نظر: ناقابلِ دید کی دید، قسط دوم

صابر علی

ناقابلِ دید کی دید

ایسی صورت حال جس میں کوئی کسی چیز کو دیکھتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا ایک عام تجربہ ہو سکتا ہے تاہم، یہ صورت حال کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قرآنی حکایت کے ذریعے اسلام میں ایک مذہبی اہمیت حاصل کر لیتی ہے۔ سورۃ الاعراف میں قرآن پاک موسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور مشن کی تفصیلات اور کوہ سینا پر خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کی بصری ملاقات اور زبانی گفتگو بیان کرتا ہے۔ یہ مثال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ دیدہ، نادیدہ  اور ناقابلِ دید کےمابین متحرک تعامل کے تناظر میں ”دیکھنے“ ، ”دیکھنے کی طلب“ (نظر) اور رویت کا تعلق متعین کرتی ہے۔ سورۃ اعراف کی آیت 143 میں ہے:

اور جب موسٰی ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر کوہ طور پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا، تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے اپنا جلوہ دکھا کہ میں تیرا دیدار کروں؛ فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اور موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔(اردو ترجمہ  مولانافتح محمد جالندھری ؒ)

موسیٰ علیہ السلام کا بصری تجربہ جو آپ کے جملے اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْکَ(مجھے دیدار کروائیے، میں آپ کی طرف نظر کیے ہوئے ہوں) میں بیان ہوا  ہے، واضح طور پر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ آپ دیکھ رہے تھے یا دیکھنے کی طلب (نظر) میں تھے، غالباً آپ اس آواز کی سمت میں دیکھ رہے تھے جو آپ کو سنائی دے رہی تھی (اس کے رب نے اس سے بات کی) لیکن آپ دیکھنے (رویت) سے قاصر تھے۔ قرآن کے مفسرین اور علماء  کے لیے یہ ”نظر “اور ”رویت“ کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے؛ اس سے کئی سوال جنم لیتے ہیں کیوں کہ دونوں کا تعلق بصری رابطے اور بصری ادراک سے ہے۔ یہ کیسے ہے کہ کوئی  شعوری طور پر کسی چیز کو دیکھ سکتا یا اس پر نظر جما سکتا  ہے لیکن اسے نہیں دیکھ سکتا یعنی اس کی رویت نہیں ہوتی؟ وہ کیا ہے جو کسی کو دیکھنے کے قابل بناتا ہے؟ بصری تجربے میں بصر (وژن) کی نوعیت اور کردار کیا ہے؟ ان سوالات کو حل کرنے کے لیے علما نے بصری ادراک میں شامل تین پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے: آنکھ سے رابطہ، بصارت، اور دیکھنا۔ بصری ادراک کے لیے کسی کو اس چیز کے سامنے ہونا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ آنکھ سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، یہ نظر (دیکھنے کی کوشش) ہے۔ پھر دیکھنے کے طالب کے پاس بصارت کی طاقت (بصر) ہونا ضروری ہے جو روشنی اور دیکھنے کےلیے ضروری شرائط سے متعلق ہے۔ جب یہ دونوں پہلو کام کرتے ہیں اور صحیح طریقے سے کام کرتے ہیں تو دیکھنے کا تجربہ (رویت) ہوتا ہے۔

علما نے وضاحت کی ہے کہ یہ تینوں پہلو مختلف طریقوں سے کیسے کام کرتے ہیں۔ مثلاً اندلسی صوفی ابن عربی (متوفی 1240) بصری فہم کی نوعیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”تم نے اس شکل کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں دیکھی جو بصارت کے ساتھ تمہاری نظر  سے متعین ہو اور وہ حقیقی ہو(ما رأیت الاصورۃً قیّدھا نظرُک ببصرٍ ھو الحق([1]))۔ہر چیز، عمل اور مظہر میں الوہی جوہر پہچاننے کے خواہش مند صوفی  ہونے کے ناطے ابن عربی بصر یعنی  قوتِ بصارت کو  ایک الوہی جوہر تصور کرتے ہیں جو غیر مرئی روح ہے اور  دیکھنے میں جان ڈالتی ہے۔ ”نظر“ جسے یہاں پر بطور ”نظارہ“پیش کیا گیا ہے،فی نفسہٖ دیکھنا نہیں بلکہ بصری شناخت (تقیید الصورۃ) کے ذریعے شکل (صورت) کو گرفت میں لاتے ہوئے دیکھنے میں سہولت دینے والی ہے۔ رویت اس وقت ہوتی ہے جب کسی کی نظر اس قابل ہو کہ صورت کو گرفت میں لائے اور بصارت کی طاقت برقرار ہو اور روشنی کے ذریعے متحرک ہو۔ ابن عربی کی بصری ادراک کی نوعیت کی وضاحت کے مطابق، موسیٰ علیہ السلام دیکھنے سے قاصر تھے کیوں کہ آپ کی نظر خدا کی صورت کی تقیید سے عاجز تھی کیوں کہ خدا کی کوئی صورت نہیں ہے کہ وہ انسانی نظروں میں آ سکے۔ تاہم موسیٰ علیہ السلام کی نظر (بصر) کام کر رہی تھی، اسی لیے آپ نے بے چینی سے التجا کی کہ ’’مجھے دیدار کروائیے، میں آپ کو دیکھ رہا ہوں‘‘ (اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْکَ )۔  اَرِنِیْۤ کی تفسیر یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ ” اپنی موجودگی کو میری آنکھوں پر ظاہر کر دیجیے یا ”مجھے اپنا آپ دکھائیے“تاکہ میری نظر آپ کی بصارت سے پہچانی جا سکنے والی صورت کو احاطۂ بصارت میں لا سکے۔

اندلس کے جلیل القدر قاضی اور محدث ابو بکر ابن العربی نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی خارقِ عادت بصری قوتوں کی شرح کرتے ہوئے بصری ادراک کی ماہیئت کے بارے میں ماقبل جدیدیت کے اسلامی تصورات پر جو روشنی ڈالی ہے، وہ العسکری اور ابن عربی کے افکار کی تکمیل کرتی ہے([2])۔ وہ رقمطراز ہیں کہ ”بصری ادراک “(الادراک) درحقیقت ایک ایسا ’معنی‘ ہے جسے اللہ تعالیٰ آنکھ میں ناظر کے اس ارادے کے مطابق تخلیق فرماتا ہے جو وہ مرئی اشیاءکو دیکھنے کے لیے کرتا ہے([3])۔ ناظر کا یہ ’دیکھنے کا ارادہ‘ اس کی فطری استعداد اور رجحان کے تابع ہوتا ہے، چونکہ نبی کریم ﷺ کو غیر معمولی اور اعلیٰ ترین قوتوں سے ودیعت کیا گیا تھا، لہٰذا آپ ﷺ ان حقائق کا مشاہدہ کرنے پر بھی قادر تھے جو عام انسانی نگاہ کی گرفت اور رسائی سے باہر تھے([4])۔

عظیم محدث حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’ابصار‘اور ’رؤیت‘کے مابین لطیف علمی تفریق قائم کر کے اس موقف کو مزید استدلال فراہم کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ’ابصار‘ کے برعکس ’رؤیت‘ عقلی طور پر دیکھنے کے آلے یعنی آنکھ کے وجود کی قطعاً محتاج نہیں ہے کیونکہ جمہور علمائے اہل سنت کے ہاں یہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ ”دیکھنا“ یعنی رؤیت قربت یا بصری رابطے کے بغیر بھی ممکن ہے([5])۔ یوں وہ محدث ابن العربی کے اس نظریے کی توثیق کرتے ہیں کہ نیت  بذاتِ خود ایک طرح کی تجسیم یا ویژولائزیشن بن سکتی ہے جس کا انحصار انسان کی بصری وسعت پر ہے۔ اسی تناظر میں، حضرت موسیٰ علیہ السلام دیدار سے قاصر رہے کیونکہ ان کی بصری استعداد محدود تھی جس نے الوہیت کے معنی کو آپ کی آنکھوں میں بصری شکل میں متشکل ہونے کی اجازت نہ دی۔

سترھویں صدی عیسوی کے نامور مصری عالم علامہ عبد الرؤف المناوی اس سہ فریقی عمل (یعنی نظر، بصر اور رؤیت) کی حرکیات و کارفرمائی کی بابت قدرے مختلف توجیہ پیش کرتے ہیں۔ اپنی لغت ”التوقيف على مهمات التعاريف“ میں وہ اندلسی عالم ابو الحسن الحرالی کے حوالے سے ’نظر‘ کی تعریف یوں متعین کرتے ہیں کہ یہ ’دیکھنے کی جستجو‘ کا نام ہے، نہ کہ خود ’دیکھنے‘کا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’نظر‘ دراصل ”آنکھ کے ذریعے محسوسات کے بصری ادراک کی تلاش“  کا نام ہے، بالکل اسی طرح جیسے ”ذکر کے ذریعے قلب کے ساتھ معنی کی تلاش“ کی جاتی ہے([6])۔ وہ الحرالی کا قول نقل کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ ’نظر‘ کسی صورت یا شبیہ کے ساتھ آنکھ کا اولین رابطہ ہے([7])۔ جونہی ناظر کو اس بصری تجربے کا شعور حاصل ہوتا ہے تو قوتِ بینائی اپنا عمل دخل شروع کر دیتی ہے: یہ مرحلہ ’بصر‘ کہلاتا ہے۔ اور جب ناظر کی بینائی خارجی صورت میں سرایت کر کے یہ شناخت کر لیتی ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے تو یہ ’رؤیت‘ بن جاتی ہے([8])۔ اس تفہیم کی روشنی میں، عملِ دید (رؤیت) اس سہ مرحلہ عمل کے اختتام پر وقوع پذیر ہوتا ہے جس کا آغاز ’نظر‘ سے ہوتا ہے اور جس کی تکمیل ’بصر‘ کی وساطت سے ہوتی ہے۔ اگر ہم اس نظریے کا اطلاق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بصری تجربے پر کریں تو آپ دیکھنے سے اس لیے قاصر رہے کیونکہ (تجلی کی) صورت کے ساتھ آپ کی آنکھ کا اولین رابطہ ہی قائم نہ ہو سکا۔ نتیجتاً، آپ  محض تکتے رہ گئے مگر دیکھنے کی تاب نہ لا سکے۔

المناوی کے نزدیک، بطورِ صورت کے ساتھ آنکھ کا پہلا رابطہ، ’نظر‘ بذاتِ خود دیکھنا نہیں ہے اور نہ ہی یہ لازمی طور پر دیکھنے پر منتج ہوتا ہے۔ یہ درحقیقت وہ ذہنی آگہی ہے جو بصری رابطے کے نتیجے میں بیدار ہوتی ہے اور ابتدائی بصری رابطے کو بصری ادراک (رؤیت) میں منقلب کر دیتی ہے مگر یہ سب ’بصر‘ کے وسیلے ہی سے ممکن ہے۔ اپنے نظریے کی تائید میں، المناوی قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں: ’’اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف تک رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ نہیں سوجھتے (یعنی ان میں بصیرت نہیں)‘‘ (الاعراف: ۱۹۸)۔ یہ آیت ان بتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی پرستش عرب قبل از اسلام کیا کرتے تھے۔ ان بتوں کی آنکھیں تو ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ بصری رابطہ بھی قائم کر رہے ہیں لیکن وہ اس قوتِ بینائی (بصر) سے محروم ہیں جو انہیں حقیقت میں دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔

العسکری کی ان معنوی توضیحات و موشگافیوں کی جانب مراجعت کرتے ہوئے جن کا تذکرہ قبل ازیں ہو چکا ہے، اگر ہم ’نظر‘ کو کسی ’صورت‘کے بصری ظہور یا تجلی کی ’طلب‘ (Seeking) سے تعبیر کریں تا کہ اسے دیکھا جا سکے، تو اس سے عملِ رؤیت کی ایک ایسی تفہیم سامنے آتی ہے جو خالصتاً عرب اسلامی تہذیب کا طرۂ امتیاز ہے۔ ’ظہور کی یہ جستجو‘ عملِ دید میں دیکھنے والے موضوع یعنی ’ناظر‘ اور دیکھے جانے والے معروض یعنی ’منظور‘ دونوں ہی کو فعال اور متحرک کردار عطا کرتی ہے جبکہ بصری ادراک کے عمل کی محض جبلتی نوعیت اور اس کی معروضی خود مختاری کی حیثیت کو ثانوی بنا دیتی ہے۔ یہ نظریاتی زاویہ اس امکان کی راہ ہموار کرتا ہے کہ ایک ہی حقیقت یا معروض مختلف صورتوں میں متشکل ہو کر ظاہر ہو سکتا ہے اور مختلف ناظرین اسے اپنے اپنے ظرف کے مطابق مختلف انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بصری تجربے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نظریہ ہمیں ان کے ’دیکھنے‘ (Looking) مگر ’نہ سوجھنے‘ (Not seeing) کی کیفیت کا ادراک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ خدا کے بصری ظہور یا ربانی صورت کی تجلی کے تو متلاشی تھے،مگر یہ امر وقوع پذیر نہ ہو سکا کیونکہ خدا کی کوئی ایسی بصری صورت نہیں ہے جو اس کے وجودِ مطلق کو کسی ہیئت میں مقیدکر سکے۔

دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا اور یوں صوت و آہنگ کے توسط سے ایک سمعی و صوتی الوہی حضوری آشکار کی۔ چونکہ آواز بصارت کی طرح جہت اور سمت کی پابند ہونے سے گریز کرتی ہے، لہٰذا کان کو آنکھ پر ایک خصوصی امتیاز اور فوقیت حاصل ہے؛ وہ یوں کہ سماعت کسی بھی قسم کی بصری تحدیدکے بغیر ہی حالتِ ادراک ممکن بنا دیتی ہے([9])۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’نظر‘ اپنے تقابلی مفہوم (آمنے سامنے ہونا) میں صوتی مڈبھیڑ یا سامعہ پر اطلاق پذیر نہیں ہوتی جیسا کہ یہ لمس کے ذریعے ہونے والے حسی رابطے پر لاگو ہوتی ہے،جس کی صراحت العسکری نے کی ہے۔ قرآنِ کریم نے کائنات کی تخلیق کے الوہی عمل کو ’قول‘ اور ’سماعت‘ کے ذریعے وقوع پذیر ہونے سے تعبیر کیا ہے: ’’جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا کام یہی ہے کہ اسے حکم دے: ’ہو جا‘! اور وہ ہو جاتی ہے‘‘ (یس: ۸۲)۔ ایجاد و تکوین کے ان دو تولیدی اصولوں کو تشکیل دیتے ہوئے ’نطق‘ اور ’سماعت‘ میں ایک ایسی بین التفاعلی صوتی و سمعی حضوری پیدا کرنے کی صلاحیت مضمر ہے جو انسان کو دوبارہ خدا سے مربوط کرنے پر قادر ہے([10])۔

مذکورہ بالا معنوی تجزیات نے بصری ادراک کی جوپیچیدہ ماہیئت بے نقاب کی ہے، وہ ہمارے جدید اور سائنس پر مبنی تصورات کے لیے چند چیلنج کھڑے کرتی ہے۔

اولاً، ’دیکھنے کی جستجو‘کے مرحلے کا تعارف بصری ادراک کی فوریت (Immediacy) توڑ دیتا ہے اور ادراک کے عمل میں تعقلی، تخیلی اور کشفی عوامل کی مداخلت کی راہ ہموار کرتا ہے، یہ ادراک فہم کے ایسے وسیع تر دائرہ کار کا متقاضی ہے جو محض حسی مشاہدے سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں، ناظر اور منظور کے مابین اٹوٹ بندھن، نیز مرئی شے کی تشکیل میں ناظر کا مؤثر عمل دخل، معروضیت کی اس مروجہ نوعیت کو چیلنج کرتا ہے جو ایک آزاد اور خود قائم حقیقت (یعنی خارجی دنیا) کی مستقل اور ٹھوس خصوصیات کو اولیت دیتی ہے۔ اسلامی تفہیم میں لچک اور تغیر پذیری کی گنجائش کلیدی حیثیت رکھتی تھی جس کے تحت ناظر کی نیت اور افتادِ طبع کے مطابق مرئی حقیقت کے بدلنے کا امکان تسلیم کیا جاتا تھا، اسے مابعد کارتیسی سائنسی شعور نے یکسر معدوم کر دیا ہے۔

ثانیاً، ناظر کی مؤثر فعالیت اور مرئی حقیقت کی تغیر پذیری ایک ایسی فضا مہیا کرتی ہے جس میں خارق العادہ، غیر متوقع اور ناقابلِ فہم امور کے ظہور کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس موقف کی صراحت ان عقل پرستوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کی ہے جو ’غیر متغیر فطری عادات‘ (العادۃ) کے داعی ہیں اور انہیں ’اہلِ بدعت‘ میں شمار کیا ہے([11])۔ چنانچہ، ماقبل جدیدیت کے اسلامی تصور میں ہمیشہ اس امر کی گنجائش موجود رہی ہے کہ ایک ’عادی دنیا‘ (Habitual World) کے تسلسل اور قوانینِ فطرت کے طے کردہ اشیاء کے معمول کو توڑا جا سکے (یعنی خرقِ عادت ممکن ہو)۔ اس پیدا شدہ خلا میں، ایک مافوق البشر یا ربانی قوت تاریخ کے الٹ پھیر، واقعات کی تخلیق اور اشیاء کی ساخت گری میں اپنے ایک خاص ماورائی مقصد کے تحت تصرف کرتی ہے۔ وجود پذیر ہونے کی یہ کیفیت ’نظر‘ کا معروض قرار پائی جسے ’دیدۂ عبرت‘کے مفہوم میں سمجھا گیا([12])۔

آخری بات یہ کہ ’معنی‘کو ایک ایسی حقیقت گرداننا جسے باری تعالیٰ ذہن کے بجائے آنکھ میں تخلیق فرماتا ہے، ہمارے ان مروجہ تصورات کے لیے ایک اور کڑا چیلنج پیش کرتا ہے جو حس اور استدلال کے مابین تفریق روا رکھتے ہیں، یہ جدید تصورات ’محسوس‘اور ’معقول‘میں خطِ امتیاز کھینچتے ہیں اور حس پر عقل کو فوقیت دیتے ہیں۔ بالعموم معانی کا تعلق فکر و تدبر سے جوڑا جاتا ہے اور یوں انہیں حواس کے بجائے ذہن کی پیداوار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب معانی کا رشتہ آنکھ سے استوار ہو جاتا ہے تو آنکھ ایک ’ادراکی صلاحیت‘کی حامل قرار پاتی ہے؛ ایسے میں بصری التباس (Visual illusion) ایک نئی معنویت اختیار کر لیتا ہے اور شناخت کے عمل میں پائی جانے والی ’فوریت‘ (Immediacy) تمثیل  کی نفی کرنے اور تعبیر و تشریح کا کردار محدود کرنے کی طرف مائل ہو جاتی ہے([13])۔

اس تبدیلی کے مضمرات فقیہ ابن العربی کی اس توجیہ میں دیکھے جا سکتے ہیں جو انہوں نے ’پشت بینی‘یا پیچھے کی طرف دیکھنے کے حوالے سے پیش کی ہے۔ وہ انسان کے پیچھے نہ دیکھ سکنے کو ’بصری عجز‘ یا ’قوت کا فقدان‘ (غیب القدرۃ) قرار دیتے ہیں جس کی تلافی کے لیے ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے ’آئینہ‘ تخلیق کیا۔ ابن العربی کے نزدیک آئینے کا وجود انسان کی محدود بصری صلاحیت پر دلیل بھی ہے اور اس کی توسیع بھی۔ تاہم، انسانی قوتِ بصارت  کی توسیع کے طور پر آئینے کی وساطت ایک مسئلہ بن جاتی ہے کیونکہ عکس کا ظہور اصل شے اور اس کی شبیہ کے درمیان ’دوئی‘ پیدا کر دیتا ہے۔ اس دوئی پر قابو پانے کے لیے، ابن العربی یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ آئینے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ کسی شے کی ’مثال‘نہیں بلکہ وہ ’خود شے‘ ہے یعنی اس کی ’حقیقت‘([14])۔ اس کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں کہ آئینے میں وہ خلائی گہرائی یا مادہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا جو اس کے اندر کسی تصویر کا تجسم سہار سکے، اگرچہ وہ گہرائی اور تجسم کا التباس ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ مظہر ان پر یہ ثابت کرتا ہے کہ ’انعکاسی حضوری‘ جو دیکھنے کی نیت کے تابع ہوتی ہے، کسی قسم کی ’غیریت‘ یا نمائندگی کی متقاضی نہیں ہوتی: پس وہ معنی جسے خدا آنکھ میں—نہ کہ ذہن میں—تخلیق کرتا ہے وہ بعینہٖ اسی شے کا ہوتا ہے([15])۔

[1] ابن عربی، (سن اشاعت موجود نہیں)، الفتوحات المكية في معرفة الأسرار المالكية والملكية  (بیروت: دارالاحیا التراث العربی)، جلد 4: 23۔

[2]  ابن العربی، 1992، كتاب القبس في شرح موطأ مالك بن أنس (بیروت: دارالغرب الاسلامی)، جلد ۱: ۳۶۱-۳۶۰۔

[3] ابن العربی، 1992، جلد ۱: ۳۶۱-۳۶۰۔

[4] مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:

Samer Akkach, 2015, ‘The Eye of Reflection: al-Nabulusi’s Spatial Interpretation of Ibn Arabi’s Tomb.’ In Muqarnas: An Annual on the Visual Cultures of the Islamic World 32: 79–95 (Leiden: Brill).

[5]  العسقلانی، (سن اشاعت موجود نہیں)، فتح الباری بشرح صحيح البخاری (بیروت: دارالمعرفہ، 13 ج) ، جلد ۱: ۵۱۴۔

[6]  عبد الرؤوف المناوی، 1990، التوقيف على مهمات التعاريف (قاہرہ: عالم الکتب) ، ۳۲۶۔

[7]  المناوی، 1990، ۳۲۶۔

[8]  المناوی، 1990، ۳۲۶۔

[9]  اسلام میں صوتی فضااور تخلیقی سماعت پر بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے:

Samer Akkach, 2005, Cosmology and Architecture in Premodern Islam: An Architectural Reading of Mystical Ideas (New York: SUNY), 195–206.

[10]  تلاوت کی ان صوفیانہ مجالس کا مقصد بھی یہی ہے جنہیں ’سماع‘ (سننا) کہا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے: عکاش، 2005، 2006۔

[11]  العسقلانی، فتح الباری، جلد ۱: ۵۱۴۔

[12]  میں نے اپنے مضمون میں ’دیدۂ عبرت‘کے تصور پر بحث کی ہے، 2015، ص  ۹۵-۷۹۔

[13]   ایک خاص صوفیانہ نقطہ نظر سے، حواس خطا نہیں کرتے کیونکہ ان کے جاننے کا انداز براہِ راست ہوتا ہے جس میں کوئی وساطت (mediation) شامل نہیں ہوتی۔

[14] ابن العربی، القبس، جلد ۱: ۳۶۱۔

[15]  ابن العربی، القبس، جلد ۱: ۳۶۱۔

Visited 6 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *