دین الحیا اور پردے کا فکری و فلسفیانہ دفاع

ڈاکٹر اسما مجید

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ لفظ حجاب (پردہ) کے کئی معانی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اشکال بدلتی رہی ہیں۔ اس کا ایک بنیادی مطلب تو وہ واضح رکاوٹ ہے جو کسی چیز کو دیکھنے سے روک دیتی ہے۔ اس کا ایک روحانی پہلو وہ خفیہ پردہ ہے جو حقیقت کو چھپا لیتا ہے۔ لیکن ہم یہاں اس لفظ کو اس کے مخصوص معنی میں استعمال کر رہے ہیں یعنی مسلمان عورت کا لباس۔ اس تعریف میں ہم فقہا کے ان تفصیلی اختلافات سے قطع نظر کریں گے جو پردے کی شرائط کے بارے میں پائے جاتے ہیں کیونکہ ان کم از کم شرائط پر ہم اپنی پچھلی کتاب  میں بات کر چکے ہیں۔ اب اس کتاب میں ہمارا موضوع  پردے کے شرعی مسائل نہیں ، بلکہ  پردے کا فکری اور فلسفیانہ جائزہ ہے۔

ہر فقہی مسئلے کے پیچھے ایک فکر اور نظریہ ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر نظریے کی بنیاد پر فقہ مرتب ہو۔ ان دونوں (فقہ اور نظریہ) کے درمیان فرق سے ہمارے عمومی مقصد پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمارا مقصد پردے کے ان بنیادی اصولوں پر غور و فکر کرنا ہے جن پر پردے کی فقہ کھڑی ہے۔

اس غور و فکر کے دو پہلو ہیں۔

تعمیری پہلو: یعنی ان بنیادی اصولوں اور فکری نتائج کو بیان کرنا جو پردے کی بنیاد ہیں۔

تنقیدی پہلو: یعنی پردے کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات اور دعووں کا رد کرنا۔

ہم نے اپنی پچھلی کتاب میں تعمیری پہلو پر کام کیا تھا جہاں ہم نے ان وسیع اصولوں کو بیان کیا جن پر ہماری فقہِ اعتماد (فقہ الائتمانی) کی عمارت کھڑی ہے۔ اب اس کتاب میں ہم تنقیدی پہلو پر کام کریں گے۔ ہم ان اعتراضات کا جواب دیں گے جو پردے کے خلاف اٹھائے جاتے ہیں اور پردے کے مقابلے میں بے پردگی (تکشف) کی حمایت میں پیش کیے جاتے ہیں۔

ہم نے یہ راستہ دو بنیادی وجوہات کی بنا پر اختیار کیا ہے۔

پہلی وجہ جدید تہذیب کا فکری یلغار ہے۔ جدید تہذیب ایسے نظریات اور اقدار سے بھری ہوئی ہے جو انسانی ذہنوں کو اپنے شکنجے میں لے لیتی ہے۔ ایک عام مسلمان جو جدید تہذیب میں گھرا ہوا ہے، اکثر یہ محسوس نہیں کر پاتا کہ یہ جدید نظریات کس حد تک اس کے دین کی جڑوں پر وار کر رہے ہیں۔ اسے اکثر تب ہوش آتا ہے جب یہ جدید افکار اس کے دینی اعمال سے ٹکرا جاتے ہیں۔

صرف یہ تنبیہ کر دینا کافی نہیں ہے کہ یہ چیز دین کے خلاف ہے۔ جدید دور میں ضروری ہے کہ عقلی دلائل کے ذریعے ان جدید نظریات کا کھوکھلا پن ثابت کیا جائے تاکہ مسلمان کا ذہنی اضطراب ختم ہو اور اسے اپنے عقیدے اور شعائر پر دوبارہ اطمینان نصیب ہو۔ یہ کام صرف جذباتی تقریروں سے نہیں بلکہ ٹھوس عقلی دلائل سے ہی ممکن ہے۔

