نظریہ ائتمانیہ یہ طے کرتا ہے کہ ”عالمِ مواثقہ“ (عہدِ ازل) میں ”فطرت“ (فطرتِ سلیمہ کے مفہوم میں) اور ”عقل“ (صریح عقل کے مفہوم میں) کے مابین تعلق محض ”تضمن“ (Inclusion) کا نہیں ہے بلکہ یہ وساطت (توسل) کا رشتہ ہے۔ یعنی ”عقل“ ”فطرت“ کا محض ایک حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے فطرت کے مضامین کا حصول ممکن ہوتا ہے جو الوہی صفات سے متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ ”فطرت“ دراصل وہ معرفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے، اُس کی کمالات کے ساتھ معرفت کروانے کے طفیل حاصل ہوئی جو اولادِ آدم کی وراثت میں منتقل ہوئی۔ اور چونکہ یہ الوہی تعرُّف ہی ”فطرت“ کے وجود کا سبب ہے، یہ ربّ کے اوصاف کے ادراک کی وہ صلاحیت ہے جسے عقل نے ان الوہی صفات کے ذریعے تقویت بخشی ہے اور یہ عقل انہی سے روحانی معانی اور اخلاقی اقدار اخذ کرتی ہے۔ چونکہ یہ الوہی تعارف ”میثاقِ اشہاد“ کے دن حاصل ہوا تھا، اس لیے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ”فطرت“ ایک صریح شہودی عقل کے توسل سے عمل پیرا ہوتی ہے۔
چنانچہ جلالِ الٰہی کے شایانِ شان یہ نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اس تعرف کے وجود سے قبل ہی عقل کا وجود متقدم تھا، چہ جائیکہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ انسان عقل مند پیدا ہوئے—جیسا کہ بعض روایات یا تفاسیر میں آیا ہے کہ بنی آدم کی اولاد میں اس کے اجزاء میثاق سے پہلے ہی موجود تھے یہاں تک کہ ان سے شہادت لی گئی۔
اور جب انسان کو ”عالمِ معاملہ“ میں لایا گیا تو اس پر دو واجبات عائد ہوئے:
پہلا، آثارِ اشہاد کی حفاظت کا واجب؛ یعنی اس پر لازم ہے کہ وہ ان معانی اور اقدار کو محفوظ رکھے جن کی وراثت اسے ”یومِ اشہاد“ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے کمالات کی معرفت سے ملی ہے یعنی اسے بحیثیتِ مضمون و وسیلہ ”فطرت“ کی حفاظت کرنی ہے۔
دوسرا، تعامل کا واجب یعنی اس پر لازم ہے کہ وہ اس میثاق کو پورا کرے جو اس سے لیا گیا تھا۔ یہ وفائے عہد تقاضا کرتا ہے کہ وہ ”فطرت“ کے روحانی مخفی خزانوں کو بروئے کار لائے اور اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق ان کے اخلاقی امکانات محقق کرے۔
اور چونکہ یہ مخفی خزانے اور فطری امکانات صفاتِ الٰہیہ کے آثار ہیں، اس لیے انسان کے لیے لازم ہے کہ ان مطلق صفات کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان صفات کو باہر لانے اور ان کو عملی شکل دینے کے عمل میں مستعد رہے، ہر اس چیز کو واپس اسی ذات ِالٰہی کی طرف لوٹائے جسے وہ نکالتا ہے اور جو کچھ وہ محقق کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کاموں کو اس طریقے سے سرانجام دے جو مطلوب ہے۔ اور ان صفاتِ الٰہیہ سے جڑے ہوئے اس استخراج اور تحقیق کا خاصہ یہ ہے کہ یہ ”فطرت“ کو تعامل کے میدان میں اشہادی افق فراہم کرتے ہیں جو اس کے مختلف شعبوں میں وسعت اختیار کرتے ہوئے اختیارات کے لیے حد بندی اور تصرفات کے لیے رہنمائی کا کام انجام دیتے ہیں۔
اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ”استخراج“ اور ”تحقیق“ محض کوئی سی صورت یا رتبہ اختیار کرتے ہیں جو سب کے لیے یکساں ہو۔ کیونکہ ان کی صورتیں اور درجات، صفاتِ الٰہیہ کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کی صلاحیت اور اس کے اسالیب کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ چنانچہ لوگ اپنے اعمال کی ادائیگی کے وقت ان صفاتِ الٰہیہ کی جانب متوجہ ہونے میں برابر نہیں ہیں۔ یہ توجہ کسی کے ہاں کمزور ہو سکتی ہے یہاں تک کہ اس سے ادنیٰ درجہ نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے ہاں اس قدر قوی ہو سکتی ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس تعلق میں تفاوت کے باوجود وہ ”عقل“ جس کے ذریعے ان دونوں عملیات (استخراج و تحقیق) تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، ایک ”رہنمائی یافتہ عقل“ (عقلِ مسدّد) سے عبارت ہے اور اس کی رہنمائی کی شدت اسی مذکورہ تعلق کی مقدار کے تابع ہوتی ہے۔
رہا یہ سوال کہ اگر یہ تعلق یکسر منقطع ہو جائے تو” عقل“ محض ایک مجرد عقل بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن اس تجرید کا مطلب فطرت سے کلی خروج نہیں ہے، کیونکہ یہ عقل اب بھی صفاتِ الٰہیہ کے آثار یعنی معانی و اقدار کا کسی نہ کسی حد تک ادراک کرنے پر قادر رہتی ہے۔ البتہ اس کا مطلب ان آثار کو ان کے اصلی اسباب (یعنی صفاتِ الٰہیہ) سے جدا کر دینا ہے جس کے نتیجے میں عقل رہنمائی کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے کیونکہ ان کمالاتِ الٰہیہ کی جانب متوجہ ہوئے بغیر رہنمائی ممکن نہیں ۔
اور جب یہ طے پا گیا کہ ”عقل“ دراصل ”فطرت“ کا ایک وسیلہ ہے تو اس کے نتیجے میں تین نتائج برآمد ہوتے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے:
اول نتیجہ یہ کہ عقل اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ”غیر نظری“ فطری وسیلہ ہے۔ چونکہ ”تعامل“ کا مطلب ”میثاقِ اشہاد“ کے تقاضے پورے کرنا ہے لہٰذا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ”عقل“ فطری ہو اور ان میثاقی تقاضوں کو پورا کرنے سے پیدا ہو۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ ”میثاقِ اشہاد“ ہی ”فطرت“ کی اصل ہے جو اخلاقی مضمون اور ادراکی وسیلے پر مشتمل ہے۔
کوئی معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ ”عقل“ بنیادی طور پر استدلالی ہے اور استدلالی امر فطری امر کے متضاد ہے۔ اس کا جواب دو پہلوؤں سے دیا جاتا ہے:
ایک (شکل کے اعتبار سے)، یہ کہ فطری امر ایک ”ضروری“ شے ہے جس سے کسی صورت مفر ممکن نہیں۔
اور استدلال، ہم اسے خواہ کتنی ہی دور لے جائیں، بہر حال اس کی بنیاد ان اولین ضروری مقدمات پر ہونی چاہیے جن سے مفر ممکن نہیں۔
دوسرا (مضمون کے اعتبار سے)، یہ کہ فطری امر ایک واضح اقدار پر مبنی شے ہے اور استدلال کو خواہ ہم اسے کتنا ہی مجرد کر لیں بہر حال کسی نہ کسی قدر پر مبنی (چاہے وہ ظاہر ہو یا خفی) ہونا چاہیے۔
