الفارابی کی ’کتاب الحروف‘

صابر علی

اسلامی فلسفیانہ روایت میں ابو نصر الفارابی کو ”معلمِ ثانی“ کا درجہ حاصل ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کی بہت سی اہم ترین تحریریں صدیوں تک ہماری نظروں سے اوجھل رہیں یا پھر ان کے ناقص نسخے گردش کرتے رہے۔ تاہم، حال ہی میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے زیتونہ کالج (کیلی فورنيا) کی جانب سے الفارابی کی شاہکار تصنیف ”کتاب الحروف“ کا ایک نیا اور معیاری ایڈیشن شائع ہوا ہے جس نے علمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اشاعت محض ایک پرانی کتاب کی دوبارہ چھپائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل علمی ریاضت کا ثمر ہے جس کے پیچھے دو بڑے نام کارفرما ہیں: محسن مہدی اور ان کے شاگرد و ساتھی چارلس بٹرورتھ۔ 2024ء  میں منظرِ عام پر آنے والی اس کتاب میں نہ صرف محسن مہدی کا تحقیق شدہ عربی متن شامل ہے بلکہ چارلس بٹرورتھ کا انگریزی ترجمہ، مقدمہ اور حواشی بھی موجود ہیں جو اسے جدید قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ بنا دیتے ہیں۔

اس نئے ایڈیشن کی کہانی بذاتِ خود علم دوستی اور وفاداری کی ایک داستان ہے۔ محسن مہدی جو عراقی نژاد امریکی محقق تھے اور شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی فلسفے کے استاد رہے، انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ الفارابی کے متون کی بازیافت اور تحقیق میں صرف کیا۔ وہ لیو سٹراوس (Leo Strauss) کے شاگرد تھے اور انہی کے اثر میں انہوں نے اسلامی فلسفے کو سیاسی زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی۔ محسن مہدی کا انتقال 2007 ء میں ہوا، لیکن ان کا کام ادھورا نہیں رہا۔ ان کے قریبی ساتھی اور ممتاز محقق چارلس بٹرورتھ نے اس مشن کو آگے بڑھایا اور الفارابی کی ”کتاب الحروف“ کے متن کو نہ صرف دوبارہ جانچا بلکہ اس کا ایک ایسا انگریزی ترجمہ بھی کیا جو اصل متن کی پیچیدگیوں کو کھولنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے جس میں الفارابی زبان کے حروف، مقولات، الفاظ کے وجود میں آنے کے عمل اور فلسفے اور ملت (مذہب) کے باہمی تعلق پر گہری بحث کرتے ہیں۔

”کتاب الحروف“ کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ارسطو کی ”ما بعد الطبیعیات“ (Metaphysics) کی محض شرح نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ الفارابی کا اپنا تخلیقی اور تنقیدی کام ہے۔ اس کتاب میں الفارابی زبان اور منطق کے رشتے کو کھنگالتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح عوامی زبان اور فلسفیانہ اصطلاحات کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔ الفارابی اس کتاب میں یہ بھی بحث کرتے ہیں کہ الفاظ کیسے وجود میں آتے ہیں اور کس طرح مختلف تہذیبوں میں فلسفہ اور مذہب جنم لیتے ہیں۔ نیا ایڈیشن اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں مترجم نے متن کی امانت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید قاری کے لیے قابلِ فہم بنایا ہے۔ بٹرورتھ نے مقدمے میں الفارابی کے دور اور ان کے فکری ارتقا پر روشنی ڈالی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ یہ کتاب الفارابی کی دیگر تصانیف جیسے ”تحصیل السعادہ“ کے ساتھ کس طرح جڑی ہوئی ہے۔

اس علمی کارنامے کا ایک پہلو وہ ”سٹراوسین“ (Straussian) اثر ہے جو محسن مہدی اور بٹرورتھ دونوں کے کام میں جھلکتا ہے۔ یہ مکتبِ فکر اسلامی فلسفے کو محض الہیات یا مابعد الطبیعیات تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اس کے اندر چھپے سیاسی پیغامات اور دانش و شریعت کے تعلق کو ایک خاص زاویے سے دیکھتا ہے۔ اگرچہ بعض ناقدین اس سیاسی تعبیر سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں محققین نے الفارابی کو مغرب میں زندہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں الفارابی کی استعمال کردہ اصطلاحات کا ایک اشاریہ بھی دیا گیا ہے جو محققین کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔ بٹرورتھ کا ترجمہ اتنا واضح اور محتاط ہے کہ یہ خود عربی متن کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ الفارابی کا اسلوب بعض اوقات انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے جسے سلجھانے کے لیے ایک ماہرانہ ترجمے کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔

مجموعی طور پر یہ کتاب مشرق اور مغرب کے درمیان علمی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا اپنا علمی ورثہ جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، دنیا کے دوسرے کونے میں کتنی باریک بینی اور محبت سے پڑھا اور سمجھا جا رہا ہے۔ ”کتاب الحروف“ کا یہ نیا ایڈیشن اردو دان طبقے اور پاکستان کے علمی حلقوں کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ وہ الفارابی کو محض ایک تاریخی نام سمجھنے کی بجائے ان کے متن کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کریں اور دیکھیں کہ دسویں صدی عیسوی کا یہ عبقری فلسفی آج اکیسویں صدی میں زبان، وجود اور سماج کے مسائل پر ہمیں کیا بصیرت فراہم کر سکتا ہے۔

Visited 2 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *