اوریجن اور مسئلہ شر

صابر علی

کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی کائے ہینز کی حالیہ تحقیقی کاوش ”اوریجن آن ڈیمونک ایگزیکیوشنز اینڈ دی پرابلم آف ایول“ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ابتدائی عیسائیت کے اس عظیم دماغ اوریجن (Origen) کی فکری کشمکش کا شدت سے احساس ہوا جو آج بھی ہر صاحبِ شعور کا مشترکہ درد ہے۔ یہ کتاب محض تاریخی دستاویز نہیں بلکہ مسئلہ شر کا قدیم ترین معما سلجھانے کی ایک فلسفیانہ کوشش ہے جو صدیوں سے انسان کو کچوکے لگا رہا ہے کہ اگر خدا قادرِ مطلق بھی ہے اور رحیم و کریم بھی تو پھر یہ کائنات دکھوں، اذیتوں اور برائی کے ناسور سے کیوں بھری پڑی ہے؟ ہینز نے نہایت عرق ریزی سے اوریجن کے اس منفرد اور کسی حد تک چونکا دینے والے نظریے کی گرد جھاڑی ہے جس میں وہ خدا کی پاکیزگی اور کائنات کی غلاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے شیاطین اور بدروحوں کو ایک غیر متوقع کردار سونپتا ہے۔

اوریجن  اسکندریہ کی علمی روایت کا پروردہ اور افلاطونی فلسفے کی باریکیوں کا شناور تھا۔ وہ ایک ایسے دور میں جی رہا تھا جہاں ایک طرف مارسین جیسے لوگ عہد نامہ قدیم کے خدا کو ظالم اور انتقامی کہہ کر مسترد کر رہے تھے اور دوسری طرف یونانی فلسفی عیسائیت کے خدا پر سوال اٹھا رہے تھے کہ کیا وہ اپنے دشمنوں (شیطان) پر قابو پانے سے قاصر ہے؟ اس فکری یلغار کے سامنے اوریجن نے ایک ایسا مقدمہ پیش کیا جو اپنی ساخت میں جتنا پیچیدہ ہے، اتنا ہی دلچسپ بھی۔ اس کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ خدا برائی کا خالق نہیں اور نہ ہی وہ انسانوں کو براہِ راست اذیت دینے کا شوق رکھتا ہے بلکہ کائنات میں موجود تمام تر شر، وبائیں، قحط اور انسانی اذیتیں دراصل ان ”آسمانی جلادوں“ کا کارنامہ ہیں جنہیں ہم شیاطین یا بدروحیں کہتے ہیں۔ لیکن یہاں اوریجن ایک بہت ہی باریک اور خطرناک لکیر پر چلتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جلاد اگرچہ اپنی فطرت میں شریر ہیں اور اپنی مرضی سے بدی کرتے ہیں، مگر خدا کی لامحدود حکمت نے انہیں اپنے نظامِ کائنات میں ”استعمال“ کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

اوریجن کی تھیوڈیسی  اس نکتے پر کھڑی ہے کہ خدا ایک ماہر طبیب کی طرح ہے اور گناہ ایک مہلک بیماری۔ اس بیماری کا علاج کبھی کبھی نشتر چلانے اور کڑوی دوا حلق میں انڈیلنے سے ہوتا ہے۔ یہ نشتر چلانے کا کام خدا خود نہیں کرتا بلکہ اس نے یہ کام ان ”ڈیمونک ایگزیکیوشنز“ کے سپرد کر رکھا ہے جو اپنی شرارت میں انسان کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں مگر خدا ان کی اس شرارت کو انسان کی تطہیر اور تربیت کے لیے استعمال کر لیتا ہے۔ ہینز نے اوریجن کے حوالے سے یہ نکتہ بہت عمدگی سے اٹھایا ہے کہ بائبل میں جہاں جہاں ”خدا کا غصہ“ یا قہر نازل ہونے کا ذکر ہے اوریجن کے نزدیک یہ خدا کا کوئی جذباتی ردعمل نہیں ہےکیونکہ خدا جذبات کے مدوجزر سے پاک ہے، بلکہ یہ ان بدروحوں کا استعارہ ہے جنہیں خدا نے گناہگاروں کو سزا دینے یا سیدھے راستے پر لانے کے لیے ”مسلط“ کر دیا ہے۔

یہاں اگر ہم اسلامی روایت سے اس نظریے کا جائزہ لیں تو اوریجن کی فکر میں توحید اور اسباب کے درمیان ایک شدید تناؤ محسوس ہوتا ہے۔ اسلام میں ”خیر اور شر“ دونوں کا خالق اللہ کو مانا گیا ہے (آمنت باللہ۔۔۔ والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ) لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اللہ شر کو تخلیق تو کرتا ہے مگر وہ شر سے ”راضی“ نہیں ہوتا۔ اوریجن شاید خدا کو شر کی تخلیق یا نسبت سے بچانے کے لیے اسباب (شیاطین) کو درمیان میں لا کر ایک ”حجاب“ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ خدا کی قدسیت پر حرف نہ آئے۔ جبکہ اسلامی مابعد الطبیعیات، خاص طور پر اشعری اور ماتریدی مکاتبِ فکر، خدا کی قدرتِ کاملہ کو اس طرح تقسیم کرنے کے قائل نہیں کہ فعل تو شیطان کا ہو اور خدا محض اسے ”مینج“ کر رہا ہو۔ تاہم اوریجن کا یہ خیال کہ شیطان خدا کی اسکیم سے باہر نہیں اور بالآخر خدا کے منصوبے کی تکمیل ہی کر رہا ہے، اسلامی تصوف کے اس تصور سے حیران کن مماثلت رکھتا ہے جہاں ابلیس کو ”دربار کا کتا“ یا خدا کے جلال کا مظہر سمجھا جاتا ہے جو غیروں کو دوست کے خیمے میں گھسنے سے روکتا ہے یا عاشقوں کا امتحان لیتا ہے۔ مولانا روم نے بھی شیطان کو اسی تناظر میں دیکھا ہے کہ وہ خدا کی مشیت کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔

کتاب کے مصنف دکھاتے ہیں کہ اوریجن کے نزدیک یہ کائنات دراصل ایک ”تربیتی اسکول“ ہے۔ یہاں پیش آنے والی ہر تکلیف، چاہے وہ کسی ظالم بادشاہ کی طرف سے ہو یا کسی قدرتی آفت کی شکل میں، دراصل روح کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اوریجن کا یہ موقف کہ شیطان کو ”خدا کا ملازم“ قرار دیا جائے، ابتدائی عیسائیت میں ایک انتہائی متنازعہ مگر طاقتور خیال تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جیسے ایک ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت اور صفائی کے لیے جلاد یا خاکروب رکھتی ہے جو بذاتِ خود ناپسندیدہ کام کرتے ہیں مگر ریاست کے نظام کے لیے ناگزیر ہیں، بالکل اسی طرح کائناتی نظام میں شیطان کا وجود بھی ایک ”ناگزیر برائی“ ہے جسے خدا ختم کرنے کے بجائے ”استعمال“ کرتا ہے۔

اوریجن کے اس فلسفے میں ایک اور پہلو جو اسلامی عقائد سے براہِ راست متصادم ہے، وہ روحوں کے قبل از پیدائش گناہوں کا نظریہ ہے۔ اوریجن سمجھتا ہے کہ روحیں اس دنیا میں آنے سے پہلے موجود تھیں اور وہاں ان سے جو کوتاہیاں ہوئیں، ان کے نتیجے میں انہیں اس مادی دنیا کے قید خانے اور ان جسمانی رتبوں میں بھیجا گیا۔ یہ تناسخ کی شکل تو نہیں مگر اس سے ملتی جلتی فکر ضرور ہے جسے اسلام اور خود بعد کی عیسائی آرتھوڈوکسی نے بھی رد کر دیا۔ اسلام میں انسان فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اور اسے اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے، نہ کہ پچھلے کسی گناہ کی سزا کے طور پر۔

کائے ہینز کی یہ کتاب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اوریجن نے خدا کو ”اچھا“ ثابت کرنے کے لیے جو عقلی قلابازیاں کھائیں، وہ کس حد تک کامیاب رہیں؟ کیا خدا کو بری چیزوں کے براہِ راست ارتکاب سے بچا کر انہیں شیاطین کے کھاتے میں ڈال دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ یا یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ رہتا ہے کہ ان شیاطین کو اتنی چھوٹ دینے والا اور انہیں بطور ”آلہ کار“ استعمال کرنے والا آخر کون ہے؟ صوفیائے اسلام نے اس کا حل یہ نکالا کہ اللہ کے افعال کو ہماری محدود انسانی عقل اور اخلاقی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ وہ ”الضار“ (نقصان پہنچانے والا) بھی ہے اور ”النافع“ (نفع دینے والا) بھی۔ اس کی جلالت کو کسی ”ڈیمونک ایگزیکیوشنر“ کے پردے میں چھپانے کی ضرورت نہیں کیونکہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے، وہ اسی کے امر کا پابند ہے۔ اوریجن کی یہ کوشش بہرحال لائقِ تحسین ہے کہ اس نے مایوسی اور دوئی کے دور میں خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ اور خیرِ محض ہونے کا دفاع کیا، چاہے اس کے لیے اسے شیطان کو خدا کے دربار کا ایک ”سرکاری ملازم“ ہی کیوں نہ بنانا پڑا۔

Visited 25 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *