مبادی الاولیٰ کی وجودی ضرورت (مقدمہ)

کریم لحام / صابر علی

یہ کہنا محفوظ ہے کہ یونیورسٹی یا اسکول کی تعلیم تک رسائی، علم تک رسائی کے مترادف نہیں ہے۔ مزید برآں، حقائق کا جمع کرنا اور رٹ لینا کبھی بھی   علم کا نعم البدل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے مساوی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس، روایتی ماڈل میں علم ان اصولوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جو اشیاء کا باہمی تعلق اور ان کی ترتیب متعین کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مابعدالطبیعیات کا وہ بنیادی ڈھانچہ جو تمام نظریاتی علم میں سرایت کیے ہوئے ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عقل کی عفونت کبھی بھی ماورائی امنگوں کا گلا نہ گھونٹ سکے؛ کیونکہ مابعدالطبیعیات اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ علم کا ڈھانچہ  بصیرت سے تعلق رکھتا ہے جو ادراکی عمل کی تکمیل یا کمال کے لیے مشاہدے کی ضرورت کو یقینی بناتا ہے۔

اس پروجیکٹ کے محرک اصول بلا جھجک اشعری عقائد کے مکمل مابعدالطبیعیاتی اقرار سے پھوٹتے ہیں (خواہ اسے پیش کرنے کا انداز غیر روایتی ہی کیوں نہ ہو) اور تصوف میں جنید بغدادیؒ کے مکتبِ فکر کی غیر مشروط پیروی پر مبنی ہیں۔ بہت سے علمی حلقوں میں جدیدیت کے اثرات کے باعث ان مرکزی اور اہم نظریات سے پسپائی کی وجہ سے اشعری عقائد کا جو زوال ہوا ہے، اس کا ابھی تک کوئی مؤثر مداوا نہیں ہو سکا۔ حال ہی میں عقائد کے اس زوال کو روکنے کے لیے ایک ردعمل پر مبنی اور جارحانہ نو اشعریت کی کوشش سامنے آئی ہے جس نے عقیدے کو اس طرح عقلی دلائل کا اکھاڑا بنا دیا ہے کہ یہ کسی سنجیدہ علمی فورم کے بجائے کشتی کے میدان کے ماحول   کے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

اسلامی علوم کی منتقلی میں تدریسی منہج کی اتھارٹی ایک اور سوال ہے جس پر بہت زیادہ غور و خوض کیا گیا ہے۔ یہاں بھی اس بات پر بہت سیاہی بہائی گئی ہے کہ آیا روایتی طریقوں کو زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے یا زیادہ تنقیدی اور تاریخی پوزیشن اختیار کرنی چاہیے یا پھر انہیں سرے سے ختم ہی کر دینا چاہیے۔ ان ڈھیروں اعتراضات سے جو سوال کشید کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا علوم کی منتقلی کے روایتی طریقے اس علم کا لازمی حصہ تھے جو پڑھایا جا رہا تھا اور اس بنا پر اپنی بنیاد میں مقدس و محترم تھے یا وہ محض اتفاقی اور صرف عملی اہمیت کے حامل تھے؟ یعنی یہ کہ کیا علم کی منتقلی کے طریقہ کار کو اصل علم سے الگ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جو جواب اور جس انداز میں یہ جواب دیا جائے گا، لازمی طور پر اسلامی عقلی علوم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

ہمارا استدلال ہے کہ ان مذکورہ معاملات پر کوئی بھی گفتگو مابعدالطبیعیاتی ہم آہنگی پر مبنی ہونی چاہیے، اسے سمجھنا چاہیے اور اس کا پابند ہونا چاہیے۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ درست گفتگو کو مابعدالطبیعیاتی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے جو کہ خود حقیقتِ مطلقہ  کے نظام کا پرتو ہیں۔ پہلا مقالہ مابعدالطبیعیات کے ان ہی اولین اصولوں میں سے ایک یعنی اصولِ ذات کا اس کی منطقی شکل یعنی اصولِ عدم تناقض  میں جائزہ لیتا ہے اور اس کے مابعدالطبیعیاتی اور منطقی پہلوؤں کے درمیان تعلق واضح کرتا ہے۔

دوسرا مقالہ تعریف کی ماہیت کا جائزہ لیتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ آیا مؤخر الذکر ایسے تصوراتی علم کو آگے بڑھانے میں مؤثر ہے جسے حقیقی یا معروضی سمجھا جا سکے۔ تیسرا مقالہ نفس الامر کے نظریے کی مختلف تفہیمات کو بیان کرتے ہوئے  معروضیت کے تصور کا امتحان لیتا ہے۔ اگر عقل اضافی اور تعلق پر مبنی ہے تو ہم اپنی فکر کے معروض  کو اس کی اپنی ذات میں، اس ساختی اضافیت سے قطع نظر کس طرح جان سکتے اور متعین کر سکتے ہیں؟

حق کیا ہے اور اسلامی علمی روایت میں ہم اس تک کیسے پہنچتے ہیں، یہ پہلے تین مقالات کا مرکزی نقطہ ہے۔ حقیقت کے مختلف درجات کو سمجھنے میں علوم کے کردار کی مرکزیت کو اس بات کی کلید سمجھا جاتا ہے کہ ہم درجہ بندی کی ضرورت سمجھیں اور اگر درجہ بندی ہے تو پھر علم کی ترتیب بھی لازمی ہے۔ ہر عقلی ادراک علم کی ترتیب میں کسی نہ کسی سائنس کے تابع ہوتا ہے۔ جس طرح حقیقت اپنے پہلوؤں میں کثیر الجہتی ہے اسی طرح علم بھی ہے، اس معنی میں کہ ہم وجود یا حقیقت کے درجات اور علم کے درجات کے درمیان براہِ راست تعلق کی بات کر سکتے ہیں۔ یہ ایک کائناتی  سچائی بھی ہے اور مابعدالطبیعیاتی  سچائی بھی، کیونکہ روایتی تناظر میں دنیا کو کبھی بھی محض یک جہتی نہیں سمجھا جا سکتا۔

وہ علامتی ذہنیت  جو کسی بھی سنجیدہ مابعدالطبیعیاتی کام کے لیے ضروری ہے، کائنات کے اس وژن سے جنم لیتی ہے جیسے پہیے کے اندر پہیے ہوں؛ آپس میں گندھی ہوئی اور جڑی ہوئی جہتیں جو ایک ایسی ترکیبی وحدت  ظاہر کرتی ہیں جو مذہبی معنی کا تسلسل  یقینی بناتی ہے۔ یہ حقیقت میں چیزوں کو ان کے الگ الگ پہلوؤں کے بجائے ان کے وحدتی پہلوؤں میں دیکھنا ہے۔ یہ نقطہ نظر دنیا کو مابعدالطبیعیاتی طور پر شفاف دیکھتا ہے، ایک ایسی جگہ جسے خدا کی صفات اور کمالات کو سمجھنے کے لیے چھانا جا سکتا ہے اور یوں ہمیں ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنے اور اس سے زیادہ اہم یہ کہ ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

عقل کا دائرہ ”عقلیات“ کے دائرے کو سمجھنے اور متعین کرنے کے لیے ضروری ہے جس میں تینوں بنیادی مقالات واقع ہیں۔ جس طرح عقل کی سچائیاں کبھی بھی قرآن اور سنت کے ساتھ متصادم نہیں ہو سکتیں، ہم یہ بھی وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اور سنت کی سچائیاں کبھی بھی غیر معقول نہیں ہو سکتیں۔ اس کے باوجود، عقل قدرتی طور پر سچائیوں کے لیے ایک حد تک ثالث کا کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ عقل کی انفعالیت  ہی ہے جو ادراکی صلاحیت کے اعلیٰ ترین درجات کو یقینی بناتی ہے۔

منطق کا استعمال درست گفتگو کا تعین کرنے اور درست فیصلے صادر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم منطق بڑی حد تک ایک طریقہ کار ہے، علم بذاتِ خود نہیں؛ یہ ایک ایسا اوزار ہے جو فکر کے عمل کی توثیق کرتا ہے لیکن فکر کا مواد تخلیق نہیں کر سکتا۔ اس لیے انسان کے پاس پہلے کچھ ہونا چاہیے جس پر منطق کام کر سکے، ایک مقدمہ  جہاں سے وہ آگے بڑھ سکے۔ لہٰذا اس کی بنیاد مابعدالطبیعیات میں ہے اور چونکہ حقیقت میں کوئی دراڑ نہیں ہے، اس لیے عقلی کا انحصار حقیقت پر ہے، نہ کہ صرف خارجی دنیا پر جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

اس طرح منطقی کبھی بھی مابعدالطبیعیاتی کا متضاد نہیں ہو سکتا اور مابعدالطبیعیاتی کبھی غیر منطقی نہیں ہو سکتا۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان یہ ہم آہنگی اور تسلسل ایک درست عقلی گفتگو کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے جو کہ منطق کو مابعدالطبیعیات کے اصولوں کے تابع کرنے سے کم نہیں۔ اگرچہ مابعدالطبیعیات کی سچائیاں ہم پر اسی طرح مسلط ہیں جیسے حقیقت ہم پر مسلط ہے، لیکن عقلی دائرہ اس لیے موجود ہے کہ ہم ان سچائیوں کو بے نقاب کریں، انہیں اصولی غور و فکر یا بصیرت کے ذریعے دریافت کریں۔ اسی طرح ہر دور کو اصول کی طرف واپسی کی پکار لگانی چاہیے تاکہ انسانی روح کی اس صلاحیت کی حفاظت کی جا سکے جس کے ذریعے وہ اپنی وجودی حالت کو سمجھتی ہے، ایک ایسی حالت جو وقت اور مقام سے قطع نظر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔

Visited 23 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *