کیا لگژری اور ماحولیاتی اخلاق ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

صابر علی

دورِ حاضر کا انسان ایک عجیب و غریب نفسیاتی کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ سرمایہ دارانہ نظام کی چکا چوند، مہنگی برانڈڈ اشیاء اور ”لگژری فیشن“ کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسے یہ احساسِ جرم بھی نوچ رہا ہے کہ اس کی یہ بے لگام کھپت کرہ ارض کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ”گرین لگژری“کا تصور جنم لیتا ہے۔ بظاہر یہ اصطلاح خود میں ایک تضاد رکھتی ہے۔ لگژری کا مطلب ہے اسراف، نمود و نمائش اور وسائل کا بے دریغ استعمال جبکہ پائیداری سادگی، بچت اور ماحولیاتی تحفظ کا نام ہے۔ تو کیا آگ اور پانی اکٹھے ہو سکتے ہیں؟

روسیو کارانزا اور ان کے رفقاء کی حالیہ تحقیق اسی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ہائیڈر کے ”نظریہ توازن“ کا سہارا لیتے ہوئے یہ دکھاتے ہیں کہ انسان اپنے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے کس طرح اپنی ”اخلاقیات“ اور ”خواہشات“ کے درمیان سمجھوتا کرتا ہے۔

اخلاقی صارف کا منافقانہ سفر

ہم سب خود کو ”اچھا انسان“ سمجھتے ہیں۔ جب ہم سے پوچھا جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ماحول کی فکر ہے اور ہم ماحول دوست مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب ہم شاپنگ مال میں کھڑے ہوتے ہیں اور سامنے چمکتا ہوا مہنگا بیگ یا جوتا ہوتا ہے تو ہماری ساری ماحولیاتی محبت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اسے محققین نے ”رویے اور عمل کا خلا“ کا نام دیا ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ صارف کے ذہن میں ایک جنگ جاری رہتی ہے۔ اس جنگ میں دو طرح کے عوامل کارفرما ہوتے ہیں: ایک وہ جو اسے گرین لگژری کی طرف مائل کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے روکتے ہیں ۔

سبز شناخت

سب سے بڑا محرک جو ہمیں مہنگی مگر نام نہاد ”سبز“ اشیاء خریدنے پر اکساتا ہے، وہ ہماری ”سبز شناخت“ ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ دنیا اسے ایک ذمہ دار اور باشعور شہری کے طور پر دیکھے۔ یہ محض چیز کی خریداری نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنی ”ذات کی توسیع“ ہوتی ہے۔ میں یہ مہنگا آرگینک سوٹ اس لیے نہیں خرید رہا کہ مجھے اس کی ضرورت ہے، بلکہ اس لیے خرید رہا ہوں تاکہ میں خود کو اور دنیا کو یہ باور کرا سکوں کہ میں ماحول دشمن نہیں ہوں۔

تحقیق کا یہ پہلو انتہائی دلچسپ ہے کہ جب انسان میں ”سمجھی جانے والی تیاری“ پیدا ہو جائے یعنی اسے یقین ہو جائے کہ اس کی خریداری سے واقعی ماحول پر کوئی فرق پڑے گا تو وہ مہنگی ترین چیز خریدنے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔ یہاں لگژری صرف ”اسٹیٹس سمبل“ نہیں رہتی بلکہ ”اخلاقی تمغہ“ بن جاتی ہے۔

شک کے سائے اور گرین واشنگ

لیکن تصویر کا دوسرا رخ تاریک ہے۔ صارفین بیوقوف نہیں ہیں۔ وہ لگژری برانڈز کے ان دعووں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تحقیق نے ثابت کیا کہ چار بڑی رکاوٹیں  ہیں جو صارفین کو گرین لگژری سے دور کرتی ہیں:

۱۔ تضاد: صارف کو لگتا ہے کہ لگژری اور پائیداری دو متضاد چیزیں ہیں۔

۲۔ گرین واشنگ: یہ خوف کہ کمپنی جھوٹ بول رہی ہے اور صرف مارکیٹنگ کے لیے ماحول دوستی کا ڈرامہ کر رہی ہے۔

۳۔ شک: برانڈ کی نیت پر بنیادی عدم اعتماد۔

۴۔ خطرہ : یہ ڈر کہ کہیں یہ مہنگی پروڈکٹ معیار میں کم تر نہ ہو۔

یہ عوامل صارف کے ذہن میں ایک ”نفسیاتی عدم توازن“ پیدا کرتے ہیں، جس سے وہ خریداری سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

مشرق و مغرب کا ثقافتی ٹکراؤ

اس تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا پہلو ثقافتی موازنہ ہے۔ محققین نے اطالوی (مغربی/انفرادیت پسند) اور چینی (مشرقی/اجتماعیت پسند) صارفین کا تقابلی جائزہ لیا۔ نتائج نے ثابت کیا کہ انسانی نفسیات جغرافیے کے ساتھ بدل جاتی ہے۔

ایشیائی (چینی) صارفین کے لیے ”سبز شناخت“ اور ”سماجی دباؤ“ زیادہ اہم تھا۔ چونکہ وہ ایک اجتماعیت پسند معاشرے سے ہیں، ان کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ دوسرے انہیں ”اچھا“ سمجھیں۔ ان کے لیے گرین  لگژری خریدنا معاشرے میں اپنی عزت بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے ان پر ”سبز محرکات“ کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، مغربی (اطالوی) صارفین زیادہ تشکیک پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ”شک“ ہے۔ وہ آسانی سے برانڈز کے دعووں پر یقین نہیں کرتے۔ ان کے لیے یہ اہم نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ یہ اہم ہے کہ کیا پروڈکٹ واقعی ماحول دوست ہے یا یہ صرف دھوکہ ہے؟ مغرب میں ”گرین واشنگ“ کا خوف صارفین کو خریداری سے روکنے والا سب سے بڑا عنصر ہے۔

یہ تحقیق ہمیں جدید انسان کی نفسیات کے ایک تاریک گوشے میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ”اخلاقیات“ بھی اب ایک پروڈکٹ بن چکی ہے۔ لگژری برانڈز ہماری ”اچھا دکھنے“ کی خواہش کو کیش کروا رہے ہیں۔

مشرق ہو یا مغرب، مسئلہ ایک ہی ہے: ہم اپنی خواہشاتِ نفس اور ماحولیاتی شعور کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ جب تک لگژری برانڈز اپنی منافقانہ مارکیٹنگ ترک کر کے ٹھوس عملی اقدامات نہیں کرتے اور جب تک صارفین اپنی ”انا“ کی تسکین کے بجائے خالصتاً ماحول کے لیے قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتے، ”گرین لگژری“ محض ایک خوبصورت دھوکہ اور ایک دلکش تضاد ہی رہے گی۔

Visited 10 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *