حجاب پر سیکولر معاشرے کے تضادات کیا ہیں؟

ڈاکٹر اسما مجید

جدید معاشرے نے بے پردگی اور عریانیت کے دروازے کس طرح چوپٹ کھول رکھے ہیں اور اس راستے میں ہر ممکن وسیلہ اور ہر سوجھنے والا طریقہ اپنا لیا ہے۔ یہاں تک کہ یہ معاشرہ ہر اس شخص کے ”حقِ وجود“  کو تسلیم نہیں کرتا جب تک کہ وہ اس کی طے کردہ روش کا پیروکار نہ بن جائے۔ اس کے باوجود یہ معاشرہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ وہ “دوسرے“  کی آزادیِ اظہار کا تحفظ کرتا ہے۔

لیکن جوں ہی ”مسلمان عورت کا پردہ“ عوامی فضا میں نمودار ہوا، اس معاشرے کے کرتا دھرتا چیخ اٹھے اور پردہ نشین خواتین کے خلاف یکے بعد دیگرے یلغار شروع کر دی۔ وہ آج بھی اپنے اس عمل سے باز نہیں آئے اور ایک پل میں اپنے اس دعوے سے پھر گئے کہ ان کا معاشرہ ”سب کے حقوق“  کا محافظ ہے۔ چنانچہ مفکروں، سیاست دانوں اور میڈیا کے نمائندوں یہاں تک کہ اسلام کی طرف منسوب ان کے مقلدین کی طرف سے بھی پردے کے خلاف ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو گیا۔ یہ کلام بدترین تضادات سے لبریز تھا بلکہ یہ بے ہودہ الزامات اور ایسی خرافات پر مبنی تھا جنہیں کوئی صاحبِ رائے چہ جائیکہ کوئی عقل مند انسان اپنی زبان پر لانا بھی گوارا نہ کرے۔

1۔  پردے کے مخالفین کے الزامات

جب پردہ ”نجی زندگی“ کے دائرے سے نکل کر ”سیکولر فضا“ میں داخل ہوا اور عوامی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آنے لگا تو اس کے مخالفین پوری طاقت سے اس کے مقابلے پر اتر آئے۔ وہ اس ظہور کی ”برائیاں“ گنوانے میں ماہرانہ باریک بینی کا مظاہرہ کرنے لگے اور اس لباس پر طعن و تشنیع میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ یہاں ہم ان بڑی ”برائیوں“  کا ذکر کرتے ہیں جو وہ پردے کے اظہار  سے منسوب کرتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔

1.1۔  لباسِ التباس

ان کی نظر میں پردہ متضاد معانی کا حامل ہے؛ یہ عورت کے جسم کو محض چھپاتا نہیں بلکہ اسی وقت اسے ظاہر بھی کرتا ہے۔ یا زیادہ صحیح الفاظ میں یہ جسم کے جس حصے کو چھپاتا ہے، درحقیقت اسی کے اظہار کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ گویا پردہ کرنے والی خاتون بیک وقت پردہ پوش بھی ہے اور برہنہ بھی (ستری اور کشفی کیفیت کا مجموعہ)۔

1.2۔ لباسِ شہرت

چونکہ ”لباسِ شہرت“ سے مراد ہر وہ لباس ہے جس کا مقصد عوامی زندگی میں مشہور ہونا یا الگ تھلگ نظر آنا ہو لہٰذا (ان کے مطابق) پردے نے عورت کی طرف دوسروں کی نظروں کو مبذول کرایا اور اسے انگشت نمائی کا ہدف بنا دیا۔ مخالفین کا استدلال ہے کہ پردہ کرنے والی خاتون اس عمومی عوامی نظر کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیتی ہے جس سے اس کے وہ نجی مقاصد تو پورے ہو جاتے ہیں جو دوسروں سے ممتاز ہونے کے لیے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں وہ اس ”اکثریت“ کا احترام ملحوظ نہیں رکھتی جو اپنی آزادیوں کا استعمال ”دوسرے کے احترام“ کے اصول پر کرتی ہے۔

1.3۔ لباسِ مظہر

ان مخالفین کی رائے میں یہ لباس عورت کے خارجی مظہر کو اس کی پوری شخصیت پر حاوی کر دیتا ہے۔ اس طرح عورت کا وجود محض اسی ”ظاہری خول“  تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پردہ عورت سے اس کا باطن چھین لیتا ہے جو اس کی ماہیت کا تعین کرتا ہے۔ پس ان کے نزدیک پردے کے پیچھے سوائے اس ظاہر کے کچھ نہیں بچتا جسے نظریں اچک لیتی ہیں۔ وہ ایک ایسی عورت بن جاتی ہے جس کی کوئی شناخت نہیں اور نہ ہی کوئی انفرادیت جو اسے ممتاز کر سکے۔ وہ محض ایک ”نامعلوم شے“ یا ”مجہول وجود“  بن کر رہ جاتی ہے۔ مختصراً یہ کہ ان کے نزدیک پردہ کرنے والی عورت ایک ایسے ظاہر کا نام ہے جس کا کوئی باطن نہیں۔

1.4۔لباسِ نمائش

حقیقت یہ ہے کہ پردہ عورت کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ اسے چھپاتا ہے۔ پردہ پوشی کی حالت میں اس کی موجودگی، بے پردگی کی حالت کی نسبت زیادہ شدید اور نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ پردہ ’اخفا‘ (چھپانے) کی صفت سے نکل کر اس کی ضد یعنی ’ابداء‘ (نمائش، اظہار) کی صفت اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ پردہ نمائش کی علامت بن جاتا ہے یا پھر ایسی چیز کی علامت جسے ”پیش“  کیا جا رہا ہو۔ مخالفین کے نزدیک پردہ کرنے والی عورت پر نظریں اس طرح پڑتی ہیں جیسے کسی سامان یا تجارتی مال کا معائنہ کیا جا رہا ہو۔

1.5۔لباسِ ایذا

پردے کے ذریعے عورت کا ظہور اس کی اپنی آزادی کے دائرے سے تجاوز کر کے دوسروں کی آزادیوں میں دخل اندازی کرنے لگتا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کا پردہ عوامی فضا پر طاقت کے زور پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے افراد کے مابین تعامل کا ڈھانچہ مجروح ہوتا ہے۔ یہ ”مشترکہ قدروں“ میں شرکت کے اصول کو نقصان پہنچاتا ہے اور نظامِ عامہ میں مساوات اور حقوق کے اصولوں پر ضرب لگاتا ہے۔

1.6۔  لباسِ عداوت

پردہ پہننا محض ان قواعدِ لباس کی خلاف ورزی نہیں جن کی لوگ پیروی کرتے ہیں بلکہ درحقیقت یہ ایک کھلی ”عداوت“ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو دوسروں کے لیے چیلنج اور ان کے عادات و اطوار سے ٹکراؤ کا باعث بنتی ہے۔ پس پردہ ”دنیا“ کے خلاف ایک لباس ہے یعنی دوسروں (جو پردہ نہیں کرتے) کے خلاف۔ لیکن چونکہ یہ دوسروں کی نظروں کے سامنے رہتا ہے اس لیے یہ دنیا کی نظر میں ایک وحشیانہ اور درندہ صفت عمل سمجھا جاتا ہے۔

ان ”برائیوں“ کے درمیان جو تعلق ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ ”لباس کی برائی“ (مساءۃ اللبس) سے شروع ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ پردہ ”منظور الیہ“ (جسے دیکھا جائے) ہے جبکہ پردہ پوش خاتون کا دعویٰ ہے کہ وہ ”مستورہ“ (ڈھکی ہوئی) ہے۔ پس پردہ بیک وقت ”ستر“ اور ”منظر“ (دکھائی دینے) کا مجموعہ ہے۔ یہ تینوں برائیاں مساءۃ الشہرۃ (شہرت کی برائی)، مساءۃ المظہر (محض ظاہر ہونے کی برائی) اور مساءۃ الإبداء (نمائش کی برائی) دراصل اسی ”منظوریت“ (دکھائی دینے) کی مختلف تجلیات ہیں۔ جہاں تک باقی دو برائیوں مساءۃ الإیذاء (تکلیف دینے کی برائی) اور مساءۃ العداء (دشمنی کی برائی) کا تعلق ہے تو یہ اس ”منظوریت“ کے اثرات ہیں جو پردے سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پردے سے متعلق ان دعووں کا رد، مخالفین کے مقابلے میں پردے کی ”اچھائیاں“ بیان کر کے کیا جانا چاہیے کہ پردہ لباس کے ذریعے امن لاتا ہے نہ کہ خوف اور اس کا ظہور کسی بھی طرح برائی نہیں بلکہ خوبی ہے اور اس کے اثرات قطعی طور پر مفاسد نہیں بلکہ سراسر منافع ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پردے کے حمایتی اس انداز میں جواب دیں تو یہ مخالفین کے لیے دندان شکن ہوگا، بشرطیکہ وہ محض رائے میں اختلاف رکھتے ہوں۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ محض ”رائے کے اختلاف“  کا نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف ایک ایسے ثقافتی سیاق و سباق میں پیدا ہوا ہے جو  مخالفین کی ثقافت کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ یہاں اختلاف ’نزاع‘  کے درجے سے بڑھ کر ’صراع‘  (تنازع) کے درجے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ردِ عمل ثقافتی ”غیر“  کے خلاف ایک جنگ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

یہ معاملہ دو امور کا متقاضی ہے:

اول: ’غیریت‘  کے بجائے ’آخریت‘ کا قول اختیار کرنا۔

دوم: ’واحدیت‘  کے بجائے ’ازدواجیہ‘پر عمل کرنا۔

جہاں تک ان کے ”غیریت“ کے بجائے ”آخریت“ کے قول کا تعلق ہے تو یہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مخالفین پردہ کرنے والوں کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ وہ ایک ایسا ”غیر“ ہے جو انہی جیسا ہے یا کوئی ایسا فرد ہے جو ان کے ساتھ مشترک ثقافتی اقدار میں حصے دار ہے۔ اگر دونوں فریق اپنی مشترکہ اقدار کی طرف رجوع کرتے تو ان کا اتفاق ممکن تھا ورنہ کم از کم وہ ایک دوسرے سے درگزر تو کر ہی سکتے تھے۔ لیکن وہ مخالفین کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ ایک ”غیر“ ہے جو ان سے قطعی طور پر جدا اور الگ ثقافت رکھتا ہے۔ ان کے لیے یہ تصور کرنا محال ہے کہ ان کی اپنی ذات کبھی اس ”غیر“  کی جگہ ہو سکتی ہے یا یہ کہ یہ ”غیر“ ان کی ذات کا حصہ ہو سکتا ہے۔

ان کے ہاں اس ”غیر“ کے لیے ایک شدید استبدادی رویہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ وہ مبالغہ آمیز تصور ہے جو انہوں نے اس ”غیر“ کے بارے میں قائم کر رکھا ہے یا یوں کہیں کہ یہ ”غیر کا خوف“ ہے۔ یہ خوف ان کے ہاں ”اسلاموفوبیا“ کے نام سے اور ”عربوفوبیا“ کے نام سے ”عرب غیر“  کے خوف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب یہ خوف ان کے دلوں پر مسلط ہو جاتا ہے تو انہیں اس بات کا اطمینان ہی نہیں رہتا کہ یہ ”غیر“  ان کی پیٹھ پیچھے موجود رہ سکتا ہے۔

اور جہاں تک ان کے ”واحدیت“ کے بجائے ”ازدواجیہ“ (دوہرے معیار) پر عمل کرنے کا تعلق ہے تو یہ ان کے ”آخریت“ کے تصور پر مبنی ہے۔ چونکہ ان کے نزدیک ”ذات“ اور ”غیر“ دو ایسی ضدیں ہیں جو جمع نہیں ہو سکتیں لہٰذا ان کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ ”غیر“ کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے وہ رویہ نہ اپنائیں جو وہ اپنی ”ذات“ کے ساتھ اپناتے ہیں۔ چنانچہ وہ دوسروں کے حق میں ان تصرفات کو جائز سمجھتے ہیں یا ان سے نہیں روکتے جو وہ اپنے حق میں جائز نہیں سمجھتے یا جن سے وہ باز رہتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ ان کے ساتھ تعلقات میں دوہرے معیارات اپناتے ہیں؛ ایک معیار مثبت ہوتا ہے جبکہ دوسرا معیار منفی اور عموماً وہ معیار جو ”غیر“ کے اقوال و افعال کو تولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ منفی ہوتا ہے جبکہ وہ معیار جس سے وہ اپنے افکار و اعمال کو تولتے ہیں، مثبت ہوتا ہے۔

Visited 21 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *