اکیسویں صدی میں جب ہم موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، ایک سوال بار بار دہرایا جاتا ہے کہ ”ہمارا یہ حال کس نے کیا؟“ گذشتہ ایک دہائی سے اس سوال کا ایک ہی جواب علمی اور عوامی حلقوں پر مسلط ہے کہ ”انتھروپوسین“ یعنی ”دورِ انسانی“۔
یہ بیانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ایک ارضیاتی قوت بن چکا ہے اور موجودہ تباہی ”انسان“ کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ بظاہر یہ بات درست لگتی ہے لیکن جیسن ڈبلیو مور اپنے چشم کشا مقالے میں اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اصطلاح ایک بہت بڑا فریب ہے۔ ہم ”انتھروپوسین“ میں نہیں بلکہ ”کیپیٹلوسین“ یعنی ”دورِ سرمایہ“ میں جی رہے ہیں۔
یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں ہے بلکہ تاریخ، سیاست اور ماحولیات کو سمجھنے کا ایک بالکل نیا زاویہ ہے۔
انتھروپوسین کا بیانیہ ایک سادہ سی منطق پر کھڑا ہے کہ ”انسانوں نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور اب فطرت بدلہ لے رہی ہے۔“ اس کہانی کا آغاز عموماً 1800ء کے آس پاس صنعتی انقلاب سے کیا جاتا ہے جب بھاپ کے انجن اور کوئلے کا استعمال شروع ہوا۔
جیسن مور اس بیانیے پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک آرام دہ کہانی ہے جو غیر آرام دہ حقائق پر پردہ ڈالتی ہے۔ جب ہم لفظ ”انسان“استعمال کرتے ہیں تو ہم پوری انسانیت کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ کیا افریقہ کا ایک غریب کسان اور امریکا کا ایک ارب پتی سرمایہ دار ماحولیاتی تباہی کے یکساں ذمہ دار ہیں؟ یقیناً نہیں۔
انتھروپوسین کا بیانیہ طبقاتی تفریق، سامراجیت، نسل پرستی اور سرمایہ دارانہ لوٹ مار کو ”انسانیت“ کے لیبل تلے چھپا دیتا ہے۔ مور کے الفاظ میں: ”یہ جدیدیت کا پرانا حربہ ہے کہ امیر اور طاقتور لوگ مسائل پیدا کرتے ہیں اور پھر ہم سب سے کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔“
ماحولیاتی بحران کی جڑیں صنعتی انقلاب (بھاپ کے انجن) میں نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے ”طویل سولھویں صدی“ (1450ء کے بعد) میں پیوست ہیں۔ مور دلیل دیتے ہیں کہ اگر ہم ماحولیاتی تباہی کا سراغ لگانا چاہتے ہیں تو ہمیں جیمز واٹ کے بھاپ کے انجن (1784ء) کے بجائے کولمبس کے جہازوں اور ڈچ زرعی انقلاب کی طرف دیکھنا ہو گا۔
کیپیٹلوسین کا آغاز تب ہوا جب یورپ نے پوری دنیا کو ایک ”منڈی“ سمجھنا شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب سرمایہ دارانہ نظام نے فطرت کو منظم کرنے کا ایک نیا طریقہ وضع کیا۔ یہ سب 1800ء سے بہت پہلے ہو رہا تھا۔ سرمایہ داری نے بھاپ کے انجن سے پہلے ہی دنیا کے نقشے اور ماحول کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس دور میں فطرت اور انسان (غلام) دونوں کو پیداوار کا ذریعہ بنا دیا گیا۔
سرمایہ داری صرف معاشی نظام نہیں ہے، یہ ایک ”عالمی ایکولوجی“ہے۔ اس نظام کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ چار چیزوں کو ہر قیمت پر ”سستا“ رکھ سکے:
سستی محنت: انسانوں (خصوصاً غلاموں اور عورتوں) کا استحصال۔
سستی خوراک: تاکہ مزدوروں کو کم اجرت پر زندہ رکھا جا سکے۔
سستی توانائی : پہلے لکڑی پھر کوئلہ اور تیل۔
سستا خام مال : لکڑی، دھاتیں وغیرہ۔
سرمایہ داری کا کمال یہ ہے کہ اس نے فطرت کو ایک ”مفت شے“ سمجھا۔ جنگلات، سمندر، مٹی اور جانوروں کو سرمایہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس عمل میں تشدد اور لوٹ مار ناگزیر تھی۔
جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ”فطرت“اور ”سماج“کو دو الگ الگ خانے بنا دیا ہے۔ یہ تقسیم ڈیکارٹ کے فلسفے سے شروع ہوئی جس نے ذہن اور جسم کو الگ کیا۔ سرمایہ دارانہ نظام اسی تقسیم پر پھلتا پھولتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”سماج“ (یعنی سرمایہ دار) الگ ہے اور ”فطرت“ باہر پڑی ہوئی ایک چیز ہے جسے فتح کرنا اور استعمال کرنا ہمارا حق ہے۔
اس تقسیم نے صرف درختوں اور پہاڑوں کو ہی فطرت نہیں بنایا، بلکہ انسانوں کی ایک بڑی اکثریت (عورتوں، سیاہ فاموں اور مقامی باشندوں) کو بھی ”فطرت“ کے خانے میں ڈال دیا۔ انہیں ”وحشی“ کہا گیا تاکہ ان کا استحصال کرنا اخلاقی طور پر جائز ہو سکے۔ جیسن مور کہتے ہیں کہ ہم فطرت سے الگ نہیں ہیں۔ ہم فطرت کے اندر ہیں اور فطرت ہمارے اندر ہے۔ سرمایہ داری بھی فطرت سے باہر کی چیز نہیں بلکہ یہ فطرت کو منظم کرنے کا ایک مخصوص (اور تباہ کن) طریقہ ہے۔
اگر ہم آج کے ماحولیاتی بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ”انتھروپوسین“ کے دھوکے سے نکلنا ہو گا۔ جب تک ہم یہ کہتے رہیں گے کہ ”انسانوں“ نے زمین تباہ کی، ہم اصل مجرم یعنی ”سرمایہ دارانہ نظام“ کو تحفظ دیتے رہیں گے۔
مسئلہ آبادی بڑھنا یا محض ٹیکنالوجی نہیں ہے، مسئلہ وہ نظام ہے جو لامحدود منافع کے لیے کرہ ارض کے وسائل کو نچوڑ رہا ہے۔ یہ سرمائے کا دور ہے جس میں زندگی کی ہر شے (انسان اور غیر انسان) کو منافع کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
مستقبل کو بچانے کے لیے ہمیں صرف گرین ٹیکنالوجی نہیں بلکہ تاریخ اور سیاست کے اس فہم کی ضرورت ہے جو اس نظام کی جڑوں (1450ء) تک پہنچ سکے جس نے فطرت کو ”سستا“ بنا کر تباہی کو ”مہنگا“ کر دیا ہے۔
