وجاہت مسعود کا مضمون ”جنریشن زی کو لبرل سے نفرت کیوں ہے؟“

صابر علی

وجاہت مسعود صاحب کا زیرِ بحث مضمون جو بظاہر نئی نسل کی ایک مخصوص سیاسی اصطلاح سے بیزاری کا نوحہ ہے، درحقیقت اسی فرسودہ لبرل، سیکولر اور اشتراکی بیانیے کی بازگشت ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے مغربی استعمار اور فکری مرعوبیت کے سائے میں پروان چڑھا ہے۔ مصنف نے تاریخی حقائق کو اپنے مخصوص فکری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے جس میں تضاد بیانی، مفروضوں کی بہتات اور مسلمہ اسلامی و سماجی اقدار کو ہدفِ تنقید بنانے کا رجحان نمایاں ہے۔

پہلا مفروضہ: قدامت پسندی بمقابلہ روشن خیالی کا فرضی تضاد

مضمون کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ پاکستان میں دو ہی دھڑے رہے ہیں: ایک قلیل ”روشن خیال“ (جسے مصنف لبرل اور اشتراکی پس منظر سے جوڑتے ہیں) اور دوسرا عددی اکثریت والا ”قدامت پسند“دھڑا جسے وہ محض ریاست اور مقتدرہ کا پروردہ قرار دیتے ہیں۔ یہ استدلال علمی دیانت کے منافی ہے۔ مصنف یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں کہ اس خطے کے مسلمانوں کا اسلام—بالخصوص اہل سنت والجماعت کا روحانی اور فکری تسلسل—کسی فوجی طالع آزما یا ریاستی سرپرستی کا محتاج نہیں رہا۔ صدیوں سے خانقاہوں، مدارس اور علمائے حق نے جس دین کی آبیاری کی وہ اس معاشرے کی نامیاتی  حقیقت ہے۔ مصنف نے کمالِ ہوشیاری سے عوامی سطح پر موجود دین سے دلی وابستگی کو ”ریاستی بیانیے“ اور ”مفادات کے خوشہ چیں“ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے تاکہ لبرلزم اور اشتراکیت کے غیر فطری اور درآمد شدہ نظریات کو ”عوامی امنگوں“  کا مظہر قرار دیا جا سکے۔

دوسرا مفروضہ: اشتراکیت اور سرمایہ داری کا معرکہ اور لبرلزم کی قلابازیاں

مصنف نے برطانوی استعمار اور بعد ازاں امریکی سامراج کے ہاتھوں کمیونسٹوں پر ہونے والے مظالم کا طویل رونا رویا ہے۔ وہ ایم این رائے، بھگت سنگھ اور دیگر بائیں بازو کے رہنماؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہاں مصنف کا فکری تضاد بے نقاب ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کے مغربی بلاک (سرمایہ دارانہ نظام) کا حصہ بننے پر نالاں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ خود اسی مغرب کی کوکھ سے جنم لینے والے ”لبرلزم“  کی وکالت کر رہے ہیں۔

اشتراکیت (جسے سوویت یونین کی سرپرستی حاصل تھی) اور سرمایہ داری (جس کی قیادت امریکا کر رہا تھا) دونوں ایک ہی مادی فلسفے کے دو رخ ہیں۔ ایک نے انسان کو ریاست کی مشین کا پرزہ بنا کر اس کی روحانیت چھین لی اور دوسرے نے اسے منڈی کا صارف بنا کر سرمائے کی ہوس میں مبتلا کر دیا۔ وجاہت مسعود اشتراکی روس کی مالی اور فکری سرپرستی میں چلنے والی مقامی تحریکوں کو تو ”ترقی پسند“ قرار دیتے ہیں لیکن جب ریاستِ پاکستان یا دیگر حلقے کسی اور بلاک کا حصہ بنتے ہیں تو ان کی تنقید جاگ اٹھتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں نظام باطل ہیں کیونکہ دونوں کی بنیاد الحاد، لادینیت اور مادیت پر ہے۔

تیسری تضاد بیانی: 1970 کے انتخابات اور مقتدرہ کی سرپرستی کا دوہرا معیار

مسعود نے 1970 کے انتخابات کو مثال بنا کر دعویٰ کیا ہے کہ اسلام پسندوں کو ریاستی سرپرستی کے باوجود شکست ہوئی۔ یہاں مصنف جان بوجھ کر اس تاریخی حقیقت کو گول کر گیا  کہ اس انتخاب میں عوامی لیگ کی جیت لسانی عصبیت اور پیپلز پارٹی کی جیت ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کے اس اشتراکی سراب  پر مبنی تھی جس کا انجام بعد ازاں سقوطِ ڈھاکہ اور قومی معیشت کی تباہی (نیشنلائزیشن کے ذریعے) کی صورت میں نکلا۔  مزید برآں، مصنف ضیاء الحق کے دور میں ”لبرلز“ کے عتاب کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ پرویز مشرف کے دور میں اسی نام نہاد ”روشن خیالی“  کو ریاستی سرپرستی میں نافذ کیا گیا۔ اگر مقتدرہ کی سرپرستی قدامت پسندوں کو داغدار کرتی ہے تو اسی مقتدرہ کی ٹینکوں پر سوار ہو کر آنے والے اور مشرف کے دربار میں جبہ سائی کرنے والے لبرلز کیسے پاک دامن ہو گئے؟

جنریشن زی کی لبرلزم سے بیزاری: تاریخی جبر یا فکری ارتقاء؟

مضمون کا آخری حصہ جو عمران خان اور جنریشن زی (نئی نسل) کے گرد گھومتا ہے، مصنف کی شدید فکری مایوسی ظاہر کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ نوجوان نسل لبرل ازم کے معنی جانے بغیر اس سے نفرت کرتی ہے اور اس کے پیچھے محض عمران خان کا بیانیہ ہے۔ یہ تجزیہ انتہائی سطحی ہے۔

آج کی باشعور نسل اگر لبرل ازم سے بیزار ہے تو اس کی وجہ محض سیاسی تقاریر نہیں ہیں بلکہ وہ اس لبرل ورلڈ آرڈر کی منافقت اور اخلاقی دیوالیہ پن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ لبرلزم نے آزادیِ رائے کے نام پر انبیاء کی توہین کو روا رکھا، خاندانی نظام کو تباہ کیا، اخلاقیات کو اضافیت کی بھینٹ چڑھایا اور انسانی حقوق کے نام نہاد دعویداروں نے غزہ و کشمیر میں سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ یہ نفرت بے جا نہیں بلکہ لبرلزم اور سرمایہ داری کے کھوکھلے پن کے خلاف ایک شعوری یا لاشعوری ردعمل ہے۔

حاصلِ کلام

وجاہت مسعود کا یہ مضمون علمی استدلال سے زیادہ ایک مخصوص اور مرجھائے ہوئے سیکولر طبقے کی حسرتِ ناتمام کا اظہار ہے۔ یہ تحریر اس بنیادی سچائی کو ہضم کرنے سے قاصر ہے کہ پاکستان کے عوام اور خصوصاً مسلم نوجوانوں کا حقیقی اور فطری رشتہ نہ تو کارل مارکس کے فرسودہ نظریات سے ہے اور نہ ہی جان لاک اور جے ایس مل کی مادر پدر آزاد لبرل اور سرمایہ دارانہ اقدار سے ہے۔ ان کی فکری اساس اسلام اور اہل اسلام کا وہ روشن، متوازن اور روحانی راستہ ہے جو ہر قسم کی انتہا پسند مادیت رد کرتا ہے۔ مصنف کو چاہیے کہ وہ لبرلزم سے نئی نسل کی بیزاری کو سازشی نظریات میں تلاش کرنے کے بجائے خود اس نظامِ فکر کی اندرونی خامیوں، اخلاقی انحطاط اور استعماری تاریخ کا علمی محاسبہ کریں۔

Visited 20 times, 20 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *