عقل کا بہترین استعمال عقل کی حدود جاننا ہے۔
اسلامی فکری تاریخ میں امام ابو حامد الغزالی کی شخصیت ایک ایسے معمے کی حیثیت رکھتی ہے جس کی تفہیم میں مستشرقین اور خود مسلم مفکرین بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ کیا غزالی ایک روایتی متکلم تھے؟ کیا وہ فلسفے کے دشمن تھے؟ یا پھر وہ خود ایک چھپے ہوئے فلسفی تھے جنہوں نے تصوف کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں غزالی کے ہاں ’علم الکلام‘ اور ’فلسفے‘ کے باہمی تعلق اور اس خاص ”تنقیدی وظیفے“ (Critical Function) کو سمجھنا ہوگا جو انہوں نے اپنے دور کے عقلیت پسندوں کے خلاف استعمال کیا۔
ایک طویل عرصے تک مغرب میں غزالی کو صرف ان کی کتاب ”مقاصد الفلاسفہ“ کی وجہ سے جانا جاتا رہا۔ چونکہ یہ کتاب ابنِ سینا کے فلسفے کا ایک بہترین خلاصہ تھی، لاطینی دنیا کے اسکالرز نے غلطی سے غزالی کو بھی ابنِ سینا کا پیروکار سمجھ لیا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ غزالی نے یہ کتاب محض اس لیے لکھی تھی تاکہ وہ اپنے حریف (فلسفے) کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور بعد میں اس کا رد کر سکیں۔ ان کا اصل وار ”تہافت الفلاسفہ“ کی صورت میں سامنے آیا۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ غزالی روایتی معنوں میں ”متکلم“ بھی نہیں تھے۔ وہ علم الکلام کو ”حصولِ حق“ کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک علم الکلام کی حیثیت ایک ”حفاظتی ہتھیار“ یا ”پہرہ دار “ کی سی تھی جس کا کام عقیدے کا دفاع کرنا اور بدعتیوں کے شبہات کا جواب دینا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ علم الکلام بذاتِ خود وہ ”یقین“ فراہم نہیں کر سکتا جو صوفیانہ تجربے یا مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔
غزالی کی عبقریت یہ تھی کہ انہوں نے علم الکلام کو صرف دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ”تنقیدی آلے“ میں بدل دیا۔ انہوں نے اس آلے کو دو بڑے محاذوں پر استعمال کیا:
- فلسفیوں کے خلاف (تہافت الفلاسفہ میں) جہاں انہوں نے سبب اور مسبب کا فلسفیانہ غرور توڑا۔
- معتزلہ کے خلاف (المستصفیٰ میں) جہاں انہوں نے اخلاقیات کی عقلی بنیادوں کو چیلنج کیا۔
فلسفیوں (خصوصاً مشاّئین) کا ماننا تھا کہ کائنات میں سبب اور مسبب کا رشتہ اٹل ہے۔ یعنی آگ کا کام جلانا ہے اور وہ جلانے پر مجبور ہے۔ غزالی نے اس ”حتمیت“ پر کاری ضرب لگائی۔ انہوں نے اپنا مشہور ”مذہبِ مناسبت“ (Occasionalism) پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آگ اور جلنے کے درمیان جو تعلق نظر آتا ہے، وہ ”منطقی لزوم“ (Logical Necessity) نہیں بلکہ محض ”تتابع“ (Sequence) ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ آگ جلائے ہی، بلکہ یہ اللہ کی عادت ہے کہ جب آگ چھوتی ہے تو وہ جلنا پیدا کر دیتا ہے۔
غزالی کا یہ حملہ صرف مذہبی نہیں تھا بلکہ خالصتاً فلسفیانہ بنیادوں پر تھا۔ آپ نے ڈیوڈ ہیوم سے صدیوں پہلے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم مشاہدے سے صرف ”واقعہ“ دیکھ سکتے ہیں، ”وجہ“ نہیں دیکھ سکتے۔ اس تنقید کا مقصد سائنس کا انکار نہیں تھا، بلکہ فلسفیوں کے اس دعوے کو توڑنا تھا کہ قوانینِ فطرت خدا کے ارادے سے ماورا اور اٹل ہیں۔ غزالی نے خدا کے ”ارادے“ کو فلسفیوں کی ”مجبور فطرت“ پر فوقیت دی۔
دوسری طرف، غزالی نے اپنی کتاب ”المستصفیٰ من علم الاصول“ میں معتزلہ کے اس نظریے کو ہدف بنایا کہ اچھائی (حسن) اور برائی (قبح) اشیاء کی اپنی فطرت میں شامل ہوتی ہیں اور عقل انہیں خود بخود پہچان سکتی ہے۔
غزالی نے یہاں ایک انقلابی موقف اختیار کیا۔ آپ نے کہا کہ اخلاقی اقدار ”فطری“ نہیں ہوتیں بلکہ ”وضعی“ ہوتی ہیں۔ یعنی سچ بولنا اس لیے اچھا نہیں کہ یہ عقل کا تقاضا ہے، بلکہ اس لیے اچھا ہے کہ شریعت (خدا) نے اسے اچھا کہا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو جھوٹ کو اچھا قرار دے دیتا۔
غزالی کا استدلال یہ تھا کہ جسے تم ”عقلی اخلاقیات“ کہتے ہو وہ دراصل تمہارے وہم، سماجی عادات اور بقا کی جبلت کا نام ہے۔ آپ نے اخلاقیات کو انسانی عقل کی قید سے آزاد کر کے اسے براہِ راست ”وحی“ کے تابع کر دیا۔ یہ معتزلہ کی عقلیت پسندی پر ایک بہت بڑا حملہ تھا جس نے ثابت کیا کہ خیر اور شر کا حتمی فیصلہ انسان نہیں بلکہ خدا کرتا ہے۔
غزالی کا اصل کارنامہ یہ نہیں کہ آپ نے فلسفے کو ختم کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے فلسفے اور علم الکلام کی حدود متعین کر دیں۔ آپ کے نزدیک
- عقل مابعد الطبیعیات کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔
- قوانینِ فطرت خدا کے ارادے کے پابند ہیں۔
- اخلاقیات کی بنیاد فطرت پر نہیں بلکہ شریعت پر ہے۔
غزالی نے علم الکلام کو محض ”عقائد کا مجموعہ“ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک ایسی ”تنقیدی کسوٹی“ بنا دیا جس پر پرکھ کر فلسفیانہ دعووں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ منہج آج بھی ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو جدیدیت اور سائنسی جبریت کے دور میں وحی کی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ غزالی ہمیں سکھاتے ہیں کہ عقل کا بہترین استعمال یہی ہے کہ اسے عقل کی حدود بتانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
