ابنِ تیمیہ کا فکری انہماک ”عقل“ اور ”فطرت“ کے باہمی تعلق کے گرد گھومتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں موضوعات پر اُن کی گفتگو اس قدر باہم دگر پیوست ہے کہ ان کے مابین تعلق کی نوعیت کے بارے میں ان کا بیان ایک خاص قسم کے اضطراب کا شکار معلوم ہوتا ہے۔ اس تعلق کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے کئی ایک پہلو اختیار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ دونوں (عقل اور فطرت) کبھی ایک دوسرے میں مدغم، کبھی الگ تھلگ، کبھی مترادف اور کبھی ایک دوسرے کی ضد دکھائی دیتے ہیں۔
اجمالی طور پر ان کے موقف کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ابنِ تیمیہ نے عقل کی دو اقسام میں تفریق کی ہے: ایک وہ عقل جو نقل (وحی) سے متصادم ہوتی ہے اور دوسری وہ عقل جو نقل سے ہرگز نہیں ٹکراتی۔ ان کے نزدیک وہ عقل جو نقل سے ٹکراتی ہو، وہ خود فاسد ہے؛ جبکہ وہ عقل جو نقل کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہے، وہ عقل صحیح ہے اور اسے وہ ”عقلِ صریح“ کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح ابنِ تیمیہ نے ”فطرت“ کی بھی دو اقسام بیان کی ہیں: ایک وہ فطرت جو ”صحیح عقل“ سے مطابقت رکھتی ہے اور دوسری وہ جو اس سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ جو فطرت عقلِ صحیح سے مطابقت رکھتی ہے، وہ ”فطرتِ سلیمہ“ ہے؛ جبکہ جو اس سے مطابقت نہیں رکھتی، وہ ایسی فطرت ہے جس میں فساد آ چکا ہے جس کی وجہ آباء و اجداد کی اندھی تقلید اور رسم و رواج کے اثرات ہیں۔
”فطرتِ سلیمہ“ اور ”صریح عقل“ کے مابین تعلق کا ایک کلیدی پہلو ”تضمن“ (Implication) کا ہے۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ ”تضمن“ دو اطراف یعنی فطرت اور عقل کے مابین ایک ایسا رشتہ ہے جس میں ایک کا دوسرے کے اندر اندراج ہوتا ہے۔ چنانچہ، اب ہم سہولت کے لیے صرف ”فطرت“ اور ”عقل“ کے الفاظ ہی استعمال کریں گے۔
ابنِ تیمیہ کے نزدیک ”عقل“ دراصل ہمارے باطن میں موجود ایک ”غریزہ“ (instinct) ہے(1)۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ”عقل، نفس میں ایک ایسی غریزہ اور قوت ہے جس کی حیثیت ہم میں بالکل ویسی ہی ہے جیسے آنکھ میں بصارت کی قوت“ (2)۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر رقم طراز ہیں: ”عقل سے مراد وہ غریزہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت کیا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے ادراک کر سکے“۔ اگرچہ ابنِ تیمیہ نے صراحت کے ساتھ ”فطرت“ کو ”غریزہ“ نہیں کہا، تاہم آپ بعض اوقات اسے ”غریزہ“ کے اوصاف سے متصف کرتے ہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں ”بلاشبہ معرفتِ الٰہی قلوب میں پیوست (مغروزہ) ہے“ یا آپ ”فطری“ کے لفظ کو ”غریزی“ کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں یا ایک وصف کو دوسرے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس حالت میں ”عقل“ بحیثیت غریزہ، ”فطرت“ کے ضمن میں شامل ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس، اگرچہ ابنِ تیمیہ نے صراحت کے ساتھ ”فطرت“ کو ”عقل“ نہیں کہا مگر آپ بعض اوقات ”عقل“ کو ”فطرت“ کے اوصاف سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ ان کا قول ہے ”بلاشبہ اللہ نے اپنے بندوں کو فطرت پر پیدا کیا ہے اور سلیم العقل لوگوں کو حق کی معرفت پر فطرتی طور پر آمادہ کیا ہے“ (3) یا آپ ”عقلی“ کے لفظ کو ”فطری“ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ آپ کا قول ہے: ”یہ ان عقلی مقدمات میں سے ہے جن پر سلیم الفطرت عقلاء کا اتفاق ہے“ (4)؛ یا آپ ایک وصف کو دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں جیسے آپ کا قول ہے ” فطری عقلی شرعی طریقے حقیقت کے قریب تر ہیں“ (5)۔ بلکہ ابنِ تیمیہ اس سے بھی آگے کی بات کرتے ہیں اور ”فطرت“ کو ”عقل“ کی طرح سوچنے اور استدلال کرنے والی قوت قرار دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں ”صحیح عقلی اصول وہی ہیں جو سلیم فطرت کے نزدیک معقول ہوں، بشرطیکہ ادراک میں کوئی فساد نہ آیا ہو“ (6)۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں”جب اسے تصور کیا جائے — یعنی ملزوم کے ساتھ لوازم پر استدلال — تو فطرت اسے مختلف پیرایوں اور صوری دلائل سے بیان کرتی ہے“(7)۔ اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس دوسری صورت میں ”فطرت“ ”عقل“ کے اندر متضمن (Inclusion) ہوتی ہے۔
ابنِ تیمیہ کے اس تصورِ تضمن (یعنی عقل اور فطرت کے باہمی تعلق) پر درج ذیل نکات پیش ہیں:
الف۔ ابنِ تیمیہ نے ”فطرت“ کے مفہوم کو علمی میدان میں ایک ایسی نئی جہت بخشی ہے جو ان سے پہلے کسی نے نہیں دی؛ آپ نے اسے ”عقل“ کے ساتھ مربوط کر دیا اور اس طرح ابنِ سینا کے اس موقف کو رد کر دیا جس میں وہ ”فطرت“ کے ادراکات کو محض ”وہمّی قضیوں“اور ”مشہور قضایا“ تک محدود کر دیتے تھے(8)۔
ب۔ یہ باہمی ارتباط دونوں میں سے ہر ایک کی اپنی مخصوص حیثیت باقی رکھتا ہے، بلکہ اس کا استقلال برقرار رکھتا ہے۔ چنانچہ ”عقل“ اپنے کچھ مدرکات میں ”فطرت“ سے بے نیاز ہو جاتی ہے بالخصوص ”مجرد مفاہیم“ اور ”مرکب دلائل“ کے معاملے میں۔ جب معاملہ ایسا ہو تو ”عقل“ دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے یعنی ”عقلِ فطری“ اور ”عقلِ غیرِ فطری“ ۔ اور یہی وہ ”عقلِ غیرِ فطری“ ہے جو ”عقل“ کو ایک امتیازی علمی ملکہ بناتی ہے۔ اسی طرح ”فطرت“ بھی اپنے کچھ ادراکات میں ”عقل“ سے بے نیاز ہو جاتی ہے بالخصوص ”روحانی معانی“ اور ”اعلیٰ اقدار“ کے حوالے سے۔ جب معاملہ ایسا ہو تو ”فطرت“ بھی دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے یعنی ”فطرتِ عقلیہ“ اور ”فطرتِ غیرِ عقلیہ“ اور یہی ”فطرتِ غیرِ عقلیہ“ ”فطرت“ کو ایک الگ امتیازی علمی ملکہ بناتی ہے۔
ج۔ ”عقل“ میں ”فطرت“ کی تضمین (شمولیت) کی صورت میں عقل کا فطری جزو اس کے غیرِ فطری جزو کے مقابلے میں اعلیٰ عقلی رتبے پر فائز ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”فطرت“ کی اصل تو ”عہدِ الست“ کی طرف لوٹتی ہے جبکہ ”عقلِ غیرِ فطری“ کا تعلق اس میثاق کو عملی زندگی میں لاگو کرنے کے لیے انسان کی اپنی اکتسابی کوشش سے ہے۔ اس رتباتی تفاوت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان دونوں اجزاء میں سے جو اعلیٰ تر ہے یعنی ”فطرت“ وہ اس بات کا زیادہ حق رکھتی ہے کہ وہ اپنے سے ادنیٰ جزو یعنی ” عقل اکتسابی“ کی اصلاح و رہنمائی کرے۔
اور اس رہبری کا تقاضا یہ ہے کہ یہ فطری جزو ہی ادنیٰ عقل کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ ان تمام معانی اور اقدارِ فطریہ کی پاسداری کرے جو اس کے مدرَکات اور تصرفات سے برآمد ہوتے ہیں۔
د۔ ابنِ تیمیہ کا ماننا ہے کہ فطرت پر بعض اوقات فساد بھی عارض ہو سکتا ہے جیسا کہ آپ کا قول ہے کہ ”فطرت پر کبھی ایسا امر عارض ہو سکتا ہے جو اسے بگاڑ دے اور وہ حق کو باطل سمجھنے لگے“ (9)۔ آپ اس کے مختلف اسباب بیان کرتے ہیں مثلاً شبہات، خواہشاتِ نفس، عادات اور تقلید۔ ظاہری بات یہ ہے کہ یہاں ”فساد“ کی اصطلاح ”بکھر جانے“ کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ فطرت کی طبیعت انحطاط اور تبدل قبول نہیں کرتی؛ چونکہ فطرت اصلاً ”کمال“ سے متصف ہے لہٰذا اسے جو فساد لاحق ہوتا ہے، وہ اس کی ہستی میں نقصان کا باعث بنتا ہے نہ کہ اس کے مٹ جانے کا۔
چونکہ فطرت الوہی معانی اور اقدار کی معرفت کا نام ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر عقل قائم ہوتی ہے اور اس کی رہنمائی کرتی ہے تو یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ وہ انسانی قلب میں ایک نورِ اشہادی کی مانند ہو ۔اور معلوم ہے کہ نور نہ فساد کا شکار ہوتا ہے اور نہ بیمار پڑتا ہے؛ وہ تو صرف اس وقت اوجھل ہوتا ہے جب کوئی چیز خود اس کے اور ادراک کے درمیان حائل ہو جائے۔ چنانچہ فطرت کو جو نقصان لاحق ہوتا ہے، وہ ان حجابوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس کے نور کے نفوذ کو روک دیتے ہیں۔ پس جب یہ حجاب ہٹا دیے جائیں تو وہ اپنے اصلی کمال کی طرف لوٹ آتی ہے اور اس کے مدرکات میں اس کا نور دوبارہ سرایت کر جاتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فطرت انسان کے اندر اپنے ازلی حال پر قائم رہتی ہے، چاہے اس پر کتنے ہی پردے کیوں نہ پڑ جائیں۔
حواشی
(1) درء تعارض العقل والنقل، ج 1، ص 89۔
(2) مجموع الفتاوی، ج 3، ص 338 – 339۔
(3) درء تعارض العقل والنقل، ج 1، ص 377۔
(4) نفس المصدر، ج 7، ص 278۔
(5) نفس المصدر، ج 8، ص 314۔
(6) درء تعارض العقل والنقل، ج 7، ص 43۔
(7) الرد علی المنطقیین، ص 250۔
(8) ابن سینا: النجاۃ فی الحکمۃ الاِلھیۃ، طبع المکتبۃ المرتضویۃ، ص 62 – 64۔
(9) درء تعارض العقل والنقل، ج 3، ص 306۔
