کیا خدا غصہ کرتا ہے؟

صابر علی

کائے ہینز کی کتاب ”اوریجن آن ڈیمونک ایگزیکیوشنز“ کے صفحات پلٹتے ہوئے ایک ایسے موضوع سے سامنا ہوا جو الہیات، فلسفے اور عام انسانی نفسیات کے سنگم پر کھڑا ہے۔ وہ موضوع ہے ”خدا کا غصہ“۔ ہم پڑھتے ہیں کہ خدا اپنی نافرمان قوموں پر غضب ناک ہوا، اس کا قہر بھڑکا اور اس نے انہیں نیست و نابود کر دیا۔ لیکن یہیں پر عقل ایک ٹھوکر کھاتی ہے اور فلسفہ ایک سوال اٹھاتا ہے: کیا خدا واقعی ”غصہ“ کرتا ہے؟ کیونکہ غصہ تو ایک انسانی جذبہ ہے جس میں انسان کا خون کھولتا ہے، عقل مغلوب ہوتی ہے اور وہ انتقام پر اتر آتا ہے۔ اگر خدا ایک کامل، غیر متغیر اور قدیم ہستی ہے تو کیا اس کے اندر جذبات کا یہ مدوجزر ممکن ہے؟ ہینز نے اسکندریہ کے اوریجن کی فکر کا جو تجزیہ پیش کیا ہے، وہ اس گتھی کو سلجھانے کی ایک حیران کن اور اچھوتی کوشش ہے۔

اوریجن کے دور میں یہ سوال ایک بڑا بحران بن چکا تھا۔ مارسین جیسے لوگ پرانے عہد نامے کے خدا کو اسی لیے رد کر رہے تھے کہ وہ انہیں ایک جذباتی، لڑاکا اور غصیلا خدا لگتا تھا جبکہ یونانی فلسفی عیسائیوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ تم ایک ایسے خدا کو مانتے ہو جو بچوں کی طرح روٹھ جاتا ہے اور غصے میں آ جاتا ہے۔ اوریجن نے اس حملے کا دفاع کرنے کے لیے ایک ایسا علمی راستہ نکالا جو بظاہر عجیب لگتا ہے مگر اس کی تہہ میں گہری معنویت ہے۔ اوریجن کا دعویٰ ہے کہ بائبل میں جہاں جہاں ”خدا کے غضب“  کا ذکر ہے، وہ خدا کی ”ذاتی کیفیت“ کا بیان نہیں ہے بلکہ وہ ایک ”استعارہ“ ہے۔ لیکن یہ کیسا استعارہ ہے؟ اوریجن کہتا ہے کہ ”خدا کا غصہ“ دراصل کوئی جذبہ نہیں بلکہ یہ ایک ”خارجی وجود“ ہے جسے خدا گناہگاروں کی طرف بھیجتا ہے۔ اور وہ وجود کیا ہے؟ وہ ”شیطان“ اور اس کے ”جلاد فرشتے“ ہیں۔

کتاب میں اوریجن کی تفسیر کا یہ پہلو بہت دلچسپ ہے کہ وہ زبور (Psalm 78:49) کی اس آیت کو اپنی دلیل بناتا ہے جہاں لکھا ہے کہ ”اس نے اپنا قہر، غضب اور مصیبت ان پر بھیجی۔۔۔ یعنی بدروحوں کا ایک لشکر۔“ اوریجن یہاں سے یہ نکتہ نکالتا ہے کہ جب صحیفے کہتے ہیں کہ ”خدا کا قہر نازل ہوا“ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے اندر کوئی آگ بھڑکی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان اور اپنے درمیان سے حفاظت کا پردہ ہٹا لیا اور ان ”بدروحوں“ کو راستہ دے دیا جو پہلے ہی انسان کو چیر پھاڑنے کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ گویا جسے ہم ”قہرِ الٰہی“ سمجھتے ہیں وہ دراصل ”شیطانی وار“ ہے جسے خدا کی حکمت نے اجازت دی ہے۔

اوریجن  کہتا ہے کہ خدا تو سراپا محبت اور خیر ہے، وہ غصہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ تو ہم انسان ہیں جو اپنی محدود سمجھ کی وجہ سے ان تکالیف کو ”خدا کا غصہ“ کہتے ہیں جو درحقیقت ہماری اپنی کرتوتوں کی وجہ سے شیاطین کے ذریعے ہم پر مسلط ہوتی ہیں۔ ہینز بتاتا ہے کہ اوریجن کے نزدیک صحیفوں میں غصے، دھمکیوں اور قہر کے الفاظ دراصل خدا کی ”تربیتی اداکاری“ ہے۔ جیسے ایک شفیق باپ اپنے نادان بچے کو آگ میں ہاتھ ڈالنے سے روکنے کے لیے مصنوعی غصہ دکھاتا ہے اور ڈراؤنی شکل بناتا ہے تاکہ بچہ ڈر جائے، بالکل اسی طرح خدا بھی اپنے کلام میں ”غصے“ کی زبان استعمال کرتا ہے تاکہ انسان گناہ سے باز آ جائیں۔ لیکن عملی طور پر جب سزا ملتی ہے تو وہ سزا خدا اپنے ہاتھ سے نہیں دیتا بلکہ وہ ”قدرتی نتائج“ کی صورت میں نکلتی ہے جن کے کارندے شیاطین ہیں۔ اوریجن کا یہ جملہ بہت بلیغ ہے کہ ”گناہگار اپنے لیے خود آگ بھڑکاتا ہے۔“ یعنی جہنم یا دنیاوی عذاب خدا کا انتقام نہیں بلکہ انسان کی اپنی پیدا کردہ وہ بیماری ہے جس کا علاج خدا ان ”آسمانی جلادوں“ کے کڑوے نشتروں سے کرتا ہے۔

اوریجن کی یہ کوشش خدا کی ”تنزیہ“ (Transcendence) کو بچانے کی ایک انتہا پسندانہ شکل ہے۔ وہ خدا کے دامن پر ”شر“ یا ”جذبات“ کا کوئی دھبہ نہیں لگنے دینا چاہتا۔ لیکن اس کوشش میں وہ بائبل کے خدا کو ایک ایسے مجرد فلسفیانہ اصول  میں بدلنے کا خطرہ مول لیتا ہے جو براہِ راست تاریخ میں مداخلت نہیں کرتا۔ اللہ ”ذوالانتقام“ بھی ہے اور ”الرؤف الرحیم“ بھی۔ وہ اپنے بندوں سے محبت بھی کرتا ہے اور نافرمانوں پر غضب بھی فرماتا ہے لیکن اس کا غضب اس کی شان کے مطابق ہے، ہماری انسانی کیفیات کی طرح نہیں۔

Visited 4 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *