کہتے ہیں۔ جس طرح شرلاک ہومز معمولی راکھ یا جوتے کے نشان سے پورا واقعہ تخلیق کر لیتا ہے اسی طرح مائیکرو ہسٹری کا مورخ پرانی دستاویزات میں چھپے چھوٹے چھوٹے اشاروں کو پڑھتا ہے۔

گنزبرگ کی مشہور زمانہ کتاب ”دی چیز اینڈ دی ورمز“ (The Cheese and the Worms) اسی طریقہ کار کا شاہکار ہے۔ یہ کہانی سولھویں صدی کے ایک اطالوی چکّی والے کی ہے جس کا نام مینوچیو  تھا۔

مینوچیو کوئی فلسفی نہیں تھا، نہ ہی اس نے بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ لیکن جب مذہبی عدالت  نے اسے طلب کیا تو اس نے کائنات کی تخلیق کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس نے ججوں کے ہوش اڑا دیے۔

مینوچیو نے کہا:

میرے خیال میں شروع میں سب کچھ افراتفری تھا، زمین، ہوا، پانی اور آگ سب ملے ہوئے تھے۔ پھر یہ ایک تودہ بن گیا، بالکل ویسے جیسے دودھ سے پنیر بنتا ہے۔ اور پھر اس پنیر میں کیڑے پیدا ہوئے اور یہ کیڑے فرشتے تھے۔

ایک عام مورخ شاید اسے ایک جاہل کسان کی بیہودہ گوئی کہہ کر نظر انداز کر دیتا۔ لیکن گنزبرگ نے یہاں اپنی خوردبین فٹ کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ مینوچیو پاگل نہیں تھا۔ اس کا استدلال  اس کے اپنے ماحول یعنی کسان کلچر سے پھوٹ رہا تھا۔ پنیر، دودھ اور کیڑے وہ چیزیں تھیں جو اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ اس نے مادی دنیا کے تجربات کو استعمال کرتے ہوئے کائنات کی ایک خالصتاً مادی توجیہ پیش کی تھی۔ گنزبرگ نے ثابت کیا کہ یہ کسان کی عقل تھی جو اوپر سے مسلط کردہ مذہبی عقائد کو چیلنج کر رہی تھی۔

وراثت اور بقا کی جنگ

دوسری طرف جیوانی لیوی نے اپنی کتاب ”انہیرٹنگ پاور“ (Inheriting Power) میں سترھویں صدی کے ایک معمولی گاؤں سانٹینا کا مطالعہ کیا۔ لیوی کا طریقہ کار قدرے مختلف تھا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں کسانوں کے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں تھی، وہاں وہ زندہ رہنے کے لیے کون سی حکمت عملی اپناتے تھے؟

لیوی نے ایک پادری جیووان بٹسٹا کیسا کا قصہ بیان کیا جو لوگوں پر سے آسیب اتارنے  کا کام کرتا تھا۔ لیوی نے دیکھا کہ گاؤں کے لوگ اس پادری کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ کیا وہ توہم پرست تھے؟

لیوی کا جواب تھا: نہیں، وہ عقلمند تھے۔

اس دور میں بیماری اور مصیبت کی کوئی سائنسی وجہ معلوم نہیں تھی۔ آسیب کا علاج کروانا ان لوگوں کے لیے ایک محدود عقلیت  کا مظہر تھا۔ یہ ان کے لیے ایک نفسیاتی اور سماجی سکون کا باعث تھا کہ ان کی بیماری ان کی اپنی غلطی نہیں بلکہ کسی شیطانی طاقت کا کیا دھرا ہے۔

لیوی نے مزید دکھایا کہ کس طرح کسان زمین کی خرید و فروخت اور خاندانی رشتوں کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ طاقتور جاگیرداروں اور چرچ کے قوانین کے درمیان موجود خلا  کو ڈھونڈتے اور اپنی بقا کا راستہ نکالتے۔ یہ لوگ غیر فعال شکار نہیں تھے، بلکہ وہ نظام کی دراڑوں میں اپنی جگہ بنانے والے ذہین کھلاڑی تھے۔

سبق

ملبرگر اپنے مقالے میں ان دونوں مورخین کے کام کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم تنقیدی نکتہ بھی اٹھاتی ہیں۔ گنزبرگ اور لیوی دونوں کا تعلق اٹلی کے بائیں بازو (مارکسسٹ) کی سیاست سے تھا۔ ملبرگر سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا ان مورخین نے واقعی ماضی کی عقل دریافت کی یا اس میں ایک انقلاب برپا کیا؟ ملبرگر کا نتیجہ یہ ہے کہ عقل مقامی ہوتی ہے۔ یہ کھیتوں میں، چکیوں میں اور گاؤں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں بھی موجود ہوتی ہے۔ مینوچیو کی پنیر والی کائنات ہمیں عجیب لگ سکتی ہے لیکن سولھویں صدی کے ایک کسان کے لیے یہ اتنی ہی منطقی تھی جتنی ہمارے لیے بگ بینگ تھیوری۔ سانٹینا کے کسانوں کا آسیب اتارنا ہمیں توہم پرستی لگ سکتا ہے لیکن ان کے حالات میں یہ ایک عقلی ردعمل تھا۔

اگر ہم ماضی کے انسانوں کی عزت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے فیصلوں کو احمقانہ کہنے کے بجائے اس سیاق و سباق  کو سمجھنا ہوگا جس میں وہ فیصلے کیے گئے۔ جب ہم خوردبین سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کا ہر انسان چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو اپنی زندگی کو معنی دینے کی ایک عقلی جدوجہد کر رہا تھا۔ اور جہاں عقلی جدوجہد ہے، وہاں امید ہے۔

Visited 6 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *