ارادے کی خودمختاری: کانٹ کے اخلاقی فلسفے کے توجہ طلب پہلو

صابر علی

کانٹ کے فلسفے میں ارادے کی خودمختاری ایک اساسی اصول ہے۔ یہ اصول کچھ بنیادی مفروضوں پر قائم ہے جن کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

کانٹ کا موقف واضح طور پر ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:

 ارادے کی خودمختاری وہ اصول ہے جس کے تحت خالص اور عملی عقل، تمام تر خواہشات، جذبات اور بیرونی مقتدرات (جیسے خدا یا ریاست) سے آزاد ہو کر اپنے لیے آفاقی اخلاقی قانون وضع کرتی ہے۔ یہی اخلاقیات کا واحد منبع ہے۔

اس اصول پر چار پہلوؤں سے تنقید کی گئی ہے۔

1۔ کھوکھلی ہیئت پسندی

یہ کلاسک اور طاقتور ترین تنقیدوں میں سے ایک ہے جسے عموماً ہیگل سے منسوب کیا جاتا ہے۔

کانٹ کا ”قطعی حکم“ (وہ طریقِ کار جس کے ذریعے خودمختار ارادہ عمل کرتا ہے) منطقی مطابقت کا ایک پیمانہ ہے نہ کہ اخلاقی مواد پیدا کرنے والا کوئی محرک۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی اصول کو کیسے پرکھا جائے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وہ اصول آتے کہاں سے ہیں۔ یہ جوہر سے خالی محض ایک طریقِ کار ہے۔

”قطعی حکم“ اپنی پہلی تشکیل میں ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ”صرف اس اصول کے تحت عمل کرو جس کے بارے میں تم بیک وقت یہ ارادہ بھی کر سکو کہ وہ ایک آفاقی قانون بن جائے“۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے غیر اہم اور غیر اخلاقی اصول بھی اس معیار پر بخوبی پورے اترتے ہیں جبکہ پیچیدہ مسائل پر کام کرنے کے لیے یہ پیمانہ بذاتِ خود پہلے سے موجود اخلاقی وجدان پر انحصار کرتا ہے۔

مثال: اس اصول پر غور کریں کہ ”میں ہمیشہ دائیں سے پہلے اپنے بائیں جوتے کا تسمہ باندھوں گا“۔ کیا میں اسے ایک آفاقی قانون بنانے کا ارادہ کر سکتا ہوں؟ ہاں، بالکل۔ ایک ایسی دنیا میں کوئی منطقی تضاد نہیں جہاں ہر شخص پہلے اپنے بائیں جوتے کا تسمہ باندھتا ہو۔ اس سے کائنات کا نظام درہم برہم نہیں ہوگا۔ تاہم، اس میں اخلاقی مواد صفر ہے۔ یہ پیمانہ ایک غیر اخلاقی اصول کو کامیابی سے آفاقی بنا دیتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آفاقیت پسندی اخلاقیات کے لیے کافی شرط نہیں ہے۔

مثال: جب کانٹ یہ ”ثابت“ کرتا ہے کہ جھوٹ بولنے کا اصول غیر اخلاقی ہے تو وہ یہ دلیل دیتا ہے کہ اگر ہر کوئی جھوٹ بولنے لگے تو وعدے کا تصور ہی بے معنی ہو جائے گا اور اعتماد ختم ہو جائے گا۔ لیکن ”وعدے کے تصور“ کی بقا بذاتِ خود ایک اخلاقی اچھائی کیوں ہے؟ اسے یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ ایسی دنیا جہاں اعتماد اور وعدے موجود ہوں، وہ اس دنیا سے اخلاقی طور پر بہتر ہے جہاں یہ نہ ہوں۔ یہ مفروضہ خالص عقل سے اخذ نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ اس کے پس منظر، اس کی ثقافت اور اس کی پہلے سے موجود اقدار کا نتیجہ ہے۔

لہٰذا خودمختار ارادہ خالص عقل سے اخلاقیات تخلیق نہیں کر رہا۔ وہ محض پہلے سے موجود سماجی اصولوں اور اخلاقی وجدانات کو لیتا ہے اور صرف ان کی منطقی مطابقت کو پرکھتا ہے۔

2۔ متصادم فرائض کا مسئلہ

کانٹ کا نظام خالص عقل سے اخذ کردہ مطلق اور آفاقی فرائض پر اصرار کرنے کی وجہ سے انتہائی سخت گیر ہے اور حقیقی دنیا کی اخلاقی پیچیدگیوں کے سامنے دم توڑ دیتا ہے۔

اگر خودمختار ارادہ کامل اور استثنیٰ سے پاک فرائض وضع کرتا ہے تو اس وقت کیا ہوتا ہے جب دو کامل فرائض براہِ راست ایک دوسرے سے متصادم ہو جائیں؟ ایک حقیقی منطقی نظام کو اس کے حل کے لیے کوئی میکانزم فراہم کرنا چاہیے۔ کانٹ کا نظام ایسا نہیں کرتا۔

اس کی سب سے نمایاں مثال ”تفتیش کرنے والا قاتل“ ہے۔ ایک قاتل آپ کے دروازے پر آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا آپ کا دوست جسے وہ قتل کرنا چاہتا ہے، اندر چھپا ہوا ہے؟ کانٹ کے نزدیک آپ پر جھوٹ نہ بولنے کا کامل فرض عائد ہوتا ہے۔ دوسری طرف آپ پر ایک معصوم جان بچانے کا فرض بھی عائد ہوتا ہے (جسے آفاقی بنایا جا سکتا ہے)۔ یہ فرائض ایک دوسرے سے کلی طور پر متصادم ہیں۔

کانٹ کا اپنا سخت جواب یہ تھا کہ آپ کو ہرگز جھوٹ نہیں بولنا چاہیے کیونکہ آپ کے اعمال کے نتائج آپ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہیں۔ آپ کی واحد ذمہ داری اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔

بیش تر فلاسفہ اس نتیجے کو اس کے نظام کی ”دلیلِ خلف“ قرار دیتے ہیں جو اسے باطل ثابت کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ”خالص“عقل سے ماخوذ اخلاقیات جو انسانی نتائج اور سیاق و سباق سے کٹی ہوئی ہو، وہ انتہائی ہولناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

لہٰذا خودمختار ارادہ، آفاقیت کی اپنی جستجو میں ایک ایسا نظام تشکیل دیتا ہے جو کھوکھلا ہے اور اخلاقی زندگی کی نزاکتوں کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ یہ فرائض کی ترجیحات کا تعین کرنے کی اجازت نہ دے کر حقیقت کے امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ ترجیحات کا تعین ایک ایسا کام ہے جس کے لیے خالص منطق سے کچھ زیادہ درکار ہوتا ہے—اس کے لیے حکمت، سیاق و سباق اور نتائج پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

3۔  فضیلت کی اخلاقیات

ارسطوی فکر میں پیوست یہ استدلال اس بات کی نشاندہی کر کے کانٹ کا رد کرتا ہے کہ اخلاقیات کا تعلق محض انفرادی اعمال کی منطق سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی فاعل کے کردار، جذبات اور میلانات سے ہے۔

کانٹ کا یہ اصرار کہ کسی عمل کی اخلاقی قدر صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب وہ محض فرض کی ادائیگی کے لیے کیا جائے، اخلاقی زندگی کی ایک سرد مہر، خلافِ وجدان اور نفسیاتی طور پر کھوکھلی تصویر پیش کرتا ہے۔

کانٹ فرض کی خاطر عمل کرنے اور فرض کے مطابق عمل کرنے کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔ اگر آپ کسی بیمار دوست کی عیادت کے لیے جاتے ہیں کیونکہ آپ اس کے لیے ہمدردی اور محبت محسوس کرتے ہیں تو آپ فرض کے مطابق تو عمل کر رہے ہیں لیکن آپ کے عمل کی کوئی خالص اخلاقی قدر نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کچھ محسوس نہیں کرتے لیکن اسے اپنا عقلی فرض سمجھتے ہوئے عیادت کے لیے جاتے ہیں تب آپ کا عمل اخلاقی ہے۔

یہ ایک گمراہ کن نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔  وہ شخص جسے صحیح کام کرنے کے لیے اپنی خود غرضانہ خواہشات کو دبانا پڑتا ہے، وہ اخلاقی طور پر اس شخص سے برتر ہے جس کے لیے مہربان اور ہمدرد ہونا اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکا ہو۔

اخلاقِ فضیلت کے حامی اس کے برعکس استدلال کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں بااخلاق شخص وہ ہے جس کی خواہشات اور عقل میں ہم آہنگی ہو۔ وہ صحیح کام کرنا چاہتا ہے اور اس میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ ان کے نزدیک مہربانی ایک پختہ کردار سے پھوٹتی ہے نہ کہ فرض کے کسی بے روح اور سرد حساب کتاب سے۔

لہٰذا ارادے کی خودمختاری، عقل کو باقی انسانی شخصیت (جذبات، کردار، معاشرے) سے الگ کر دیتی ہے۔ یہ کسی عمل کے منطقی جواز ہی کو مکمل اخلاقیات سمجھنے کی غلطی کرتی ہے اور اس انتہائی اہم سوال کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ ایک اچھا انسان ہونے کا کیا مطلب ہے، نہ کہ محض اصولوں کی پیروی کرنے والا ایک اچھا مقلد۔

4۔ مابعد الطبیعیاتی بوجھ

یہ ایک داخلی تنقید ہے جو اس بنیاد ہی پر حملہ کرتی ہے جس پر ارادے کی خودمختاری کی عمارت استوار ہے۔

ایک ”خودمختار“  ارادے کا پورا تصور (جو خواہشات اور تجرباتی اثرات کی علت و معلول کی زنجیر سے آزاد ہو) حقیقت کو دو جہانوں میں تقسیم کرنے کے کانٹ کے نظریے پر منحصر ہے:

عالمِ مظاہر یا فینومینل (ہمارے حواس کی دنیا جو علت و معلول کے تابع ہے) اور

 عالمِ معقولات یا نومینل (اشیا بذاتہ کی دنیا جہاں خالص عقل اور حقیقی آزادی کا بسیرا ہے)۔

ہمیں کیسے معلوم کہ اس عالمِ معقولات کا کوئی وجود ہے؟ کانٹ خود تسلیم کرتا ہے کہ ہم اس کا کوئی نظری علم نہیں رکھ سکتے۔ ہم اسے ثابت کر سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اپنی آزادی اور اخلاقیات کے احساس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسے محض فرض کرنا پڑتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ”ارادے کی خودمختاری“  کوئی منطقی نتیجہ نہیں ہے؛ یہ ایک مابعد الطبیعیاتی مفروضہ ہے۔ یہ ایک عقیدہ ہے جس کی ضرورت اس اخلاقی نظام کو کھڑا کرنے کے لیے پیش آتی ہے۔

اگر آپ اس انتہائی قیاسی اور ناقابلِ ثبوت ”دو جہانوں“ کی مابعد الطبیعیات کو تسلیم نہیں کرتے تو کانٹ کا پورا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سائنسی فطرت پسند جو یہ مانتا ہے کہ ذہن دماغ کا ایک فعل ہے اور وہ طبعی دنیا کے علتی روابط کے دائرے میں ہی مکمل طور پر وجود رکھتا ہے، وہ ایک ”نومینل“  یا خودمختار ارادے کے تصور کو محض ایک فسانہ قرار دے گا۔

لہٰذا کانٹ کی خودمختاری کا تصور خالص منطق سے ماخوذ نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑے اور غیر ثابت شدہ مابعد الطبیعیاتی مفروضے سے اخذ کیا گیا ہے۔ وہ اخلاقیات کی بنیاد محض عقل پر رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ اس کی بنیاد ایک مخصوص اور انتہائی قابلِ بحث مابعد الطبیعیاتی مفروضے پر رکھ رہا ہے۔ یہ بنیاد کوئی ٹھوس چٹان نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک مابعد الطبیعیاتی قیاس ہے۔

Visited 12 times, 3 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *