روحوں کی گرفتاری کا نظام (قسط سوم)

صابر علی

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ”علم بڑی طاقت ہے“ (Knowledge is Power)۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ علم حاصل کر کے انسان بااختیار ہو جاتا ہے؟ یا اس کا کوئی زیادہ بھیانک مطلب بھی ہو سکتا ہے؟

جدید مغرب میں علم اور طاقت کا رشتہ وہ نہیں جو ہمارے پرانے حکماء یا صوفیاء کے ہاں تھا۔ پرانے زمانے میں علم کا مقصد ”اخلاق کی تعمیر“ تھا لیکن جدید دور میں علم کا مقصد ”کنٹرول اور حاکمیت“ (Sovereignty) ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے استعمار (Colonialism) جنم لیتا ہے۔

آئیے اس پیچیدہ جال کی گرہیں کھولتے ہیں۔

اسلام میں علم اور طاقت کا رشتہ

آخر اسلامی تہذیب نے جو صدیوں تک دنیا کی سپر پاور رہی، کبھی ”اورینٹلزم“ جیسا کوئی علم کیوں پیدا نہیں کیا؟ مسلمانوں نے یونان، ہند اور افریقہ کو فتح کیا، لیکن انہوں نے وہاں کے لوگوں پر تحقیق کرنے، انہیں ”سمجھنے“ اور پھر ان کی نفسیات کو بدلنے کے لیے یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے کیوں نہیں بنائے؟

اس کا جواب ”اخلاقی رکاوٹ“(Ethical Benchmark) میں چھپا ہے۔

اسلامی نظام میں ”قانون“(شریعت) ریاست کے تابع نہیں تھا، بلکہ ریاست قانون کے تابع تھی۔ ایک بادشاہ یا خلیفہ اپنی مرضی سے شریعت کو نہیں بدل سکتا تھا۔ شریعت کا علم علماء کے پاس تھا جو عوام کا حصہ تھے، ریاست کے ملازم نہیں۔ اس نظام میں علم کا مقصد انسان کو خدا کے سامنے جوابدہ بنانا تھا۔

اس کے برعکس، جدید ریاست (Modern State) نے قانون کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔ جدید دور میں قانون وہ ہے جو ریاست بنائے۔ یہ ”خود مختاری“(Sovereignty) کا وہ تصور ہے جس نے ریاست کو زمین پر خدا بنا دیا۔ جب ریاست ہی حق اور باطل کا فیصلہ کرنے والی بن گئی تو اس نے علم کو استعمال کرتے ہوئے انسانوں کو اپنی مرضی کے سانچوں میں ڈھالنا شروع کر دیا۔

کارپوریشن بمقابلہ وقف

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اسلامی دنیا جو تجارت اور معیشت میں بہت آگے تھی، نے ”کارپوریشن“(Corporation) یا کمپنی کیوں نہیں بنائی؟

وجہ تکنیکی نہیں، اخلاقی تھی۔

کارپوریشن کا بنیادی اصول ”محدود ذمہ داری“(Limited Liability) ہے۔ یعنی اگر کمپنی ڈوب جائے یا کوئی نقصان کرے تو اس کے مالکان کی ذاتی جائیداد محفوظ رہتی ہے؛ وہ اخلاقی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرتے۔ اسلام کا اخلاقی ڈھانچہ اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا کہ ایک انسان نفع تو کمائے لیکن نقصان یا اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جائے۔ اسلام میں ”وقف“کا ادارہ تھا جہاں انسان اپنی جائیداد اللہ کے نام پر وقف کرتا تھا، نہ کہ منافع کی ہوس میں ذمہ داری سے بھاگنے کے لیے۔

مغرب نے جب اخلاقیات کو معیشت سے الگ کیا  تب ہی وہ کارپوریشن بنانے میں کامیاب ہوا اور یہی کارپوریشنز آگے چل کر ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی استعماری قوتیں بنیں جنہوں نے دنیا کو لوٹ کھایا۔

استعماری انجینئرنگ

ایڈورڈ سعید کا خیال تھا کہ اورینٹلزم صرف کتابوں اور لائبریریوں تک محدود تھا۔  نہیں! یہ کتابیں دراصل وہ نقشے تھے جن کی مدد سے زمین پر موجود انسانوں کی کتر بیونت کی گئی۔

برطانوی ہند، ڈچ انڈونیشیا، فرانسیسی الجزائر اور عثمانی سلطنت کی مثالیں دیکھنے سے معلوم ہو جائے گا  کہ استعمار نے کس طرح ”قانون“(Law) کو استعمال کر کے ہماری روحیں قبض کیں۔

1۔  استعمار نے سب سے پہلے ہمارے ”وقف“کے نظام پر حملہ کیا۔ کیوں؟ کیونکہ وقف وہ معاشی بنیاد تھی جس نے علماء، تعلیمی اداروں اور غریبوں کو ریاست کی محتاجی سے آزاد رکھا تھا۔ جب وقف ختم ہوا، تو علماء اور تعلیم ریاست کے رحم و کرم پر آ گئے اور ریاست نے انہیں اپنی مرضی کا نصاب پڑھانے پر مجبور کر دیا۔

2۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اسلامی قوانین کو اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا اور انہیں ”کوڈز“(Codes) کی شکل دی۔ بظاہر یہ ایک علمی خدمت تھی لیکن درحقیقت اس نے شریعت کی روح نکال دی۔ شریعت ایک زندہ اور لچکدار چیز تھی جو مفتی اور قاضی کی بصیرت سے چلتی تھی؛ استعمار نے اسے ایک سخت اور بے جان قانون بنا دیا جو صرف ریاست کی عدالت میں چلتا تھا۔

اس سارے عمل کا حتمی نتیجہ کیا نکلا؟ ایک نیا انسان!

وہ مسلمان جو پہلے خود کو ایک اخلاقی وجود سمجھتا تھا جس کا رشتہ خدا، برادری اور کائنات کے ساتھ جڑا ہوا تھا، اب وہ ایک ”شہری“ (Citizen) بن گیا۔ ایک ایسا شہری جو اندر سے خالی ہے جو صرف ریاست کے قوانین سے ڈرتا ہے (خدا سے نہیں) اور جو زندگی کو صرف مادی ترقی اور نفع نقصان کی عینک سے دیکھتا ہے۔

یہ ہے اورینٹلزم کی اصل کامیابی۔ اس نے صرف ہماری تاریخ نہیں بدلی، اس نے ”ہمیں“بدل دیا۔ ہم آج بھی اسی استعماری سکول، اسی عدالتی نظام اور اسی ریاستی ڈھانچے میں جی رہے ہیں جو ہمیں ”ڈسپلن“ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

خلاصہ یہ کہ جدیدیت اور استعمار نے علم اور طاقت کا ایک ایسا شیطانی اتحاد قائم کیا جس نے فطرت پر غلبہ پانے  کے شوق میں انسان کو بھی فطرت کا ایک حصہ سمجھ کر فتح کر لیا۔ ہم آج آزاد تو ہیں لیکن ہماری سوچ، ہمارے ادارے اور ہمارا طرزِ زندگی ابھی تک اسی علمی حاکمیت (Epistemic Sovereignty) کے غلام ہیں جو مغرب نے ہم پر مسلط کی تھی۔

قسط اول کے لیے کلک کریں

قسط دوم کے لیے کلک کریں

قسط چہارم کے لیے کلک کریں

قسط پنجم کے لیے کلک کریں

آخری قسط کے لیے کلک کریں

Visited 3 times, 1 visit(s) today

2 thoughts on “روحوں کی گرفتاری کا نظام (قسط سوم)”

  1. Pingback: تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم) – bayania.com

  2. Pingback: استشراق: ادھوری کہانی سے آگے (قسط اول) – bayania.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *