خدا، شعور ، وجود کا معما اور ڈاکٹر خالد سہیل

صابر علی

ہم سب ڈاٹ کام کے لکھاری  ڈاکٹر خالد سہیل صاحب ہمارے عہد کے ایک ممتاز ماہرِ نفسیات اور دانشور ہیں جن کی تحریروں میں انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھانے کی مخلصانہ کوشش ہمیشہ نمایاں رہتی ہے۔ حال ہی میں ان کا خدا کے تصور، ارتقائے شعور اور مذہب کے مستقبل کے حوالے سے ایک مضمون نظر سے گزرا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ بیانیہ دراصل اس فکر کا تسلسل ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب میں پروان چڑھی، جس کی بنیاد سائنسی تجربیت اور نفسیاتی تخفیف پسندی پر ہے۔ انہوں نے بڑی مہارت سے اپنے ذاتی سفر کو انسانیت کے اجتماعی سفر پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ایک طالبِ علم کے طور پر، ان کے مقدمات میں کچھ ایسے منطقی اور فلسفیانہ خلا محسوس ہوتے ہیں جن پر مکالمہ ضروری ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ خدا کا تصور انسان کے ”داخلی اور استعاراتی“ جہاں کی پیداوار ہے اور جیسے جیسے انسان قوانینِ فطرت کو سمجھتا گیا، خدا کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ یہاں ڈاکٹر صاحب ایک قدیم منطقی مغالطے کا شکار نظر آتے ہیں جسے فلسفے کی زبان میں ”خدا برائے خلاء“کا مغالطہ کہا جاتا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ اب ہمیں بارش برسنے، زلزلے آنے یا بیماریوں کے اسباب (قوانینِ فطرت) معلوم ہو گئے ہیں، لہٰذا اب ہمیں کسی ”مسبب الاسباب“ کی ضرورت نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ”چونکہ مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ گاڑی کا انجن کیسے کام کرتا ہے، لہٰذا اب یہ ماننے کی ضرورت نہیں کہ اس گاڑی کو بنانے والا کوئی انجینئر بھی ہے۔“ قوانینِ فطرت دراصل یہ بتاتے ہیں کہ کائنات ”کیسے“ کام کرتی ہے، وہ یہ نہیں بتاتے کہ کائنات ”کیوں“ کام کرتی ہے یا یہ قوانین بذاتِ خود وجود میں کیسے آئے؟ ایک قانون ہمیشہ ایک قانون ساز کا پتہ دیتا ہے، اور میکانزم کی دریافت کسی صورت بھی ”ایجنٹ“ (کرنے والے) کی نفی نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب نے نفسیات کے حوالے سے یہ نکتہ اٹھایا کہ خدا انسان کا اپنا تخلیق کردہ تصور ہے جسے اس نے اپنی ضرورت کے تحت تراشا۔ سگمنڈ فرائڈ نے بھی یہی کہا تھا کہ مذہب ایک ”وہم“اور باپ کے سائے کی تلاش ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی نفسیاتی ضرورت کسی چیز کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے؟ انسان کو پیاس لگتی ہے، تو کیا پانی کا وجود محض اس لیے مشکوک ہو جائے گا کہ انسان کو اس کی خواہش ہے؟ جدید ادراکِی سائنس اب فرائڈ کے نظریات سے آگے بڑھ چکی ہے۔ جسٹن بیرٹ اور دیگر محققین کا کہنا ہے کہ انسانی ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ وہ فطری طور پر ایک ”ماورائی طاقت“ پر یقین کرنے کی طرف مائل ہے۔ اگر خدا کا تصور محض ثقافتی ارتقا ہوتا تو یہ ہر تہذیب، ہر دور اور ہر جغرافیے میں مشترک نہ ہوتا۔ یہ عالمگیریت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ”تخلیق“ نہیں بلکہ ”دریافت“ ہے جو انسانی شعور کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔

مضمون کا ایک جذباتی اور توانا حصہ ”شر کے مسئلے“پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب پوچھتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو اس کے ماننے والے ظلم کیوں کرتے ہیں؟ ہیروشیما پر بم گرانے والے خدا کو مانتے تھے۔ یہ ایک درست مشاہدہ ہے مگر غلط استدلال ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر طبی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریض کو مار ڈالے، تو کیا اس سے ”طب“ کا علم غلط ثابت ہو جائے گا؟ انسانوں کا منافقانہ رویہ یا ان کے جرائم ان کے اپنے اختیار کا شاخسانہ ہیں، یہ خدا کے عدم وجود کی دلیل نہیں۔ مزید برآں، اگر ہم بیسویں صدی کی تاریخ دیکھیں تو اسٹالن، پول پوٹ اور ماؤزے تنگ جیسے خدا بیزار حکمرانوں کے ہاتھوں کروڑوں انسانوں کا قتلِ عام ہوا جو کسی مذہبی جنگ سے کہیں زیادہ ہولناک تھا۔ لہٰذا ظلم کا تعلق ”خدا پرستی“ سے نہیں بلکہ مطلق طاقت کے نشے اور انسانی نفس کی سرکشی سے ہے۔ مذہب تو دراصل اسی سرکش نفس کو لگام دینے کا نام ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہوئے مغرب، بالخصوص اسکینڈے نیویا کے ممالک میں مذہب بیزاری کو انسانی ارتقا کی معراج قرار دیا ہے۔ یہ ایک ”یورو سینٹرک “ یعنی یورپ زدہ نقطہ نظر ہے۔ اگر سویڈن یا کینیڈا میں لوگ مذہب چھوڑ رہے ہیں تو اس کے برعکس افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکا میں مذہب اور خدا پر یقین رکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا سچائی کا فیصلہ جمہوری بنیادوں پر ہوگا؟ اگر کل کو دنیا کی اکثریت دوبارہ مذہبی ہو جائے (جیسا کہ ڈیموگرافک ٹرینڈز بتا رہے ہیں)، تو کیا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک خدا دوبارہ ”زندہ“ ہو جائے گا؟ سچائی اعداد و شمار کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ کہنا کہ سائنسدانوں (ڈارون، فرائڈ، مارکس، ہاکنگ) کی وجہ سے مذہب متروک ہو رہا ہے، ایک جزوی سچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد، جن میں فرانسس کولنز (ہیومن جینوم پروجیکٹ کے سربراہ) جیسے نام شامل ہیں، خدا پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور سائنس کو خدا کی کاریگری سمجھنے کا ذریعہ مانتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا کہ ”اگر خدا کا وجود غیر مادی ہے تو اسے لوگ عقلی دلائل کی بجائے ایمان کی وجہ سے مانتے ہیں“، علمِ کلام اور جدید فلسفے سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔ کیا عقل صرف وہی ہے جو مادی چیزوں کو پرکھے؟ کیا منطق، ریاضی کے اصول اور انسانی شعور مادی چیزیں ہیں؟ ہم محبت، انصاف اور خوبصورتی جیسے غیر مادی تصورات کو مانتے ہیں حالانکہ انہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کا وجود محض ”ایمان بالغیب“ کا معاملہ نہیں بلکہ کائنات کے نظم، شعور کی حقیقت اور اخلاقیات کے وجود سے پھوٹنے والا ایک منطقی نتیجہ ہے۔

آخر میں، ڈاکٹر صاحب نے بجا فرمایا کہ خدا کے تصور کو انسانوں نے مختلف نام اور شکلیں دی ہیں۔ لیکن یہ تنوع اس حقیقت کی نفی نہیں کرتا کہ ایک ”حتمی حقیقت“ موجود ہے۔ جس طرح مختلف زبانوں میں پانی کو مختلف نام دیے جاتے ہیں مگر پیاس اور پانی کی حقیقت ایک ہی رہتی ہے، اسی طرح انسانی شعور کا ارتقا خدا کے تصور کو رد کرنے کی طرف نہیں بلکہ اس کے عرفان کو خالص کرنے کی طرف گامزن ہے۔ جسے ڈاکٹر صاحب ”خدا حافظ“ کہنا سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل پرانے اور فرسودہ تصورات کا رد ہے، لیکن اس کائنات کا خالق اور رب، جو ”نور السماوات والارض“ ہے، وہ انسان کے شعور اور لاشعور کے ہر گوشے میں آج بھی اتنا ہی موجود ہے جتنا ہزاروں سال پہلے تھا۔

خدا کا انکار درحقیقت خود انسانی شعور کی ایک ایسی جہت کا انکار ہے جو اسے مادی کائنات سے ماورا کسی بلند تر معنی سے جوڑتی ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل جیسے صاحبِ علم جو انسانی نفسیات کے غواص ہیں، انسانی وجود کی اس ”مابعد الطبیعیاتی پیاس“ کو محض استعارہ سمجھنے کی بجائے اس کے منبع پر بھی غور فرمائیں گے۔

https://humsub.com.pk/n/27005/2025/12/24/dr-khalid-sohail

Visited 9 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *