ہم میں سے کون ہے جو ایڈورڈ سعید کے نام اور اس کی معرکۃ الآراء کتاب ’اورینٹلزم‘ سے واقف نہ ہو؟ گزشتہ چالیس برسوں سے ہم مغرب کے ساتھ اپنے تعلق کو اسی کتاب کی عینک سے دیکھتے آئے ہیں۔ ہمیں سکھایا گیا کہ مستشرقین نے ہمیں غلط سمجھا، ہماری تصویر بگاڑ کر پیش کی اور ہمیں جاہل، اجڈ اور پسماندہ ثابت کر کے ہم پر اپنی حکمرانی کا جواز تراشا۔ یہ سب سچ ہے اور ایڈورڈ سعید نے جس دلیری سے مغرب کے اس فکری تکبر کو بے نقاب کیا، اس کا احسان ہماری نسلوں پر رہے گا۔
لیکن۔۔۔ کیا کہانی بس یہیں ختم ہو جاتی ہے؟
آئیے بات وہیں سے شروع کریں جہاں ایڈورڈ سعید کی سانس پھول گئی تھی۔ ایک بہت بڑا بلکہ شاید چبھتا ہوا سوال ہے کہ کیا مغرب کا مسئلہ صرف یہ تھا کہ اس نے ہمیں ’غلط‘ سمجھا؟ یا مسئلہ یہ ہے کہ جدید مغرب نے علم کا ایسا ڈھانچہ ہی سرے سے بدل دیا ہے جس میں ’سچ‘ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی؟
جب ہم اورینٹلزم پر بات کرتے ہیں تو عموماً ہمارا غصہ اس بات پر ہوتا ہے کہ مغرب نے اسلام کو بدنام کیا یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری تاریخ کے بارے میں جھوٹ بولا۔ ہم اسے محض تعصب، نفرت یا سیاسی چال سمجھتے ہیں۔ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ اگر ہم اورینٹلزم کو صرف سیاست یا تعصب کی عینک سے دیکھیں گے تو ہم اس زہر کی تشخیص کرنے میں ناکام رہیں گے جو ہماری رگوں میں اتر چکا ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں ہے کہ مغرب نے مشرق پر کتابیں لکھیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے پیچھے جو ذہن کارفرما تھا، وہ ’جدیدیت‘ کا پروردہ تھا۔ یہ وہ ذہن ہے جو خدا کا انکار کر کے خود خدا بننا چاہتا ہے؛ جو فطرت کو ایک مقدس امانت نہیں بلکہ لوٹ مار کا مال سمجھتا ہے؛ اور جو انسان کو اخلاقی وجود کے بجائے محض ایک معاشی مشین تصور کرتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مستشرقین پر تنقید تو کی لیکن اسی سیکولر اور لبرل زبان میں کی جو خود اسی استعماری نظام کی ایجاد تھی۔ اس نے شاخوں کو تو کاٹا، لیکن جڑ کو پانی دیتا رہا۔
اورینٹلزم محض چند متعصب مصنفین کا نام نہیں، بلکہ یہ جدید مغربی علم کے اس پورے کارخانے کا ایک حصہ ہے جس نے دنیا میں پہلی بار ’ساختی نسل کشی‘ کو متعارف کروایا۔ یہ نسل کشی صرف بندوقوں اور بموں سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ اداروں، قوانین اور تعلیم کے ذریعے کسی قوم کی روح کو اس طرح مسخ کر دیتی ہے کہ وہ خود اپنے ہی ورثے سے اجنبی ہو جاتی ہے۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جدید ریاست، کارپوریشنز اور یونیورسٹیاں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ یہ ادارے ہمیں آزاد نہیں کرتے، بلکہ ہمیں ایک خاص سانچے میں ڈھالتے ہیں تاکہ ہم اس سرمایہ دارانہ نظام کے کارآمد پرزے بن سکیں۔
اس تفہیم کا مقصد صرف مغرب کو کوسنا یا ماضی کا نوحہ پڑھنا نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں۔ ہم سمجھیں کہ ہم کون تھے اور جدیدیت کے سیلاب نے ہمیں کیا بنا دیا ہے۔ اورینٹلزم کی تنقید دراصل ہماری اپنی ’ذات‘ کی بازیافت کا سفر ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ جدید علم کس طرح کام کرتا ہے، ہم نہ تو اپنے دین کو سمجھ سکتے ہیں، نہ اپنی تاریخ کو اور نہ ہی اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔

Pingback: تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیاں (قسط دوم) – bayania.com
Pingback: روحوں کی گرفتاری کا نظام (قسط سوم) – bayania.com
Pingback: روایتی فکر کی بازگشت اور جدیدیت کا انکار (قسط چہارم) – bayania.com
Pingback: مہذب دنیا کا خونی چہرہ (قسط پنجم) – bayania.com
Pingback: استشراق اور واپسی کا راستہ(آخری قسط) – bayania.com