دوسری وجہ پردے کے خلاف شدید پروپیگنڈا ہے۔ جدید معاشرے میں حجاب کو طرح طرح کے طعنوں اور حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ معاشرہ جو خود کو مہذب کہتا ہے، دین دار لوگوں کے معاملے میں ایک وحشی بن چکا ہے۔

پردے کے مخالفین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان عورت کو پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ مرد اسے اپنا غلام بنا سکے اور اس کے حقوق چھین سکے۔ ان کے نزدیک پردہ عورت کے جسم کو مرد کی ملکیت بنانے اور عورت کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان کے خیال میں پردہ پہننا عورت کی پست حیثیت کی نشانی ہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ پردہ مسلمان عورت سے اس کی نقل و حرکت کی آزادی چھین لیتا ہے، اسے دوسروں سے رابطے سے روکتا ہے اور کسی بھی حقیقی گفتگو میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب آپ کسی کا چہرہ یا تاثرات نہیں دیکھ سکتے تو آپ اس کے خیالات نہیں جان سکتے لہٰذا پردے والی خاتون سے حقیقی مکالمہ ممکن ہی نہیں، چہ جائیکہ کہ آپ اس کی شخصیت کو جان سکیں یا اس کے حقوق کا احترام کر سکیں۔

پردے کے مخالفین صرف یہیں نہیں رکتے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انتہائی بیہودہ الزامات لگاتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پردہ پہننا دراصل جنسی بے راہ روی یا نفسیاتی بگاڑ کی ایک شکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مردوں نے اسے اپنی خیالی خواہشات کی تسکین کے لیے ایجاد کیا ہے جہاں وہ عورت کے بجائے کپڑے کو پوجتے ہیں جیسے کوئی بت ہو۔ وہ اپنی بدگمانی میں پردے کو جنسی خرابیوں کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

پھر یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان عورت کا پردہ کرنا دین کا کوئی ثابت شدہ حکم نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض مردوں کی ایجاد ہے، نہ کہ اللہ کا حکم۔ وہ اسے سیاسی اسلام کی کارستانی قرار دیتے ہیں، نہ کہ حقیقی مذہب۔ اگر وہ اسے حکم مانتے بھی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ صرف حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے لیے خاص تھا یا پھر یہ پرانی جاہلیت کی طرف واپسی ہے (حالانکہ قرآن نے پرانی جاہلیت کے بناؤ سنگھار سے منع کیا ہے)۔

ان حالات میں دورِ حاضر کے مسلمان کے لیے دو چیزیں ضروری ہو گئی ہیں: ”استدلالی آلات“ (یعنی منطقی دلائل) اور پردے پر ہونے والے طعنوں کا جواب۔

یہ کتاب اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان اس قابل ہو جائے کہ وہ مخالفین کے فکری چیلنجز کا سامنا کر سکے اور ایک ایسے مکالمے کا آغاز کرے جہاں وہ کمزور نہ ہو بلکہ برابری کی سطح پر بات کرے۔ ہم نے اس کتاب میں نظر الائتمانی (امانت و اعتماد پر مبنی نظریہ) پیش کیا ہے جو پردہ کرنے والی خواتین کے سامنے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرتا ہے۔

اس کتاب کے ابواب میں ہم نے ان موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔

پردہ کرنے والی خواتین پر عوامی مقامات میں تنگ نظری کا جواب۔

سیکولر ازم کے اس دعوے کا رد کہ پردہ انسانی جسم اور آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

نفسیاتی ماہرین (جیسے فرائڈ کے پیروکار) کے اس دعوے کا رد کہ پردہ مردانہ بالادستی یا جنسی نفسیاتی مسئلہ ہے۔

آخر میں ان تمام جوابات کے ذریعے ہم اس بات کو ثابت کریں گے کہ اسلامی اخلاقیات دراصل اخلاقِ حیا ہیں۔ جتنی حیا ہوگی، اتنا ہی وہ اخلاق اسلامی ہوگا۔

(یہ تحریر عبدالرحمٰن طہ کی کتاب دین الحیا کی جلد سوم کے مقدمہ کا ترجمہ ہے)

Visited 6 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *