صومالی لینڈ: اسرائیل کا تزویراتی جوا اور افریقہ کے سینگ میں نئی بساط

صابر علی

عالمی سیاست میں اکثر فیصلے اخلاقیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ نقشوں کی ضرورت اور مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں۔ افریقہ کا وہ مشرقی کونہ جسے دنیا ”ہارن آف افریقہ“ کہتی ہے، آج کل ایک نئی اور حیران کن سفارتی ہلچل کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خبر یہ ہے کہ تین دہائیوں کی تنہائی کے بعد بالآخر ایک ملک نے صومالی لینڈ کی آزادی تسلیم کر لی ہے۔ لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ پہل کسی افریقی یا مسلم برادر ملک نے نہیں بلکہ اسرائیل نے کی ہے۔

یہ محض ایک سفارتی کاغذ کا تبادلہ نہیں ہے؛ یہ بحیرۂ احمر کے دہانے پر شطرنج کی ایک ایسی چال ہے جس کے اثرات ترکی سے لے کر یمن کے حوثیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اس موجودہ پیش رفت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ذرا ماضی کے دھندلکوں میں جھانکنا ہو گا۔ صومالی لینڈ کا قضیہ دراصل انیسویں صدی کی نوآبادیاتی بندر بانٹ کی پیداوار ہے۔ جب یورپی طاقتیں افریقہ کو کیک کی طرح کاٹ رہی تھیں تو صومالی خطہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک حصے پر اطالیہ (اٹلی) کا قبضہ تھا جو آج کا صومالیہ ہے جبکہ دوسرا حصہ برطانیہ کے زیرِ تسلط تھا جسے آج ہم صومالی لینڈ کہتے ہیں۔

1960ء میں جب آزادی کی لہر چلی تو صومالی لینڈ نے چند دنوں کے لیے آزادی کا سانس لیا اور پھر ”عظیم تر صومالی اتحاد“ کے خواب کی خاطر صومالیہ کے ساتھ الحاق کر لیا۔ لیکن یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ موغادیشو میں جنرل محمد سیاد بری کی آمریت نے صومالی لینڈ کے عوام پر زمین تنگ کر دی۔ ردعمل کے طور پر 1981ء میں ”صومالی نیشنل موومنٹ“  کا قیام عمل میں آیا اور ایک طویل خانہ جنگی شروع ہوئی۔ 1991ء میں جب سیاد بری کی حکومت کا تختہ الٹا تو صومالی لینڈ نے یکطرفہ طور پر اپنی پرانی آزادی کا اعلان کر دیا اور صومالیہ سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔

گزشتہ 33 برسوں سے صومالی لینڈ ایک عجیب سیاسی برزخ میں زندہ ہے۔ یہ خطہ اپنے پڑوسی صومالیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرامن، مستحکم اور جمہوری ہے لیکن اقوامِ عالم نے اسے ایک آزاد ریاست ماننے سے انکار کر رکھا تھا۔ دنیا کا اصرار تھا کہ افریقی یونین کی پرانی سرحدوں کو نہ چھیڑا جائے۔

لیکن 2024ء میں ہوائیں بدلنے لگیں۔ پہلے ایتھوپیا نے صومالی لینڈ کے ساتھ ایک بندرگاہ کے حصول کا معاہدہ کیا جس نے خطے میں کھلبلی مچا دی اگرچہ افریقی دباؤ پر ادیس ابابا کو فی الحال پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات یہاں خاموشی سے اپنی لاجسٹک ایمپائر کھڑی کر رہا ہے۔ اور اب اسرائیل نے آگے بڑھ کر وہ پتھر اٹھا لیا ہے جسے اٹھانے کی جرات کوئی اور نہیں کر رہا تھا۔

سوال یہ ہے کہ تل ابیب کو اچانک صومالی لینڈ میں اتنی دلچسپی کیوں پیدا ہو گئی؟ اس کے جواب میں ہمیں ”تزویراتی تکون“ نظر آتی ہے:

ترکی کا راستہ روکنا: موجودہ صومالیہ (موغادیشو حکومت) ترکی کا قریبی اتحادی ہے۔ ترکی نے صومالیہ میں اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور وہ افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ اسرائیل، صومالی لینڈ کو تسلیم کر کے دراصل ترکی کے عین پہلو میں اپنا ایک اڈہ بنانا چاہتا ہے تاکہ انقرہ کی حکمتِ عملی کو مشکل میں ڈالا جا سکے۔

حوثیوں کے سر پر تلوار: صومالی لینڈ کا جغرافیہ انتہائی اہم ہے۔ یہ یمن کے بالکل سامنے واقع ہے۔ بحیرۂ احمر میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں اسرائیل کی تجارت کے لیے ناسور بن چکی ہیں۔ صومالی لینڈ کی سرزمین اسرائیل کو یہ موقع فراہم کر سکتی ہے کہ وہ یمن میں موجود حوثی اہداف کو آسانی سے نشانہ بنا سکے یا کم از کم ان کی نگرانی مؤثر انداز میں کر سکے۔

بحیرۂ احمر پر کنٹرول: یہ خطہ باب المندب کے راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہے۔ اسرائیل یہاں اپنی موجودگی یقینی بنا کر اپنی میری ٹائم سیکیورٹی ناقابلِ تسخیر بنانا چاہتا ہے۔

اسرائیل کا یہ اقدام تنہا نہیں رہے گا۔ غالب امکان ہے کہ برطانیہ اور امریکہ بھی اس راستے پر چل پڑیں گے۔ صومالی لینڈ کا جغرافیائی محلِ وقوع اتنا قیمتی ہے اور اس کا داخلی استحکام اتنا متاثر کن ہے کہ مغربی طاقتیں اسے زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

لیکن مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ایک مسلم خطہ (صومالی لینڈ) جو تین دہائیوں سے اپنوں کی بے اعتنائی کا شکار تھا، آج اسے اپنی شناخت منوانے کے لیے اسرائیل کا سہارا لینا پڑا۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے منتشر شیرازے اور مفادات کی جنگ میں ”دشمن کا دشمن دوست“ والے پرانے کلیے کی نئی اور خوفناک تعبیر ہے۔

Visited 9 times, 1 visit(s) today

1 thought on “صومالی لینڈ: اسرائیل کا تزویراتی جوا اور افریقہ کے سینگ میں نئی بساط”

  1. Generally I do not learn post on blogs, but I would like to say that this write-up very forced me to take a look at and do
    it! Your writing taste has been surprised me. Thank you,
    very great article.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *