پچھلی پانچ اقساط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح جدید علم، ریاست اور استعمار نے مل کر دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ کیا ہم صرف مغرب کو کوستے رہیں؟ یا ایڈورڈ سعید کی طرح یہ امید رکھیں کہ اگر مغرب تھوڑا سا ”لبرل“ اور ”انسان دوست“ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا؟
نہیں!
جس نظام نے بیماری پیدا کی ہے، اسی نظام سے دوا کی امید رکھنا حماقت ہے۔ اگر ہمیں بچنا ہے اور دنیا کو بچانا ہے تو ہمیں ”اپنی ذات کی تعمیرِ نو“(Refashioning the Subject) کرنا ہوگی۔
لبرل ازم کا دھوکہ اور ماحولیاتی بحران
سب سے پہلے ہمیں اس خوش فہمی سے نکلنا ہے کہ جدید سیکولر لبرل ازم ہمارے مسائل کا حل ہے۔ آپ سوچیں کہ آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
آج سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی تباہی (Climate Change) ہے۔ ہم نے زمین، ہوا اور پانی کو زہر آلود کر دیا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ جدید انسان (Modern Subject) خود کو فطرت کا ”حاکم“ (Sovereign) سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک درخت، پہاڑ اور دریا اللہ کی نشانیاں نہیں بلکہ ”خام مال“ (Raw Material) ہیں جنہیں لوٹنا اس کا حق ہے۔
جدید انسان کے پاس ”شکر گزاری“ (Gratitude) کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ اگر آپ خدا کو نہیں مانتے، اور فطرت کو ایک بے جان مشین سمجھتے ہیں تو آپ کس کا شکر ادا کریں گے؟ اور جب شکر نہیں ہوتا تو صرف ”ہوس“ رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت نے دنیا کو تباہ کر دیا ہے کیونکہ وہ فطرت کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی اخلاقی صلاحیت کھو چکی ہے۔
ماضی کی طرف نہیں، ماضی کی مدد سے
ہمیں اسلامی یا مشرقی روایات کی طرف دیکھنا چاہیے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم واپس اونٹوں اور خیموں کے دور میں چلے جائیں۔ یہ ”ماضی پرستی“ (Nostalgia) نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی (اسلامی شریعت، تصوف، مشرقی حکمت) کو ایک ”آئینے“کے طور پر استعمال کریں۔ ہم اس آئینے میں دیکھیں کہ جدید انسان کتنا بگڑ چکا ہے۔
پرانے دور کا مسلمان جب پانی پیتا تھا تو اسے خدا کی نعمت سمجھتا تھا (یہ ایک اخلاقی رشتہ تھا)۔
جدید انسان جب پانی پیتا ہے تو اسے H2O یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کا ایک محض ایک مالیکیول یا ایک خریدی ہوئی پروڈکٹ سمجھتا ہے (یہ ایک مادی رشتہ ہے)۔
ہمیں اس ”اخلاقی رشتے“ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ہمیں جدیدیت کے اس جھوٹ کو رد کرنا ہوگا کہ ”پرانی چیزیں بے کار ہیں“۔ درحقیقت، وہی پرانی حکمتیں (Wisdom) آج اس ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا سکتی ہیں۔
استشراق کا نیا کردار: دشمن سے استاد تک
اورینٹلزم جس نے استعمار کی خدمت کی، اب اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔
کیسے؟
اب تک مستشرقین (Orientalists) مشرق کو اس لیے پڑھتے تھے تاکہ اس پر قبضہ کر سکیں۔ اب انہیں مشرق کو اس لیے پڑھنا چاہیے تاکہ وہ اس سے سیکھ سکیں۔
مغرب کا بحران یہ ہے کہ وہ اپنی روح کھو چکا ہے۔ مشرق (اسلام، ہند، چین) کے پاس ابھی بھی وہ اخلاقی اور روحانی سرمایہ موجود ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ اگر مغربی اورینٹلزم اپنے تکبر (Arrogance) کو چھوڑ دے اور عاجزی (Humility) اختیار کرے تو وہ اسلامی علوم سے یہ سیکھ سکتا ہے کہ:
انسان فطرت کا مالک نہیں، نگہبان (Custodian) ہے۔
قانون کا مقصد کنٹرول نہیں، اخلاق ہے۔
زندگی کا مقصد زیادہ پیداوار (Production) نہیں، بلکہ روحانی سکون ہے۔
ذات کی تشکیلِ نو
اب گیند آپ کے کورٹ میں ہے۔ اصل انقلاب سڑکوں پر نہیں، ”ذات“(Self) کے اندر آئے گا۔
جدید ریاست ہمیں ”شہری“بناتی ہے جو ٹیکس دیتا ہے، ووٹ دیتا ہے اور قانون سے ڈرتا ہے۔ لیکن اسلام اور مشرقی روایات ہمیں ”اخلاقی وجود“ (Moral Subject) بناتی ہیں جو خدا سے ڈرتا ہے اور مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
ہمیں اپنے آپ کو اس جدید ”سبجیکٹ“کے خول سے باہر نکالنا ہوگا جو صرف نفع نقصان کی زبان سمجھتا ہے۔ ہمیں دوبارہ وہ انسان بننا ہوگا جو اپنی ذمہ داریوں (Responsibilities) کو اپنے حقوق (Rights) پر ترجیح دیتا ہے۔
جدیدیت کا پروجیکٹ اب ناکام ہو چکا ہے۔ اس نے ہمیں اشیاء تو بہت دیں لیکن سکون چھین لیا۔ اب راستہ صرف ایک ہی ہے۔ ہمیں اس ”علمی حاکمیت“ کا انکار کرنا ہوگا جس نے ہمیں مشین بنا دیا۔ اور ہمیں اس ”اخلاقی علم“ کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور ہمیں کہاں جانا ہے۔
ہم نے آپ کے دل و دماغ پر دستک دے دی۔ کیا آپ دروازہ کھولنے کے لیے تیار ہیں؟
استشراق: ادھوری کہانی سے آگے (قسط اول)
تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم)
روحوں کی گرفتاری کا نظام (قسط سوم)
روایتی فکر کی بازگشت اور جدیدیت کا انکار (قسط چہارم)
مہذب دنیا کا خونی چہرہ (قسط پنجم)
