آشکار کرنے کی بجائے چھپانے کی غرض سے تعمیر کرنا ہماری فنِ تعمیر کی فہم پر نئے تقاضے عائد کرتا ہے جس کا آغاز ’عملِ تخلیق‘ کو ’نیت‘ سے الگ کرنے کی ضرورت سے ہوتا ہے۔ نیت کا تعلق ’پوشیدگی کی سیاست‘ سے ہے جیسا کہ فرنگیوں کے عمل کے واضح معانی میں نظر آتا ہے وہیں عمل بذاتِ خود ’پوشیدگی کی شعریات‘ سے متعلق ہے جیسا کہ اس کے مضمر معانی یا اس حقیقی معنی میں نظر آتا ہے جو کسی بھی انفرادی یا اجتماعی منشاء سے ماورا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے، النابلسی کا تشریحی دائرہ کار اور تدابیر سرکاری بیانیے سے مختلف ہیں، جس میں سیاست اور تخلیق کی شعریات اکثر اصل مقصد کی خدمت میں گڈمڈ کر دی جاتی ہیں۔ یہ لطیف فرق تجربے کے ایک ایسے دائرہ کار کی نشاندہی کرتا ہے جو سرکاری بیانیے اور اس کی مختلف شکلوں میں ناپید ہے۔ النابلسی کا تجربہ ہماری توجہ ماقبل جدید اسلام میں جمالیاتی تحسین کے ایک ایسے انداز کی طرف مبذول کراتا ہے جب ”ثقافت“ کا تصور ابھی شناخت اور تفاوت کے بارے میں استدلال کرنے کے لیے بطور ایک نظریاتی آلے کے دستیاب نہیں تھا۔ یہی عدم موجودگی ’پوشیدگی کی شعریات‘ کو ’پوشیدگی کی سیاست‘ کے ہاتھوں مسخ ہونے یا اس میں ضم ہونے سے بچاتی ہے۔ ایک بار وجود میں آنے کے بعد عمارت ایک طرح کی خود مختاری حاصل کر لیتی ہے اور اس کا وجود اپنی ذاتی شعریات اور افادیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ النابلسی نے شاید اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا ہو کہ صلیبیوں نے چٹان کو ڈھانپ دیا تھا لیکن وہ پھر بھی حرم کے مجموعے میں اس عمارت کو ایک بامعنی اور مفید عنصر کے طور پر دیکھ سکتے تھے۔ اس صورت میں ’پوشیدگی کی شعریات‘ اس مقدس سیاق و سباق میں معمول اور ناگزیریت کا احساس بحال کرنے کے لیے ’پوشیدگی کی سیاست‘ پر بھی حاوی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
النابلسی کی ’پوشیدگی کی شعریات‘ اور ’جمالیاتِ احتجاب‘ سرکاری بیانیے کی ’انکشاف کی شعریات‘ اور ’جمالیاتِ اظہار‘ کے ساتھ شدید تضاد رکھتی ہیں۔ النابلسی مزید وضاحت کرتے ہیں، ”یہ خدائے بزرگ و برتر تھا جس نے اس عمارت کے ذریعے جو چٹان کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کے معجزے کو پوشیدہ رکھا۔ یہ اس کی جانب سے حکمت کا ایک فعل تھا، اگرچہ اس کی حقیقت ان لوگوں سے کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی جو بصیرت اور پاکیزہ دل و ضمیر کے مالک ہیں“۔
یہاں النابلسی فرنگیوں کو محض مشیتِ ایزدی کے کارندوں اور حکمتِ الٰہیہ کے سہولت کاروں کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یوں نقطہ آغاز کو تاریخ سے باہر منتقل کر دیتے ہیں۔ اس چال کے ذریعے فرنگی عمارت کی ملکیت سے محروم ہو جاتے ہیں جبکہ عمارت مؤثر طریقے سے تاریخیت کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے۔ النابلسی کے لیے اور غالباً ایک وسیع تر کمیونٹی کے لیے جو ان کے نقطہ نظر میں شریک تھی، قبۃ الصخرہ کا گول گنبد ایک خوبصورت اور مہارت سے تیار کردہ خول تھا جسے خدا نے فرنگیوں کی وساطت سے وجود بخشا تاکہ چٹان کو حاسدوں کی نظروں سے بچایا جا سکے۔
اس مفہوم میں عمارت خود اس چٹان کے اسرار اور مقدس تاریخ کا ایک لازمی جزو بن جاتی ہے۔ یہ چٹان تھی جس نے عمارت کو حاصل کیا، نہ کہ عمارت نے چٹان کو حاصل کیا۔ النابلسی کی تشریح میں فنِ تعمیر کی فعالیت مختلف نظریاتی پیمانے متعارف کراتی ہے جو فنِ تعمیر کو اس مرکزی کردار سے ہٹانے کا رجحان رکھتے ہیں جو وہ اس یادگار کی پیچیدہ تاریخ کو سمجھنے میں فی الوقت ادا کر رہا ہے۔ اس مقام پر یہ بات بے معنی ہو جاتی ہے کہ اصل نیت کیا تھی یا مصنف کون تھا کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ چٹان کے اپنے ہی کچھ پوشیدہ محرکات ہیں جو انسانی کارندوں کے شعور سے آزاد ہیں۔ یہ الٹ پھیر انسانی نیت اور تعمیراتی مداخلت پر مقدس اور اس کے مظاہر و اشیاء کو اولیت دیتا ہے۔
سرکاری بیانیے کے ایک مقبول ورژن کے مطابق قبۃ الصخرہ کو پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزہِ معراج کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ پہلی نظر میں یہ مفروضہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے، لیکن تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اسے مناسب نصی تائید حاصل نہیں۔ النابلسی واضح طور پر اس تناظر میں فنِ تعمیر کو کوئی یادگاری کردار ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھتے اور ان کی پیچیدہ کثیرالجہتی ’پوشیدگی کی شعریات‘ میں ’یادگار منانے‘ کا نظریہ درحقیقت اپنی نظریاتی بنیاد کھو دیتا ہے۔ اس مفروضے کو ان کے استدلال کے ساتھ ہم آہنگ کرنا دشوار ہے کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں ان کے نقطہ نظر سے یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ وہ اس واقعہ کی یادگار اس طرح منائیں گے کہ اس نشانی کو ہی چھپا دیں جسے انہیں ظاہر کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ایک اور انقلابی تشریح کے ساتھ النابلسی اس عمارت کے پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزہِ اسریٰ و معراج کے ساتھ تعلق کو دیکھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کرتے ہیں۔
واقعہ معراج کی تفصیل بیان کرنے والی اس قرآنی آیت ”پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں“ (۱:۱۷)، پر تبصرہ کرتے ہوئے النابلسی وضاحت کرتے ہیں کہ معراج کا سفر مکہ (مسجد حرام) کی بجائے یروشلم (مسجد اقصیٰ) سے شروع ہونے کی ایک خاص وجہ تھی۔ نبی کریم ﷺ کے لیے یہ نسبتاً آسان اور کم تھکان والا ہوتا کہ وہ یروشلم تک کا طویل سفر کرنے کی بجائے سیدھا مکہ سے آسمان پر تشریف لے جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں وہ ”معلق چٹان“ دکھانا چاہتا تھا جیسا کہ آیت خود تصدیق کرتی ہے: ”تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں“۔
منشائے ایزدی یہ تھی کہ محمد ﷺ کو یقین دہانی کرائی جائے کہ ذاتِ باری تعالیٰ انہیں فضا میں اسی طرح تھامے رکھنے پر قادر ہے جس طرح اس نے اس دیو ہیکل چٹان کو تھام رکھا ہے۔ مزید برآں، مقصد یہ تھا کہ انہیں ایک ”غیر معمولی مکانی کیفیت“ یعنی معلق ہونے کی کیفیت سے مانوس کیا جائے تاکہ وہ آسمانی سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو سکیں۔ فضا میں بغیر کسی ظاہری سہارے کے لٹکی ہوئی یہ چٹان اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح اشیاء قدرتِ الٰہیہ کے دستِ قدرت میں تھمی ہوئی ہو کر فطری رجحانات (جیسے کششِ ثقل) کو شکست دیتی ہیں۔ چٹان اور آباد آسمانی دنیاؤں کے درمیان یہ ”معلق ہونے کی غیر مانوس مکانیت“ قدرِ مشترک ہے: دونوں ہی بغیر کسی ظاہری سہارے کے دستِ قدرت میں تھمے ہوئے ہیں۔ تاکہ نبی کریم ﷺ اپنی معراج اور آسمانوں کی حیرت انگیز مکانیت کے تجربے پر ششدر نہ ہوں، انہیں پہلے چٹان دکھائی گئی اور معلق ہونے کی کیفیت کا تجربہ کرایا گیا۔ النابلسی وضاحت کرتے ہیں کہ محمد ﷺ “ایک ایسے مقام سے جو قدرتِ الٰہیہ کے سہارے قائم تھا (یعنی چٹان)، ایک دوسرے مقام کی طرف اٹھے جو اسی قدرت کے سہارے قائم تھا (یعنی آسمان)، چنانچہ وہ اپنی معراج میں ششدر نہیں ہوئے۔
چونکہ معاملہ ایسا ہی ہے۔ لہٰذا آسمانی دنیا اور چٹان کے درمیان یہ مکانی ہم آہنگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دونوں ”اخفا“ کے معنی میں بھی شریک ہوں: دونوں کے بارے میں یہ جانا جاتا ہے کہ وہ معلق ہیں، لیکن ان کا معلق ہونا نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ چنانچہ النابلسی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ فنِ تعمیر کے ذریعے چٹان کا چھپایا جانا اب کسی اور ضرورت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے اور وہ ضرورت ہے انسانی بصارت پر اس کے معلق ہونے کا انکشاف۔ دوسرے الفاظ میں پوشیدگی کی موجودہ حالت صورتحال پر کوئی حتمی مہر نہیں لگاتی کیونکہ مستقبل کے واقعات ایسے حالات لا سکتے ہیں جو اس کے انکشاف اور نتیجتاً نئی تشریحات ناگزیر بنا دیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو اخفا کا یہ عمل چٹان اور اس کے ناگزیر تعمیراتی حجاب کے مابین تعلق پر ایک نئی جدلیات کا اطلاق کرتا ہے۔ اور النابلسی کی جانب سے فنِ تعمیر کی تاریخ سے ماورا تشریح کے ساتھ حقیقت اور حجاب کے کثیر الجہتی صوفیانہ استعارے کے اندر ایک بھرپور شعریات آشکار ہوتی ہے۔ صوفیانہ اصطلاح میں، حقیقت صرف حجابات اور پردوں کے ایک سلسلے کے ذریعے ہی منکشف ہو سکتی ہے جو اس کی بصورتِ دیگر خیرہ کن موجودگی کو فلٹر کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ حتمی حقیقت جس کی نمائندگی چٹان کرتی ہے، صرف تعمیراتی پردہ پوشی کے اس ناگزیر عمل کے ذریعے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔
مزید تفصیل اور بحث کے لیے ملاحظہ ہو:
Samer Akkach, The Poetics of Concealment: Al-Nabulusi’s Encounter with the Dome of the Rock Muqarnas, Vol. 22 (2005), pp. 110-127

Pingback: پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات – bayania.com