فطرت اور عقل کے مابین تعلق (3)

عبدالرحمن طہ / صابر علی
دوسرا نتیجہ یہ کہ عقل اپنی اصل کے اعتبار سے توحید کا ایک وسیلہ ہے۔ چونکہ ”فطرت“ اولادِ آدم پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ان جلووں کے آثار کا نام ہے جن سے انہوں نے اس کی معرفت حاصل کی اور اس کی وحدانیت کا اقرار براہِ راست ان معنوی اور اخلاقی آثار سے پیدا ہوا جنہیں ”فطرت“ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے؛ لہٰذا یہ لازم ہو گیا کہ ”عقل“ ان نورانی آثار تک رسائی کا ذریعہ بن کر اللہ کی وحدانیت کا ادراک و اقرار کرے۔ اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل میں ”عقل“ کا کام یہ ہے کہ وہ ہر شے کو اس کے وحدہٗ لاشریک رب سے تعلق کے حوالے سے پہچانے۔ یا مختصراً یہ کہ اصل میں عقل کا کام ہر شے کو اللہ کے ساتھ (اس کے تعلق کی روشنی میں) پہچاننا ہے۔
کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اگر ”عقل“ فطرتی معانی تک رسائی کے اصول کی بنیاد پر اللہ کی وحدانیت کو بداہتاً تسلیم کرتی ہے تو پھر ایسے عقل مند لوگ کیوں پائے جاتے ہیں جو اس توحید کا انکار کرتے ہیں؟ اس کا جواب دو پہلوؤں سے دیا جاتا ہے:
اول یہ کہ اللہ کی توحید کا ”عقلی اقرار“ کوئی ارادی یا نظری توحید نہیں بلکہ یہ ایک خلقی توحید (یعنی فطرت میں پیوست) ہے۔ تمام آدمی اسی توحید پر پیدا کیے گئے ہیں اور جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے اپنی ذات کے وجود کا انکار کرنے والا؛ کیونکہ توحید کا وجود اسی طرح خلقی ہے جیسے ذات کا وجود خلقی ہے۔ البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ توحید کا خلقی ہونا دراصل خلْق کی درستی و توازن (تقویم) سے عبارت ہے جبکہ ”وجود کا خلقی ہونا“ اس کی تکوین سے عبارت ہے۔
دوم یہ کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ”عقل“ کی توحید انسان کے شعور کے لیے ہر وقت حاضر رہے۔ ان کے (یعنی توحید اور انسانی شعور کے) درمیان رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں یہاں تک کہ جب ان رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے تب ہی انسان اپنی استطاعت کے مطابق اس توحید کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔
تیسرا نتیجہ یہ کہ عقل اپنی اصل کے اعتبار سے ایک اخلاقی وسیلہ ہے۔ چونکہ اللہ کی معرفت ”فطرت“ من جملہ روحانی معانی اور اخلاقی اقدار کے مجموعے پر مشتمل ہے تو ”عقل“ پر لازم ہے کہ وہ ان معانی اور بلند اقدار کو اپنا شعار بنائے اور اپنی بساط بھر اقوال و افعال کی درستی و رہنمائی کے لیے انہیں بطورِ وسیلہ استعمال کرے۔
اور کسی کا یہ کہنا درست نہیں کہ ”عقل“ صرف اپنے عملی پہلو میں اخلاقی ہے اور نظری پہلو میں نہیں؛ کیونکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ عقل کی اخلاقیت دو ایسی خصوصیات سے عبارت ہے جو اسے کلی طور پر اخلاقی بناتی ہیں:
اس اخلاقیت کی پہلی خصوصیت قَبلیت ہے۔ یہاں ”قبلیت“ (اے پرائری) ہونے سے مراد یہ ہے کہ ”عقل“ کی اخلاقیت نہ صرف تجربے سے ماقبل ہے بلکہ وہ تو خود وجودِ انسانی سے بھی قبل کی چیز ہے۔ آدمیوں نے اپنے رب کی صفات کو عالمِ وجود میں آنے سے قبل ہی ” اشہاد“ کے دن جان لیا تھا جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔ پس اخلاقی اقدار ان صفاتِ الٰہیہ کے وہ آثار ہیں جو انسانوں کے باطن میں ثبت کر دیے گئے ہیں۔ ان سابقہ آثار کا خاصہ یہ ہے کہ وہ انسانی عقل کے ہر نظری یا عملی فعل سے لازم و ملزوم ہیں خواہ انسان اس کا شعور رکھے یا نہ رکھے۔
اور دوسری خصوصیت ”عقل“ کی اخلاقیت کا ”فطرت“ سے ماخوذ ہونا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ ”فطرت“ ”کمال“ کی صفت رکھتی ہے اور ”شمولیت“ اس ”کمال“ کا ضروری وصف ہے جس کی بدولت ”فطرت“ آدم ذات میں ایک ایسی نافذ اشہادی حقیقت بن جاتی ہے جو اس کے عالمِ وجود میں آنے سے قبل ہی سے موجود ہوتی ہے۔ چنانچہ جب انسان وجود میں آتا ہے تو لازم ہے کہ ”عقل“ وجود میں آنے کے بعد اس (فطرت) کے نمونے پر چلے۔ یوں اس کی اخلاقی تاثیر اس ذات کے ہر فعل کو محیط ہو جاتی ہے، چاہے وہ افعال معنوی نوعیت کے ہوں یا حسی نوعیت کے۔ پس افکار، مفاہیم اور قضایا سب کے سب دراصل (فطرت کی طرف سے) اصلاح و رہنمائی کے محتاج ہیں کیونکہ یہ بھی ظاہرِ اعمال کی طرح درحقیقت باطنی اعمال ہی ہیں۔
اس بحث کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ ”ابنِ تیمیہ کے نظریے“ اور ”نظریۂ ائتمانیہ“ کے مابین ”میثاقِ اشہاد“ کے حوالے سے موازنہ کرنے پر درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
اوّل یہ کہ ابنِ تیمیہ نے ”نصِ اشہاد“ کی تاویل ایک طبعی و حسی تاویل کے طور پر کی ہے، جبکہ ”نظریۂ ائتمانیہ“ کی تاویل طبیعت اور حواس کے دائرے سے ماورا ہے۔ اس لیے کہ ”نظریۂ ائتمانیہ“ متن کی تفہیم میں اس کے غیبی مدلول کو تھامے رکھتی ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے وہ اس متن کو ایک ایسے غیبی افق کے تناظر میں سمجھتی ہے جسے یہ متن خود کھولتا ہے۔ یہ نظریہ دو جہانوں کے مابین فرق کرتا ہے: ”عالمِ مواثقہ“ (عہدِ ازل کا جہان) اور ”عالمِ معاملہ“ (موجودہ دنیا)، نیز یہ دو طرح کی عقلوں میں تمیز کرتا ہے: ”عقلِ مجرد“ اور ”عقلِ مسدّد“۔
دوسرا نتیجہ یہ کہ ابنِ تیمیہ نے ”میثاقِ اشہاد“ کو ”فطرت“ کے ساتھ ایک بالواسطہ تعلق میں جوڑا ہے جس کی بنیاد بنیادی طور پر ”حدیثِ فطرت“ پر ہے اور جس میں انہوں نے ”فطرت“ کو ”غریزہ“ کے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس ”نظریۂ ائتمانیہ“ اس تعلق کو براہ راست قرار دیتا ہے کیونکہ یہ ”فَطر روحانی“ (روحانی فطرت) اور ”فَطرِ مادی“ (طبعی فطرت) میں تمیز کرتا ہے اور روحانی فطرت کو مادی فطرت پر فوقیت دیتا ہے؛ چنانچہ ”فطرت“ دراصل وہی ”فطرت روحانی“ ہے جس کا مشاہدہ ”عالم مواثقہ“ میں کیا گیا تھا۔
تیسرا نتیجہ یہ کہ ابنِ تیمیہ کے نزدیک ”فطرت“ میں معرفت کا لازمی جزو ربوبیت کا اعتراف اور بعض صفاتِ الٰہیہ کا علم ہے۔ جبکہ ”نظریۂ ائتمانیہ“ ”معرفتِ الٰہی“ (معرفت باللہ) اور ”اعترافِ الٰہی“ (اعتراف باللہ) میں فرق کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک اعتراف، معرفت کا نتیجہ ہے نہ کہ اس کے مساوی۔ نیز یہ نظریہ معرفتِ الٰہی کو ان روحانی معانی اور اخلاقی اقدار کے مجموعے کی طرف لوٹاتا ہے جو ان صفاتِ الٰہیہ سے مستمد ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم پر تجلی فرمائی تھی تاکہ وہ اس کی معرفت حاصل کر سکیں۔
چوتھا نتیجہ یہ کہ اگر ابنِ تیمیہ ”فطرت“ اور ”عقل“ کے تعلق کو تضمن (Inclusion) پر محمول کرتے ہیں تو نظریۂ ائتمانیہ اس تعلق کو توسل کا رشتہ قرار دیتا ہے۔ کیونکہ ”عقل“، ”فطرت“ کے لیے ”عالمِ مواثقہ“ میں ربوبیت کے اقرار اور صفاتِ الٰہیہ کی معرفت حاصل کرنے کا ایک وسیلہ ہے؛ اور یہی عقل ”عالمِ معاملہ“ میں ان معانی و اقدار پر مبنی امکانات کو عملی جامہ پہنانے کا ذریعہ بھی ہے جو اسے اپنی اصل کے اعتبار سے ایک فطری ، توحیدی اور اخلاقی وسیلہ بنا دیتی ہے۔
Visited 1 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *