اسلام میں تقدیس کی مکانیت اور ماورائے ادراک کا تصور (2)

سامر عکاش / صابر علی

اس حیرت انگیز عینی شہادت میں صرف چٹان اور اس کے معجزانہ طور پر معلق ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ ابن العربی نے یہاں قبۃ الصخرہ کی اس عظیم الشان عمارت کو یکسر نظر انداز کر دیا جو ساتویں صدی عیسوی سے وہیں کھڑی تھی۔ سولھویں صدی کے وسط کا ذکر ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم ایک فارسی گائیڈ اور کاتب سید علی الحسینی نے اپنے تصویری سفرنامے ’شوق نامہ‘ میں اس بات کا احاطہ کیا کہ انہوں نے ایک گنبد والی عمارت کے اندر اس معلق چٹان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

حسینی نے اپنے اس بصری مشاہدے کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کا ایک تصویری خاکہ بھی پیش کیا جس میں نہ صرف فضا میں تیرتی ہوئی چٹان دکھائی گئی بلکہ آخرت اور حشر ونشر سے متعلق روایات میں مذکور کچھ خیالی اور تمثیلی ڈھانچے بھی بنائے گئے۔ سترھویں صدی کے اواخر میں دمشق کے ممتاز عالم عبدالغنی النابلسی سامنے آتے ہیں۔ وہ امام ہیتمی کے فتوے اور ابن العربی کے مشاہدات دونوں سے بخوبی واقف تھے مگر انہوں نے اس معاملے کی ایک انتہائی انوکھی اور انقلابی توجیہ پیش کی۔

حسینی اور ابن العربی کی کوشش یہ تھی کہ اپنی تحریروں اور خاکوں سے چٹان کے معلق ہونے کے بارے میں تمام شکوک و شبہات مٹا دیں لیکن نابلسی کا انداز ذرا مختلف تھا۔ انہوں نے اپنے مشاہدے کی تشریح میں زیادہ باریک بینی اور فلسفیانہ گہرائی سے کام لیا۔ نابلسی نے چٹان کے معلق ہونے کی حقیقت پر تو اصرار کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس ظاہری تضاد کو عقل کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی جو ’معلقی کی روایت‘ اور ’آنکھ کے مشاہدے‘ کے درمیان پایا جاتا ہے—ایک ایسا تضاد جس پر کم ہی بات کی گئی ہے۔

ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر ہم اس معجزے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور محسوس کرنے سے قاصر ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس خاص مقام پر ’فنِ تعمیر‘ جان بوجھ کر ایک پردے کا کام کر رہا ہے۔ اپنے اس منفرد نظریے کو ثابت کرنے کے لیے نابلسی نے تاریخ کا ایک نیا منظر نامہ تشکیل دیا۔ ابن العربی کی اس گواہی کا حوالہ دیتے ہوئے (جس میں عمارت کا ذکر گول کر دیا گیا تھا) انہوں نے دلیل دی کہ دراصل قبۃ الصخرہ کی یہ عمارت صلیبیوں نے تعمیر کی تھی اور اس کا مقصد ہی چھپانا تھا۔ فرنگی جب مسلمانوں کے مقدس مقامات کے ساتھ اس روحانی تعلق اور معجزے کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ شاندار عمارت اس لیے کھڑی کر دی تاکہ اس معجزے کو عوام کی نظروں سے اوجھل کر دیا جائے۔ اگرچہ تاریخی طور پر نابلسی کا یہ دعویٰ بے بنیاد تھا مگر عجیب بات یہ ہے کہ یروشلم میں اپنے طویل قیام کے دوران جن مقامی حکام، مذہبی پیشواؤں اور بااثر شخصیات کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا، ان میں سے کسی نے بھی ان کے اس نظریے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس حیران کن تصادم میں اسلام کی سب سے مشہور عمارت کا مذہبی تشخص یکسر بدل گیا: یہ عیسائیوں کا مرکز بن گئی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صلیبی حملہ آور جنہوں نے تقریباً ایک صدی تک اس مقام پر قبضہ جمائے رکھا، ان کا بھی یہی ماننا تھا کہ یہ عمارت اسلامی نہیں بلکہ ہیکلِ خداوندی ہے جو یہاں ہمیشہ سے موجود تھا۔ چنانچہ انہوں نے چٹان کو سنگِ مرمر سے ڈھانپ کر وسط میں ایک قربان گاہ بنا کر گنبد پر ایک بڑا سنہری صلیب نصب کر کے اور پوپ سے اس کے تقدس کی تصدیق کروا کر اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔

امام ہیتمی کا مقدمہ اور اس مقدس مقام سے جڑی دیگر پراسرار حکایتیں ہمیں تقدیس کے اس تصور سے آشنا کرتی ہیں جو بہت سے معاملات میں ہمارے جدید معیارات سے یکسر مختلف ہے۔

اوّل تو یہ کہ ‘معلقی کی روایت’ عہدِ وسطیٰ کے مسلمانوں کے لیے اتنی سادہ اور شفاف نہیں تھی جتنا کہ آج کے جدید مفکرین تصور کرتے ہیں۔

دوم، اس دور میں عقل اور ماورائیت کے مابین کوئی تصادم نہیں تھا۔ تقدیس کا یہ ظہور اگرچہ بیان سے باہر سہی لیکن یہ انسانی عقل کے شکوک و شبہات سے بالاتر بھی نہیں تھا اور نہ ہی اسے محض خوف یا حیرت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔

سوم، تقدیس روزمرہ زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ تھی؛ یہ دنیاوی زندگی کے مقابل کھڑی کوئی الگ تھلگ حقیقت نہیں تھی کہ اسے مذہبی اور غیر مذہبی خانوں میں بانٹ دیا جائے۔

تقدیس کا یہ راز، اس کا روزمرہ زندگی سے تعلق، وہ سماجی حدود جن کے اندر یہ کارفرما ہے اور اس کے ساتھ برتا جانے والا ،تذبذب و غیر یقینی کا رویہ—یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماقبل جدید اسلامی تناظر میں یہ ایک پیچیدہ گتھی ہے نہ کہ محض دو متضاد قطبین۔ عقل اور غیر عقلی، دنیاوی اور مقدس نیز پراسرار حقیقتوں کو اپنے قابو میں لانے اور عقلی توجیہات گھڑنے کے یہ تمام عمل ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ان موجودہ روایتی طریقوں پر نظرِ ثانی کریں جو تقدیس کو محض ایک تجریدی اور سیاق و سباق سے کٹی ہوئی شے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ نظرِ ثانی فنِ تعمیر کے نظریات کے لیے ازحد ضروری ہے کیونکہ تقدیس اور دنیاوی پن کے مابین جو تقسیم شدہ ماڈل رائج ہے اور جس میں دیومالا، رسومات اور علامات کو بطور آلہ استعمال کیا جاتا ہے اسی پر مذہبی معانی کے مطالعہ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ طریقے تقدیس کو ایک ایسی عالمگیر حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں جسے ہر مذہبی پس منظر میں ایک ہی طرح سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یوں مذہبی امتیازات کو تقدیس کے تصور کی گہرائیوں سے نہیں بلکہ محض ان کے ظاہری اور جغرافیائی اظہار کے فرق سے پرکھا جاتا ہے۔ اس سوچ کے تحت یہ مان لیا گیا ہے کہ تقدیس ہر جگہ ایک ہی ہے جو مختلف دیومالائی اور علامتی لبادوں میں سامنے آتی ہے۔ دیومالا کو تقدیس کی زبان مانا گیا ہے جس کے ذریعے انسان ”مذہبی وجود“ اپنی ایک ایسی عینک تراشتا ہے جو وقت اور مقام کی قید سے آزاد ہے۔

(جاری ہے)

Visited 5 times, 5 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *