عقل، تاریخ اور یورپ کا فکری حصار

عثمان عمر

فلسفے کی دنیا میں ایک بہت پرانا اور پیچیدہ سوال گردش کرتا رہا ہے: کیا ”عقل“ (Reason) ایک آفاقی روشنی ہے جو پوری انسانیت پر یکساں برستی ہے یا یہ ایک خاص ثقافتی اور جغرافیائی خطے کی پیداوار ہے؟

جرمن فلسفے کے دو دیو قامت ستون  ہیگل  اور ایڈمنڈ ہوسرل ہیں ۔ یہ دونوں مفکرین اگرچہ اپنے منہج میں مختلف تھے مگر ”عقل“ کے معاملے میں ایک عجیب و غریب تضاد کا شکار نظر آتے ہیں: وہ عقل کو ”آفاقی“  بھی کہتے ہیں لیکن اس کی جنم بھومی صرف اور صرف ”یورپ“  کو مانتے ہیں۔ ان دونوں عظیم دماغوں نے عقل کو ”مقامیت“ کی زنجیروں میں جکڑ کر اسے آفاقیت کا نام دیا۔

موضوعیت اور معروضیت کا کھیل

ہیگل اور ہوسرل دونوں کے ہاں ہمیں ایک مشترک ڈھانچہ ملتا ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ وہ ”مقامی“  اور ”آفاقی“  کے تعلق کو ”موضوعیت“  اور ”معروضیت“  کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ہیگل کے نزدیک عقل شروع میں ایک خام، موضوعی اور انفرادی شکل میں ہوتی ہے (جیسے ایک فرد کی ذاتی خواہشات)۔ لیکن جدلیاتی عمل کے ذریعے یہ ترقی کرتی ہے اور ایک ”معروضی روح“  بن جاتی ہے یعنی ریاست، قانون اور اخلاقیات۔

ہوسرل جو فینومینولوجی  کا بانی ہے، وہ بھی یہی کہتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی، موضوعی شعور سے شروع کرتے ہیں لیکن ”ٹرانسینڈینٹل ریڈکشن“ کے ذریعے ہم اس خالص، آفاقی شعور تک پہنچ سکتے ہیں جو تمام انسانیت کے لیے مشترک ہے۔

یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ دونوں فلسفی اس ”آفاقی عقل“ کو ”تاریخ“ کے دھارے میں ڈالتے ہیں۔

تاریخ کا سفر اور مغرب کی اجارہ داری

ہیگل اور ہوسرل دونوں تاریخ کو ایک سیدھی لکیر یا ایک طے شدہ مقصد   کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ”عقل کے خود کو پہچاننے“ کا سفر ہے۔

ہیگل کے نزدیک تاریخ کا مقصد ”آزادی“  کا حصول ہے۔ لیکن اس کے خیال میں مشرق  میں صرف ایک آدمی (بادشاہ) آزاد تھا، یونان میں چند لوگ آزاد تھے اور صرف جدید جرمن  ریاست میں انسان مکمل آزادی اور عقل کی معراج تک پہنچا ہے۔ گویا تاریخ کا ڈرائیور ”عقل“ ہے اور اس کی بس کا آخری اسٹاپ ”یورپ“ ہے۔

 ہوسرل بھی یہی کہانی سناتا ہے۔ اس کے مطابق ”سائنس اور فلسفے“ کی شکل میں عقل کا ظہور قدیم یونان میں ہوا۔ اس کا مقصد ایک ”یونیورسل سائنس“ کا قیام تھا۔ ہوسرل کے نزدیک، یورپی انسانیت کے اندر ایک پیدائشی ”ٹیلوس“ (  مقصد) چھپا ہوا ہے جو اسے باقی تمام تہذیبوں سے ممتاز کرتا ہے۔

دونوں فلسفی ایک منطقی غلطی  کے مرتکب ہو رہے ہیں جسے دائروی استدلال کہتے ہیں۔

وہ پہلے سے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ”مغربی تہذیب“ اور اس کی سائنس/ریاست ہی انسانیت کا عروج ہے۔ پھر وہ تاریخ کو پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ ہم عروج پر ہیں، اس لیے لازماً تاریخ کا آغاز یونان سے ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ ایک ایسا فکری جال ہے جس میں عقل کو ”آفاقی“ کہا تو جاتا ہے، لیکن اس کی تعریف ایسے کی جاتی ہے کہ وہ صرف یورپی کلچر میں ہی فٹ بیٹھتی ہے۔

یورپ مرکزیت کا المیہ

یہ فلسفیانہ رویہ محض کتابی نہیں ہے، اس کے خطرناک نتائج بھی ہیں۔ جب ہوسرل یہ لکھتا ہے کہ پاپوا نیو گنی کے لوگ انسان تو ہیں مگر ان میں وہ فلسفیانہ عقل نہیں جو یورپیوں میں ہے یا جب ہیگل یہ کہتا ہے کہ مشرق میں تاریخ ابھی بچپن میں ہے تو وہ دراصل ایک ”مابعد الطبیعاتی یورپ مرکزیت“  کو جنم دے رہے ہوتے ہیں۔

اس بیانیے کے مطابق دنیا کی باقی تمام تہذیبیں چاہے وہ ہندوستان ہو، چین ہو یا اسلامی دنیا تاریخ کے مرکزی دھارے سے باہر ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مغربی عقل کی تقلید کریں کیونکہ وہی ”آفاقی سچائی“ ہے۔ یہ سوچ نوآبادیاتی نظام کو ایک فلسفیانہ جواز فراہم کرتی ہے۔

تو کیا ہم عقل کو اس ”یورپی قید“ سے آزاد کر سکتے ہیں؟

ایک فلسفی پوربیا کا کہنا ہے کہ عقل کو ایک ”معیار“  یا ”تاریخی منزل“ کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ”تصورات کے خلا“ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ عقل کسی خاص کلچر کی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ کا مقصد مغربی سائنس کا حصول ہے۔ عقل ”تصورات کی ایک فضا“ ہے جس میں ہر تہذیب اپنے اپنے طریقے سے ترتیب پیدا کرتی ہے۔ اس نظریے کے تحت، عقل ”مقامی“ ضرور ہے (کیونکہ یہ کسی خاص سیاق و سباق میں جنم لیتی ہے) لیکن یہ ”اضافیت“  کا شکار نہیں ہوتی۔

پس معلوم ہوا کہ بڑے بڑے دماغ بھی اپنے ثقافتی تعصبات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عقل کی عظمت کے گیت گائے لیکن اس عقل کو صرف اپنی جغرافیائی حدود میں قید کر دیا۔

Visited 1 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *