محمد دین جوہر کا ”ماتمِ معقولات“: ایک تنقیدی و فکری جائزہ

صابر علی

نعمان علی خان کے دو سوالوں پر محمد دین جوہر صاحب نے پانچ حصوں میں اپنے تاثرات فیس بک پر پیش کیے ہیں۔ان پانچوں حصوں کو ایک مسلسل مضمون کے طور پر  دیکھا جائے تو آپ کی یہ تحریر  ان کے مخصوص پیچیدہ اسلوب، فکری یگانگی کے دعوے اور شدید تہذیبی مایوسی کی عکاس ہے۔ اس تحریر کا تنقیدی جائزہ لینے سے کئی تضادات، علمی مغالطے اور رویوں کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ ذیل میں ان کی تحریر کے تضادات کی نشان دہی اور ان کے استدلال کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

تحریر کے داخلی تضادات

1۔ جوہر صاحب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ برصغیر میں ”معقولات“  کا مطلق خاتمہ ہو چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 ”جس علمی روایت میں معقولات کا خاتمہ ہو جائے وہاں مذہب کے باقی رہنے کا امکان بھی نہیں ہوتا۔“

آپ کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ جناب کے نزدیک مذہب کا وجود یا موجودگی ”معقولات“ سے ملزوم ہے۔ چونکہ برصغیر میں معقولات کا مطلق خاتمہ ہو چکا ہے اس لیے لازم آیا کہ برصغیر میں مذہب بھی کہیں نہیں رہا۔ جناب کا یہ فتویٰ چونکہ مقامی ہے اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ برصغیر سے باہر پوری دنیا میں صورت حال اس سے کچھ مختلف ہو گی۔ ہو سکتا ہے برصغیر سے باہر معقولات کا خاتمہ نہ ہوا ہو اور وہاں مذہب موجود ہو۔

ان کی تحریر پڑھنے والوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ اگر معقولات کا مطلق خاتمہ ہو چکا ہے تو جوہر صاحب خود کس ”آلے“ کا استعمال کرتے ہوئے یہ تجزیہ فرما رہے ہیں؟ ان کی پوری تحریر استدلال، منطقی نتائج اور تجزیے پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف عقل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی ”مردہ عقل“ کو بنیاد بنا کر زاہد مغل اور نعمان علی خان کا استدلال رد کر رہے ہیں۔ یہ ایک عملی تضاد ہے۔ اگر مکالمے کی اساس ہی ختم ہو چکی ہے تو وہ یہ ”مکالمہ“ یا ”جواب“ کس اساس پر دے رہے ہیں؟ بہرحال، ان سوالوں کے جواب میں آپ فرما سکتے ہیں  کہ محمد دین جوہر برصغیر میں ایک استثناء ہے جو امام المعقولات ہے باقی سب لوگ معقولات سے بے خبر اور مذہب سے بے بہرہ ہیں۔ یہاں سوال تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”معقولات“ سے آنجناب کیا مراد لیتے ہیں؟ اس سے آپ جو بھی مراد لیتے ہوں، اپنے ہی فتوے کی رُو سے وہ مذہب اور معقولات کے لزوم اور دونوں کے خاتمے کے تضاد سے باہر نہیں نکل سکتے۔ شاید آپ نے معقولات سے مغلوب ہو کر اس تضاد پر دھیان نہیں دیا ، یا پھر آپ برصغیر کے باہر سے مخاطب ہیں۔

جوہر صاحب کے مستقل قارئین کو یاد ہو گا کہ آپ مسلمانوں کے یا کم از کم برصغیری مسلمانوں کے علوم کے تکفیری ہونے کا دعویٰ بار ہا کر چکے ہیں۔ لطف کی بات ہے کہ مباحثہ شمائل و اختر پر تبصرے کے ذیل میں زاہد مغل پر خود  دجل و کفر کا فتویٰ چسپاں کر چکے ہیں(دجل و کفر کو ہجوں میں لکھ کر اور آخر میں سوالیہ نشان لگا کر نہ جانے انہوں نے کس پیشگی دفاع کا اظہار کیا)۔

2۔ جوہر صاحب امام غزالیؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ارسطو کی عقل سے مکالمہ کیا اور ”تہافت“ لکھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ غزالی اور ارسطو کے ہاں ”عقل اور استدلال کے معنی قطعی ایک ہیں ورنہ مکالمہ ممکن نہ ہوتا“۔

 دوسری طرف جب ڈاکٹر زاہد مغل اسی  علم الکلام کی روایت پر چلتے ہوئے جدید الحاد یا جدیدیت سے مکالمہ کرنا چاہتے ہیں تو جوہر صاحب اسے ”مزارِ کلام کی مجاوری“ اور ”پلاسٹک کی ادوائن والی چارپائی“ قرار دیتے ہیں۔ اگر غزالی کا عمل درست تھا تو آج کا متکلم اگر وہی کوشش کرے تو وہ غلط کیسے ہو گیا؟ جوہر صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ زاہد مغل کا کلام کیوں “positivistic” ہے۔آپ  صرف فتویٰ لگاتے ہیں، دلیل نہیں دیتے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مردہ معقولات کے گورکن اور جوہری معقولات کے متولی ہونے کے ناطے عقل و استدلال کے لعل بکھیرتے ؛ ارسطو اور غزالی کے تعریفات و نظریاتِ عقل پر یگانہ گرفت رکھنے کا محض دعویٰ نہ کرتے بلکہ معقول طور پر بتاتے کہ دیکھو نعمان میاں ارسطو نے عقل کے بارے میں یہ کہا ہے اور غزالی نے یہ کہا ہے، دیکھیے دونوں ایک ہی بات کہہ رہے ہیں اور دونوں عقل کی تعریف پر متفق ہو کر اب فلاں فلاں مسائل پر مکالمہ کر  رہے ہیں۔  اور برصغیر کے متکلمین غزالی و ارسطو کے برخلاف معنی لے رہے ہیں۔ چونکہ معقولاتی تکبر نے محض الفاظ کے ساحروں کو میدان میں اتارا ، اس لیے ہمارا حسن ظن ہے کہ بزعم خود امام المعقولات کو ارسطو و غزالی کا پڑھایا ہوا یاد نہیں رہا۔

3۔ جناب جوہر ایک جگہ فرماتے ہیں:

 ”دنیا بھر کے انسانوں میں عقل سے مراد ایک ہی ہے“

اور یہ کہ

”یونانی فلسفے اور کلام میں عقل کا معنی ایک ہی ہے“

آپ چاہیں تو اسے لطیفہ سمجھ کر محظوظ ہو سکتے ہیں۔ بھئی اگر عقل ایک آفاقی انسانی ملکہ ہے تو پھر آپ  یہ کیوں کہتے ہیں کہ ”اس وقت دنیا میں واحد فعال عقل کی شناخت مغربی ہے“؟ اگر عقل انسانی ملکہ ہے تو اسے مغرب تک محدود کرنا اور مسلمانوں کو اس سے مکمل عاری قرار دینا بذاتِ خود اس ”آفاقیت“ کے دعوے کی نفی ہے۔ نیز، اگر عقل ایک ہی ہے تو ”اسلامی عقل“ کی اصطلاح پر  آپ  کا اعتراض سمجھ آتا ہے لیکن پھر آپ ”مغربی عقل“ کی اصطلاح بطور ”غالب قوت“ کیوں قبول کرتے ہیں؟ اگر عقل ”اسلامی“ نہیں ہو سکتی تو ”مغربی“ کیسے ہو سکتی ہے؟

دعوے اور مواقف

1۔ جوہر صاحب کا موقف ہے کہ ”مسلم شعور، عمل اور ہمارے معاشروں کی شرائطِ دنیا پر تشکیل مکمل ہو چکی ہے“ اور یہ کہ ”زوالِ تہذیب اب صرف اپنی تکمیلات سامنے لا رہا ہے۔“

یہ موقف ایک شدید جبریت اور مایوسی پر مبنی ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ مسلمان اب تاریخ کے کوڑے دان کا رزق ہو چکے ہیں اور ان کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں، دراصل اسلامی تاریخ کے زندہ اور نامیاتی پہلوؤں کا انکار ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے اور اللہ کا وعدہ بھی ہے کہ اسلام غالب ہو کر رہے گا۔   لیکن جوہر صاحب کا فلسفہ مسلمانوں سے ’عمل‘ اور ’امید‘ چھین کر انہیں ایک ایسے فکری غار میں دھکیلتا ہے جہاں صرف آہ و بکا کی جا سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جوہر صاحب  نے عروج و زوال کا پیمانہ  ”شرائطِ دنیا“  سے مستعار لیا ہے اور اپنے اس ادھاری مال کو چھان پھٹک کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔

2۔ نعمان علی خان کے سوال (کہ کیا آپ علم سے روحانیت نکال رہے ہیں؟) پر جوہر صاحب کا طنز کہ یہ ”معنی ڈالنے اور نکالنے“ کا مسئلہ نہیں ہے، درست نہیں۔

جوہر صاحب یہاں جدیدیت کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ آپ  درپردہ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ”حقیقی علم“ اب صرف وہی ہے جو جدید سائنسی اور عقلی معیارات پر پورا اترے  اور مذہب یا روحانیت کا اس ”علم“ میں کوئی حصہ نہیں۔ قرآن میں ”علم“ کا اطلاق محض حسی اور عقلی معلومات پر نہیں ہوتا ۔ جوہر صاحب کا یہ کہنا کہ جدید علوم چونکہ روحانیت کو نہیں مانتے لہٰذا ہمیں بھی علم کی تعریف سے اسے الگ کر دینا چاہیے، دراصل ”سیکولر علمیات“ کو قبول کرنا ہے۔

3۔ جناب جوہر فرماتے ہیں کہ ”علم الانسان مالم یعلم“ کا سوال ہرمینیاتی  ہے، علمیاتی  نہیں۔

جناب کی یہ تقسیم ”جوہری“ یعنی مصنوعی اور جعلی ہے۔ قرآن مجید محض تفہیم کی کتاب نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے ”ماخذِ علم“ بھی ہے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا تو یہ ایک علمیاتی دعویٰ ہے کہ علم کا منبع اللہ ہے۔ جوہر صاحب کا اسے صرف ”ایمانی“ اور ”تفہیمی“ دائرے میں قید کرنا اور اسے عقل کے دائرے سے باہر نکالنا کانٹ کی طرح مذہب کو عقلِ محض سے بے دخل کرنے کے مترادف ہے۔

4۔ جوہر صاحب طعنہ دیتے ہیں کہ ہمارے لاشعور میں ایک ”انگریز“ بیٹھا ہے جس کی تصدیق کے بغیر ہم کچھ نہیں مانتے۔

یہ دراصل جوہر صاحب کا اپنا نفسیاتی مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ آپ خود مغربی فلسفے کے معیارات   سے اس قدر مرعوب ہیں کہ  مسلمانوں کی کسی بھی ایسی کوشش کو جو مغرب کے فریم ورک سے باہر ہو  اسے ”جہالت“ یا ”عقل کا خاتمہ“ قرار دیتے ہیں۔ آپ نعمان علی خان اور دیگر علما پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ مغرب سے مرعوب ہیں جبکہ آپ خود مغرب کی فکری بالادستی کو ایک ”اٹل حقیقت“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس سے فرار ممکن نہیں۔

5۔  نعمان علی خان کے دوسرے سوال   پر جوہر صاحب کا جواب ہے کہ ”عقل پہلے انسانی ملکہ ہے، پھر مسلم یا کافر۔“

یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ ”قوّتِ عقل“ ایک ہے لیکن نعمان علی خان کا سوال ”ماڈل آف ریزننگ“کے بارے میں تھا۔ یونانی عقل ”کلیات“  تک پہنچنے کی کوشش کرتی تھی اور جدید سائنسی عقل ”تجربیت“ اور ”جزیات“ پر مبنی ہے جبکہ قرآنی عقل کا ہدف  ”تذکر“، ”عبرت“ اور ”تقویٰ“ ہے۔ قرآن میں عقل محض منطقی جوڑ توڑ کا نام نہیں بلکہ یہ ”قلب“   کا فعل ہے۔ جوہر صاحب اس اہم فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے محض ”یونانی/انسانی“ عقل کے کھاتے میں ڈال کر قرآنی اصطلاح کی تخفیف کر رہے ہیں۔

خلاصہ

جوہر صاحب کی یہ تحریر ”فکری چودھراہٹ“ کی ایک مثال ہے۔آپ مجرد اور مبہم زبان استعمال کر کے قاری پر رعب ڈالتے ہیں کہ مسئلہ اتنا گہرا ہے کہ آپ کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ  کا رویہ انتہائی جارحانہ اور تحقیر آمیز ہے جو کہ خود ”مکالمے کی اساس“ کے خلاف ہے جس کا وہ ماتم کر رہے ہیں۔آپ مسئلے کی تشخیص تو کرتے ہیں لیکن اس کا حل پیش کرنے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور خود کوئی حل دینے کی بجائے صرف ”مایوسی“ اور ”تاریخی جبریت“ کا درس دیتے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ کہ ”جدید علوم میں توحید باقی نہیں رہ سکتی“ ایک خطرناک نتیجہ فکر ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر مسلمان ڈاکٹر، انجینئر یا سائنس دان کیسے موحد رہ سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس ”اسباب“ کا مطالعہ ہے اور ”مسبب الاسباب“ کا اقرار اس کے منافی نہیں لیکن جوہر صاحب فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھ کر عملی حقیقتوں کا انکار کر رہے ہیں۔ مولوی کو تو آپ تکفیری ہونے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن خود کسی کو بھی تکفیر کے دائرے سے نکلنے نہیں دیتے۔

Visited 15 times, 1 visit(s) today