طبی مشاہدات، سرمایہ دارانہ ذہنیت اور لبرل فیمنزم کا امتزاج

صابر علی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے قلم سے ایک تازہ تحریر مؤقر ویب سائٹ ”ہم سب“ پر شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے:

پچاس کے بعد – مسائل اور تجاویز

یہ تحریر بظاہر سنِ یاس (مینوپاز) کے بعد خواتین کو درپیش طبی مسائل اور ان کے تدارک کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک طبی ہدایت نامہ نہیں بلکہ لبرل فیمنزم، مادی تخفیف پسندی اور سرمایہ دارانہ استدلال کا ایک ایسا ملغوبہ ہے جس میں طبی حقائق کو ایک مخصوص نظریاتی بیانیے کی ترویج کے لیے آلہ کار بنایا گیا ہے۔

سرمایہ دارانہ ذہنیت اور طب کا مادی تصور

تحریر کا آغاز ہی ایک شدید سرمایہ دارانہ اور اشرافیائی رویے کا غماز ہے۔ مصنفہ فخریہ انداز میں ”پیرس یاترا“  کا ذکر کرتی ہیں اور فوراً ہی یہ واضح کرتی ہیں کہ ان کا مشورہ ”فری سیشن“ نہیں ہو سکتا کیونکہ ”مالِ مفت کی قدر کہاں ہوتی ہے؟“

یہ طرزِ فکر خالص سرمایہ دارانہ منطق ہے جو صحت جیسے بنیادی انسانی حق اور دردِ دل جیسی اعلیٰ اخلاقی قدر کو محض ایک تجارتی جنس میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اسلامی اور روایتی اخلاقیات میں طب ایک مقدس پیشہ اور کارِ مسیحائی ہے جس کی بنیاد خدمتِ خلق پر استوار ہے۔ اس کے برعکس مصنفہ کا استدلال مارکیٹ اکانومی کی اس سفاکانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں علم اور شفا کی قدر کا تعین سرمائے کے تبادلے سے ہوتا ہے۔ ہمدردی کا یہ دعویٰ کہ ”بہت سی خواتین کا بھلا ہو جائے“ اس وقت اپنی موت آپ مر جاتا ہے جب اسے فیس اور ادائیگی سے مشروط کر کے مالِ مفت کی تحقیر کی جاتی ہے۔

گائنی فیمنزم کا مغالطہ اور جسم و روح کی لبرل تشریح

تحریر کا سب سے خطرناک اور فکری طور پر کھوکھلا حصہ وہ ہے جہاں مصنفہ طبی مسائل کی آڑ میں ”گائنی فیمنزم“  کا تصور پیش کرتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عورت میں اپنی صحت کی آگہی کا نہ ہونا دراصل اس کے وجود کی آگہی کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ کہ ”معاشرہ اسی میں خوش ہے“  کہ عورت ناواقف رہے۔

یہاں ڈاکٹر صاحبہ ایک صریح ”مغالطہ علت و معلول“  کا شکار ہیں۔ جب مریضہ خود اعتراف کر رہی ہے کہ ”کبھی کسی ڈاکٹر نے تجویز ہی نہیں کیا“ تو  یہ صحت کے ناقص نظام اور معالجین کی پیشہ ورانہ غفلت کا شاخسانہ ہے، نہ کہ کسی فرضی پدر شاہی معاشرے کی سوچی سمجھی سازش کا۔ مگر چونکہ لبرل فیمنزم کا خمیر ہی معاشرے اور مرد کو حریف بنا کر پیش کرنے سے اٹھتا ہے، اس لیے ڈاکٹر صاحبہ ایک خالصتاً طبی اور انتظامی کوتاہی کو زبردستی فیمنزم کے نظریاتی سانچے میں فٹ کر رہی ہیں۔

مزید برآں، ان کا یہ دعویٰ کہ ”کیا جسم، وجود اور روح کو علیحدہ کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں“، محل نظر ہے۔ روح ایک امرِ ربی ہے جو اس مادی جسم کی محتاج یا اس کا محض حیاتیاتی عکس نہیں ۔ لبرل ازم انسان کو محض ایک مادی وجود سمجھتا ہے جس کی کل کائنات اس کی حیاتیاتی اور جنسی آزادی تک محدود ہے۔ کاظمی صاحبہ جب گائنی فیمنزم کو روح سے جوڑتی ہیں تو وہ دراصل روح کے روحانی اور ملکوتی مقام کو گرا کر اسے ایسٹروجن اور ہارمونز کے تابع کر رہی ہیں۔

طبقاتی تفاخر اور بیانیے کا اندرونی تضاد

ایک طرف ڈاکٹر صاحبہ عورت کی ”عزتِ نفس، وجودی آگہی اور مقام“  کا رونا روتی ہیں اور دوسری طرف تحریر کے اختتام پر اسی عورت کی عام گھریلو زندگی کا انتہائی تمسخر اڑاتی ہیں۔ ان کے الفاظ—”درزی کے ساتھ سر کھپانے، بہو کی غلطیاں ڈھونڈنے اور بک بک کرنے“—ان کی اشرافیائی اور لبرل فیمنسٹ سوچ کے اس تضاد کو عیاں کرتے ہیں جہاں ان کے نزدیک صرف وہی عورت قابلِ عزت ہے جو پیرس کے سفر کرے یا ایچ آر ٹی (HRT) لے کر پہاڑوں پر چڑھے۔

وہ عام گھریلو عورت جو خاندان کی اکائی کو جوڑے رکھتی ہے جو اپنے معاشی اور سماجی دائرے میں رہ کر زندگی گزارتی ہے، لبرل فیمنزم کی نگاہ میں حقیر اور محض ”بک بک“ کرنے والی مخلوق ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فیمنزم کا یہ ماڈل عورت کو بااختیار نہیں بناتا بلکہ اسے اس کی فطری اور خاندانی جڑوں سے کاٹ کر ایک ایسی خود غرض مادی دوڑ میں شامل کرنا چاہتا ہے جہاں وہ اپنی ہی ہم جنسوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سائنسی حقائق بمقابلہ یوٹوپیائی دعوے

طبی اعتبار سے ڈاکٹر صاحبہ نے جن ٹیسٹس (میموگرافی، پیپ سمیر، بون ڈینسٹی وغیرہ) کا ذکر کیا ہے، وہ بلاشبہ سنِ یاس کے بعد کی طبی ضروریات کا حصہ ہیں۔ علاج معالجے کی بھرپور ترغیب دی جانی چاہیے۔ تاہم جس اندھے اعتماد کے ساتھ وہ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (HRT) کی وکالت کر رہی ہیں اور اسے اپنی ”اچھل کود“  کا راز بتا رہی ہیں، وہ طبی نقطہ نظر سے انتہائی سرسری اور گمراہ کن ہے۔

جدید طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ HRT کا استعمال ہر عورت کے لیے یکساں مفید نہیں اور بعض صورتوں میں یہ چھاتی کے کینسر اور قلبی امراض کے خطرات کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔ اسے ایک جادوئی امرت دھارے کے طور پر پیش کرنا اور بڑھاپے کے فطری عمل کو قبول کرنے کے بجائے مصنوعی ذرائع سے جوانی کی سراب نما تلاش، لبرل اور مادی معاشروں کی اس نفسیاتی شکست خوردگی کا مظہر ہے جو بڑھاپے اور موت کے تصور سے خوفزدہ ہیں۔

اسی طرح، پچاس سال کے بعد ہر مریض کو بلاامتیاز ”بے بی اسپرین“ تجویز کرنا بھی اب پرانی اور منسوخ شدہ طبی پریکٹس بن چکی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور دیگر عالمی اداروں کی حالیہ گائیڈ لائنز کے مطابق بغیر کسی سابقہ قلبی عارضے کےروزانہ اسپرین کا استعمال معدے سے خون بہنے کے خطرات بڑھاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کا آن لائن کالم کے ذریعے یوں اندھا دھند ادویات تجویز کرنا غیر سنجیدہ اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے۔

مجموعی طور پر یہ تحریر ایک مفید طبی مشورے سے زیادہ ایک نظریاتی پمفلٹ ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ جب ایک مادی، سرمایہ دارانہ اور لبرل ذہنیت طب کے شعبے پر حاوی ہوتی ہے تو وہ انسان کے روحانی اور خاندانی وجود کو مسخ کر کے اسے محض ایک حیاتیاتی مشین سمجھنے لگتی ہے۔ عورت کی عزت و تکریم اس کے جسمانی اعضاء یا ہارمونز کی محتاج نہیں بلکہ اللہ کی بندگی اور ان اعلیٰ اخلاقی و عائلی اقدار سے وابستہ ہے جنہیں لبرل ازم اور سرمایہ داری اپنے استحصالی مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ صحت مند رہنا سنت ہے اور ضروری ہے لیکن صحت کے نام پر نظریاتی گمراہی اور فردِ واحد کی بے مہار آزادی کا پرچار کسی طور قبول نہیں۔

Visited 2 times, 2 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *