معنویاتی وسعت
دیکھنا اور دیکھا جانا ایسے پیچیدہ عمل ہیں جو ذاتی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی نتائج کے حامل ہیں۔ عربی زبان میں انسانی ادراکی تجربے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی اصطلاحوں اور تصورات کی کثرت ہے جن میں نظر، بصر، رویت،رویا([1])، طرف، لحظ([2])، مشاہدہ، کشف اور تجلی وغیرہ شامل ہیں([3])۔ اسلامی بصری حسیات اور بصری ثقافت کا بھرپور فہم حاصل کرنے کے لیے ان اصطلاحوں کی تصوراتی وسعت کو ذہن نشین کرنا لازمی ہے۔ اس تعارفی مضمون میں صرف تین گہرے طور پر مربوط اصطلاحوں نظر، بصر اور رویت پر بحث کی جائے گی کیوں کہ یہ تینوں اصطلاحیں نظر کی فعلیات اور بصری ادراک کی تصوریت کی تفہیم میں لازم و ملزوم اور ناگزیر ہیں۔
نظر ایک پیچیدہ عربی و قرآنی اصطلاح ہے جس کے عمومی معنی بصارت، نگاہ اور ٹکٹکی نیز استدلال، فکر اور غور و خوض ہیں۔ ماقبل جدید اور ابتدائی جدید عربی ادب میں فلسفیوں اور ماہرین الٰہیات کو اصحاب النظر یا اہل النظر یعنی غوروفکر کرنے والے یا عقل والے لوگ کہا جاتا تھا۔نظر کے لفظ سے کئی بنیادی الفاظ بنتے ہیں جن کا آج کل بکثرت استعمال ہوتا ہے مثلاً نظریہ، مناظرہ، اور منظور یا تناظر وغیرہ۔ تنظیر کا مطلب نظریہ سازی کا عمل بھی ہے اور اس سے مراد کسی آلے کی مدد سے جسم کے اندرونی حصوں کا طبی مشاہدہ و معائنہ بھی ہے جیسا کہ اینڈوسکوپی یا کلونوسکوپی وغیرہ۔ عربی زبان میں نظر کا لفظ بصری ادراک کے حسی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ تخیل، وقوف اور تدبر کو بھی محیط ہے لہٰذا عربی زبان میں ادراک کی پیچیدہ نوعیت کی تفہیم میں اہم ہے۔ ادراک کا لفظ دَرَک اور اَدْرَکَ سے مشتق ہے او راس کا معنی ہے ”پہنچنا“ چنانچہ ”ادراک“ ایک عمل کا نام ہے اور کسی مقصد کی طرف جدوجہد ہے، یہ کوشش اور عمل حسیات تک محدود نہیں ، اس لیے جب مقصد پورا ہوتا ہے تو انسان کسی ایک یا متعدد ذرائع سے حالتِ ادراک کو پہنچ جاتا ہے، یہ ذرائع حسی، فکری اور کشفی یا الہامی ہو سکتے ہیں([4])۔
دسویں صدی کے معروف ادبی عالم ابوہلال العسکری (متوفی: 1005) کی کتاب ”الفروق اللغویہ“ میں اسلام کے ابتدائی دور میں نظر کی تصوراتی پیچیدگی کی کچھ جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بعض مشترک معنوں والی اصطلاحوں پر توجہ کرتے ہوئے العسکری نظر اور تامل، نظر اور رویت، نظر اور استدلال، نظر اور وجدان، وجدان اور رویت، نظر اور فکر، نظر اور انتظار اور نظر اور خاطر میں فرق واضح کرتے ہیں([5])۔ اس پیچیدہ سلسلے میں نظر، بصر اور رویت کی تین اصطلاحیں بطور خاص اہم ہیں کیوں کہ یہ تینوں عرب اسلامی روایت میں بصری ادراک کی نوعیت متعین کرتی ہیں۔ یہ تینوں قرآن و حدیث کے بنیادی مقدس متون میں بصری و فکری تجربات بشمول نظر بلادید، دید بلا سمجھ اور سمجھ بلا تفہیم کی صورتیں بیان کرنے کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔
نظر، بصر اور رویت کی اصطلاحیں معنوی اور تصوراتی طور پر باہم مربوط ہیں۔ قرآن میں یہ کثرت سے استعمال ہوئی ہیں؛ نظر سے متعلقہ الفاظ 129 مرتبہ، بصر سے متعلقہ الفاظ 135 مرتبہ اور رویت سے متعلقہ الفاظ 328 مرتبہ ذکر ہوئے ہیں([6])۔ نظر کا سب سے زیادہ استعمال حالت امر (اُنْظُرْ) میں 26 مرتبہ ہوا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بعض چیزوں، واقعات اور افعال کے نتائج یا معانی پر غور اور تدبر کریں۔ بصر کا سب سے زیادہ استعمال حالتِ صفت بصیر (36) میں ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت بصارت کے بیان کے لیے آیا ہے۔ البصیر اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک ہے([7])۔ اس کے مقابلے میں رویت کا زیادہ استعمال دو فعلی حالتوں میں ہوا ہے، ”تریٰ“ کا فعل 36 بار آیا ہے اور ”تَرَ“ کا فعل 31 بار آیا ہے جہاں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں تاکہ عبرت حاصل کریں اور سبق سیکھیں۔
العسکری کی مذکورہ بالا لغت نہ صرف نظر اور تدبر بلکہ نظر اور شعور کے درمیان تعلق کے بارے میں قیمتی باتیں فراہم کرتی ہے۔ آپ کے بیان کے مطابق نظر براہ راست دیکھنا نہیں بلکہ دیکھنے کی کوشش کا عمل ہے؛ نظر سے مراد بذریعہ بصر یا فکر کسی شے تک پہنچنے کی طلب یا جستجو ہے (طلب ادراکی لشیئ من جہات البصر او الفکر) ([8])۔ نظر کو طلب کا عمل تصور کرتے ہوئے العسکری ایک تشریحی دائرہ پیش کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بصری اصطلاح میں نظر آنکھ کا فعل یا عمل ہے؛ وقوفی اصطلاح میں نظر ذہن کا عمل یا فعل ہے اور روحانی اصطلاح میں نظر دل کا فعل یا عمل ہے۔ لہٰذا کسی شے کے لیے ادراکی طلب کو آنکھ، ذہن اور دل کی ابتدائی طلب سمجھا جا سکتا ہے اور یہ ”مراد“ کو پہنچنے کے ارادے سے روبروئی (مقابلہ) کا عمل بھی ہے۔ نظر کی اصل روبرو ہونا ہے (اصل النظر المقابلہ)۔ العسکری وضاحت کرتے ہیں کہ بصارت جسمانی اور ذہنی طور پر برابر رخ اور سمت میں ہونے سے ہوتی ہے([9])۔آنکھ اور ذہن صرف اسی شے کو دیکھ سکتے ہیں جو حقیقی یا مجازی طور پر ان کے سامنے ہو۔ جسے دیکھا جانا ہے جب اس کی طرف رخ ہوتا ہے تو یا بصر کے ساتھ دیکھنے کی طلب ہوتی ہے جس کا حاصل بصری مشاہدہ (شعور) ہے یا یہ دل کے ساتھ دیکھنا (بصیرت) ہوتا ہے جس کا حاصل ادراک ہوتا ہے([10])۔
العسکری کہتے ہیں کہ خیال میں لائی جانے والی شے کے معانی کو گرفت میں لانے کے لیے بصارت اور بصیرت کی یکجائی ضروری ہوتی ہے([11])۔ آپ مثال دیتے ہیں کہ کسی عمدہ تحریر کے معانی سمجھنے کے لیے پہلے بصری نظر ڈالی جاتی ہے اور پھر فکری نظر۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ کسی عمدہ تحریر کے حروف اور الفاظ کی پہچان کے لیے متن کی خواندگی کے قابل ہونا ضروری ہے لیکن یہ چیز متن کے معانی کی تفہیم کے لیے کافی نہیں۔ متن فہمی کے لیے ذہن کی شرکت بھی ضروری ہے۔ بصری طور پر پہنچانی جانے والی چیزوں کے معانی کی تفہیم کی جستجو میں عمومی طریقہ یہی ہے۔ نظر کو مقابلہ یا روبروئی کے طور پر لیا جائے تو یہ دوسری حسوں تک وسیع ہو جاتی ہے۔ مثلاً ملائم اور کھردرے میں فرق کرنے کے لیے چھونے کے ذریعے بھی نظر ڈالی جاتی ہے([12])۔ چنانچہ نظر لمس کے ذریعے کسی چیز کی سطح کی نوعیت جاننے تک وسیع ہو جاتی ہے جس میں جسمانی لمس شامل ہوتا ہے۔ جہاں روبروئی کا جسمانی پہلو موجود ہو وہاں نظر کی معنوی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے العسکری لکھتے ہیں:
نیز، کسی انسان پر رحم کی نظر کرنا اس سےرحم دلی سے روبرو ہونا ہے جب کہ کسی وقوعہ کو جاننے کے لیے نظر کرنا اور کسی کو مزید وقت دینا متوقع واقعات کو دیکھنا ہے۔ امید سے دیکھنا اس شے کو دیکھنا ہے جس کی امید ہے اور بادشاہ کا اپنی رعیت کو دیکھنا اچھی حکمرانی سے ان کے روبرو ہونا ہے۔ کتاب پر نظر ڈالنا آنکھوں اور ذہن دونوں سے کتاب کے روبرو ہونا ہے جب کہ یہ کہنا کہ ”زمانے نے انہیں دیکھ لیا ہے“سے مراد یہ ہے کہ زمانے نے اپنی آفات سے انہیں تباہ کر دیا ہے۔ اور نظیر کا مطلب ”ملتا جلتا“ ہے کیوں کہ آپ ایک شے کو دوسری شے کے جیسا ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور جب نظر دل سے متعلق ہو جائے تو یہ کسی زیر غور شے پر غور و فکر ہے۔ اور جب یہ بصارت سے متعلق ہو تو اس میں آنکھ کی پتلی دیکھے جانے والی مطلوبہ چیز کے روبرو ہوتی ہے بشرطیکہ حسِ صحیح یعنی آنکھ تندرست ہو([13])۔
العسکری کے تصور میں عام مفہوم میں ”دیکھنے“ کے بجائے نظر کو ”طلبِ ادراک“ کا عمل کہنا اسلامی مفہوم کی تخصیص واضح کرنے میں نہایت اہم ہے۔ آپ اپنے خیالات کی مزید وضاحت نظر اور رویت کے درمیان فرق سے کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ نظر لازمی طور پر ”طلبِ ہدایت“ کا عمل ہے۔ آپ کے بقول اس کا ثبوت یہ مقولہ ہے کہ ”میں نے دیکھا لیکن کچھ نظر نہ آیا“([14])۔ ہدایت ان چیزوں کے ظاہر کے ذریعے آتی ہے جنہیں خاص طریقوں سے دیکھنا ہوتا ہے۔ یہ نظر میں آ جانا ہے جو تصوراتی عمل میں شے کو فاعلیت دیتا ہے۔ اس مفہوم میں، نظر اشیا کے ظاہر کی طلب کا عمل بن جاتی ہے اور یہ اشیا کو دیکھنے کے عمل سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ دسویں صدی کے عرب ماہر بصریات علی بن عیسٰی الکحال کا حوالہ دیتے ہوئے العسکری لکھتے ہیں کہ ”نظر اشیا کا ظاہر دیکھنا ہے اور ناظر اس ظاہر کاطالب ہوتا ہے“([15])۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس مفہوم میں ناظر ہے کہ اللہ تعالیٰ ”اپنے بندوں پر اپنی رحمت ظاہر ہوتے دیکھتا ہے“([16])۔ اسی طرح العسکری اضافہ کرتےہیں کہ ناظر اپنی حس بصارت یا دیگر حسوں کے ذریعے اپنے شعور میں اشیا کے ظاہر کو دیکھنے والا ہوتا ہے۔ مثلاً ایک ناظر کسی کپڑے میں ملائمت کا ظاہر دیکھتا ہے تاکہ کسی دوسرے شے میں ملائمت سے اس کا فرق کر سکے جو پہلے اس پر ظاہر ہو چکی اور اس کے شعور میں آ چکی ہے یا وہ تفکر کے ذریعے دل کے ساتھ معانی کی تجلی دیکھتا ہے([17])۔
ماقبل جدید عربی ماخذات سے اشارہ ملتا ہے کہ دیکھنے اور سوچنے میں اشتراک نظر کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگر دیکھنے کے عمل کو ظاہری حالت معلوم کرنے یا صورت کی تجلی حاصل کرنے کے طور پر سمجھا جائے تو پھر یہ عمل طبیعی، ذہنی یا روحانی ہو سکتا ہے کیوں کہ صورت کے معنی انتہائی مادی سے انتہائی غیر مادی تک وسیع ہیں۔ عام طور پر نظر کا استعمال سوچنے اور غور و فکر کرنے کے لیے ہوتا ہے اور ناظر وہ ہے جو اشیا کی حالتوں پر غور و فکر کرتا ہے یعنی وہ مفکر ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق مادی اور قابل دید دنیا کے ساتھ انسانی تعاملات پر ہوتا ہے۔ ناقابلِ دید جہان کے متعلق العسکری لکھتے ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ کے لیے یوں نہیں کہہ سکتے کہ وہ نظر رکھتا ہے (سوچنے کے مفہوم میں) کیوں کہ نظر کا تعلق جہل سے ہے۔ یہ معروف بات ہے کہ کسی شے کو جاننے کے مقصد سے سوچنا تبھی ہوتا ہے جب اس شے کے لیے لاعلمی ہو([18])۔
لہٰذا اس مفہوم میں سب کچھ جاننے والے اللہ تعالیٰ پر نظر کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
اپنے اختتامی جملوں میں العسکری تاکید کرتے ہیں کہ نظر بطور بصارت انسانی نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق الوہی سطح کے اظہارات پر نہیں ہو سکتا۔ نظر کی جذباتی جہت پر توجہ دیتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ نظر ایسے جذباتی تاثرات پیدا کرتی ہے جنہیں آنکھ سے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ غصے والے شخص کی نظر اور خوش باش شخص کی نظر میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں میں نظر کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً جب ایک جماعت ہلال کے آسمان پر ظاہر ہونے کو دیکھنے کے لیے آسمان پر نظریں جمائے ہوئے ہو تو کچھ لوگ ہلال کو دیکھ لیں گے اور کچھ دوسرے نہیں دیکھ پائیں گے اگرچہ وہ سب ہی نظر جما کر دیکھ رہے ہیں۔ العسکری نتیجہ نکالتے ہیں کہ ”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ
نظر آنکھ کا جلدی سے پھرنا (تقلیب العین) ہے جب کہ دکھائی دینے والا سامنے ہو اور اسے دیکھنے کی طلب ہو۔ رویت سے مراد ہے کہ بصارت کا ہدف بصری طور پر شعور میں آ جائے۔ اور چوں کہ اللہ تعالیٰ اشیا کو بصری طور پر احاطۂ شعور میں لانے کی طلب کے بغیر دیکھتا (یَریٰ) ہے اس لیے یہ صحیح ہے کہ (انسانی مفہوم میں) وہ نظر کی صفت نہیں رکھتا([19])۔
[1] ’رؤیت‘ (دیکھنا) اور ’رؤیا‘ (خواب یا وحی) کے مابین اشتقاقی ربط یہ ظاہر کرتا ہے کہ عربی سیاق و سباق میں دیکھنے کا جسمانی عمل اور خواب دیکھنے کا تخیلی عمل کس قدر قریب ہیں اور درحقیقت وہ حدِ فاصل کس قدر دھندلی ہے جو حقیقت کے اس احساس کو ممتاز کرتی ہے جو انہیں جدا کرتا ہے۔
[2] ’لحظ‘ (نگاہ ڈالنا) ایک دلچسپ اصطلاح ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود دیکھنے کے عمل، دیکھنے والی آنکھوں کی کیفیت اور اس انتہائی مختصر دورانئے یعنی ’لحظہ‘ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو آنکھ دیکھنے میں صرف کرتی ہے۔ اس اصطلاح میں، عمل، آلہ اور وقت بڑی فصاحت کے ساتھ ضم ہو گئے ہیں۔
[3] اگرچہ تینوں اصطلاحات یعنی ’مشاہدہ‘، ’کشف‘ اور ’تجلی‘ فطری ادراکی تجربے میں دیکھنے کی مختلف کیفیات کا اظہار کرتی ہیں، تاہم صوفی ادب میں روحانی تجربے کے دوران الوہی تجسیم (Divine Visualisation) کے حوالے سے انہوں نے مخصوص جہتیں اختیار کر لی ہیں۔
[4] ’ادراک‘ جس کے لغوی معنی ’پہنچنا‘ یا ’پا لینا‘ ہیں، ایک ایسی عربی اصطلاح ہے جو عموماً ’perception‘ (حسی ادراک) کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہے؛ تاہم اس اصطلاح کا معنوی دائرہ کار حواس کے ذریعے محض مظاہرِ عالم کو سمجھنے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
[5] أبو هلال العسكري، 1998، الفروق اللغويۃ (قاہرہ: دارالعلم والثقافہ)، باب سوم، ص 68-79۔
[6] یہ اعداد محمد فؤاد عبد الباقی، 1945، المعجم المفهرس لألفاظ القرآن الكريم (قاہرہ: دارالکتاب المصریہ) پر مبنی ہیں۔
[7] اسلام میں اللہ تعالیٰ کے ۹۹ اسمائے حسنیٰ کی مختصر فہرست اور بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے:
Samer Akkach, 2015b, ‘Beautiful Names of God’, in The Encyclopaedia of Islam Three (Leiden: Brill), 54–57.
[8] العسكري، 1998، ۷۴۔
[9] العسكري، 1998، ۷۴۔
[10] العسكري، 1998، ۷۴۔
[11] العسكري، 1998، ۷۴۔
[12] العسكري، 1998، 74 – 75۔
[13] العسكري، 1998، 74 – 75۔
[14] العسكري، 1998، 75 – 76۔
[15] العسكري، 1998، ۷۵۔
[16] العسكري، 1998، ۷۵۔
[17] العسكري، 1998، ۷۶۔
[18] العسكري، 1998، ۷۶۔
[19] العسكري، 1998، ۷۶۔
