اسلام میں تقدیس کی مکانیت اور ماورا ئے اِدراک کا تصور (1)

سامر عکاش / صابر علی

سولھویں صدی عیسوی کے ممتاز عالمِ دین اور فقیہ شہاب الدین ابنِ حجر الہیتمی نے اپنے مجموعہ فتاویٰ میں ایک نہایت دلچسپ اور فکر انگیز قضیے کا ذکر کیا ہے جس کا تعلق یروشلم میں واقع قبۃ الصخرہ کے عین وسط میں موجود اس مقدس چٹان سے ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔ مسلمانوں کے عمومی عقیدے کے مطابق یہ وہ زمینی مقام ہے جہاں سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفرِ معراج کا آغاز فرمایا۔ عوامی روایتوں میں یہ بات شدت سے مشہور ہے کہ اس عظیم الشان واقعے کے بعد سے یہ چٹان فضا میں معلق ہو گئی۔

روایت کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلندیوں کی جانب محوِ پرواز ہوئے تو یہ چٹان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکی مگر فرشتوں نے اسے تھام لیا اور یوں یہ زمین و آسمان کے درمیان معلق ہو کر رہ گئی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ فرشتوں کی انگلیوں کے نشانات آج بھی اس پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایک مرتبہ امام ہیتمی سے شرعی رہنمائی طلب کی گئی تاکہ دو افراد کے مابین پیدا ہونے والے نزاع کا فیصلہ کیا جا سکے۔ قصہ یہ تھا کہ دو آدمی اس چٹان کے معلق ہونے کی حقیقت پر الجھ پڑے؛ ایک اس کے ہوا میں معلق ہونے کا قائل تھا جبکہ دوسرا اس کا منکر۔ بحث اس نہج پر پہنچ گئی کہ دونوں نے اپنی بات غلط ثابت ہونے کی صورت میں اپنی بیویوں کو تین طلاقیں دینے کی قسم کھا لی۔

اب سوال یہ تھا کہ طلاق کس پر واقع ہوئی؟ ایک جید عالم ہونے کے ناطے امام ہیتمی کے لیے یہ فیصلہ یقیناً ایک کٹھن آزمائش رہی ہو گی۔ اگر وہ چٹان کے معلق ہونے کے حق میں فیصلہ دیتے تو یہ ظاہری حواس اور مشاہدے کو جھٹلانے کے مترادف ہوتا (کیونکہ بظاہر وہ عمارت کے ڈھانچے پر ٹکی ہوئی ہے) اور اگر وہ مشاہدے کے حق میں فیصلہ دیتے تو اس سے معجزے پر عوامی عقیدے کی نفی کا پہلو نکلتا تھا۔ چنانچہ امام نے عمارت کے ڈھانچے سے چٹان کے ”جڑے ہونے“ اور ”سہارا لینے“ کے مابین ایک لطیف اور باریک فرق ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت دانش مندانہ جواب دیا۔ آپ  نے فرمایا:

”اگر ہوا میں بلند ہونے سے پہلے شخص کی مراد یہ ہے کہ یہ چٹان اپنے نیچے تعمیر شدہ ڈھانچے سے مکمل طور پر منقطع ہے تو پھر اس نے جھوٹی قسم کھائی (یعنی وہ مشاہدے کے خلاف گیا) چونکہ اس کی نیت جھوٹ بولنے کی نہیں تھی بلکہ وہ اپنے گمان کو یقین جانے بیٹھا تھا، اس لیے اس پر جھوٹی قسم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ رہا معاملہ دوسرے شخص کا تو اس کی قسم بھی نہیں ٹوٹی کیونکہ عمارت کے ساتھ چٹان کا اتصال اور ربط تو آنکھوں سے عیاں ہے۔ تاہم اگر دونوں اس بات پر تو متفق ہوں کہ چٹان عمارت کو چھو رہی ہے لیکن جھگڑا اس نکتے پر ہو کہ آیا عمارت نے اسے تھام بھی رکھا ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں کسی پر بھی حانث ہونے (قسم ٹوٹنے) کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”سہارا دینے“ کی کیفیت مشکوک اور مبہم ہے؛ ہو سکتا ہے عمارت نے واقعی بوجھ اٹھا رکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو لہٰذا شک کی بنا پر کسی کو بھی جھوٹا قرار نہیں دیا جا سکتا۔“

امام ہیتمی کا یہ فیصلہ اپنی جگہ انتہائی زیرک تھا جس نے دونوں فریقین کی سچائی کا امکان باقی رکھا مگر سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس حساس نزاع کو حتمی طور پر ختم نہیں کیا۔ بہرکیف فضا میں معلقی کی حقیقت اور اس عظیم الشان عمارت کے ساتھ چٹان کا یہ نازک سا تعلق اتنا پیچیدہ معاملہ ہے کہ اسے محض کسی فتوے یا عدالتی فیصلے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ دیگر کئی پہلوؤں کے علاوہ ہمیں ماقبل جدید اسلام میں عقل اور اسرار کے باہم دست و گریباں ہونے کی ایک انوکھی جھلک دکھاتا ہے اور اس دور میں تقدیس کے سماجی مظاہر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

چٹان اور اس عمارت کی طویل تاریخ میں ایسے اور بھی کئی حیران کن لمحات آئے ہیں۔ گیارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں پہلی صلیبی جنگ سے چند برس قبل اندلس کے نامور فقیہ قاضی ابن العربی (جنہیں مشہور صوفی ابن العربی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے) نے یروشلم کا طویل دورہ کیا۔ اُس وقت ان کی عمر محض سترہ برس تھی اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس چٹان کے معلق ہونے کے معجزے کی تصدیق کی۔ اس لرزہ خیز مشاہدے اور اپنے قلبی واردات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

”چٹان کے عین نیچے ایک غار ہے جس کی بدولت یہ ہر سمت سے زمین سے جدا اور الگ تھلگ دکھائی دیتی ہے۔ اس غار کا دروازہ عموماً زائرین کے لیے کھلا رہتا ہے تاکہ وہ وہاں نوافل، خلوت اور دعا میں مشغول ہو سکیں۔ کچھ دیر تک تو مجھ پر اس چٹان کی ہیبت اور موجودگی کا احساس اس قدر طاری رہا کہ میں اس کے نیچے جانے سے کتراتا رہا؛ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے گناہوں کے بوجھ کی پاداش میں یہ چٹان مجھ پر ہی نہ آ گرے۔ پھر میں نے دیکھا کہ کھلم کھلا گناہ کرنے والے اور ظالم لوگ بے خوف و خطر اندر جا رہے ہیں اور صحیح سلامت باہر آ رہے ہیں۔ تب میں نے سوچا کہ شاید انہیں کچھ مہلت دی گئی ہے مگر ہو سکتا ہے مجھے نہ ملے۔ میں کچھ دیر ٹھٹھکا رہا پھر بالآخر ایک ان جانی کشش مجھے اندر لے ہی گئی۔ جوں ہی میں اندر داخل ہوا، میری آنکھوں نے ایک محیر العقول منظر دیکھا۔ آپ اس کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ہر سمت میں چلتے جائیں، آپ کو صاف نظر آئے گا کہ یہ زمین سے بالکل منقطع ہے۔ اس کا کوئی بھی حصہ زمین سے جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ بعض سمتوں میں تو یہ جدائی اور خلا دیگر اطراف کی نسبت زیادہ نمایاں ہے۔“

(جاری ہے)

Visited 8 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *