توحید اور شر کا قدیم معما

کائے ہینز / صابر علی

کائے ہینز کی کتاب ”اوریجن آن ڈیمونک ایگزیکیوشنز“ کا مطالعہ کرتے ہوئے انسان ایک ایسے فکری چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں توحید کی خالصیت اور دنیا میں پھیلے ہوئے شر کی موجودگی آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ ہینز نے اسکندریہ کے اوریجن کی جس الہیات کو بے نقاب کیا ہے، اس کا سب سے چبھتا ہوا سوال یہی ہے کہ کیا کائنات کا سب سے بڑا باغی یعنی شیطان، درحقیقت خدا کے خفیہ دربار کا ایک ”سرکاری ملازم“ ہے؟ یہ سوال سننے میں جتنا گستاخانہ لگتا ہے، فلسفیانہ اور الہیاتی تاریخ میں اتنا ہی ناگزیر رہا ہے۔ اوریجن جس عہد میں سانس لے رہا تھا، وہ ”ثنویت“ (Dualism) کے فتنے کا دور تھا۔ مارسین جیسے مفکرین یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ وہ خدا جو یسوع مسیح کا باپ ہے، وہی خدا پرانے عہد نامے کا قہار اور جبار رب بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک شر کا خالق کوئی اور تھا اور خیر کا خالق کوئی اور۔ اس فکری انتشار میں اوریجن نے توحید (Monotheism) کا دفاع کرنے کے لیے ایک ایسا راستہ چنا جو آج بھی ہمارے لیے حیرت کا باعث ہے۔

ہینز اپنی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ اوریجن نے شیطان کو خدا کے مدمقابل ایک آزاد قوت ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ اگر شیطان مکمل آزاد ہوتا اور خدا اس کی شرارتوں کو روکنے پر قادر نہ ہوتا تو پھر خدا ”قادرِ مطلق“ نہ رہتا۔ خدا کی خدائی بچانے کے لیے اوریجن نے شیطان کی ”آزادی“ کو خدا کی ”مشیت“ کے تابع کر دیا۔ اوریجن کا استدلال یہ ہے کہ شیطان اپنی فطرت اور ارادے میں تو خدا کا دشمن ہے، لیکن اپنے افعال اور نتائج میں وہ خدا کی حکمتِ عملی کا پابند ہے۔ کتاب کے مطابق، اوریجن بائبل کی ان آیات کی تشریح کرتا ہے جہاں خدا بدروحوں کو ”بھیجتا“ ہے یا انہیں ”استعمال“ کرتا ہے۔ یہاں اوریجن ایک بہت دلچسپ مگر نازک مثال دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شیطان اور اس کے چیلے خدا کے ”جلاد“ (Executioners) ہیں۔ جیسے ایک منصف بادشاہ خود کسی مجرم کو کوڑے نہیں مارتا بلکہ یہ کام جلاد کے سپرد کرتا ہے—جو شاید اپنی ذاتی وحشت کی تسکین کے لیے کوڑے مار رہا ہو—مگر قانون کی نظر میں وہ بادشاہ کے انصاف کی تکمیل کر رہا ہوتا ہے۔

اس نکتے پر اسلامی روایت کا تقابل بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ اسلام میں بھی شیطان کو خدا کے مقابلے میں کوئی متوازی طاقت نہیں سمجھا جاتا۔ قرآن مجید میں جب ابلیس خدا سے مہلت مانگتا ہے (قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون)، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ خدا کی اجازت کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا۔ تاہم، اوریجن اور روایتی اسلامی فکر میں ایک باریک فرق ہے۔ اوریجن خدا کو شر کے ”فعل“ سے بچانے کے لیے شیطان کو درمیان میں لاتا ہے تاکہ خدا کا دامن صاف رہے، جبکہ اسلامی علم الکلام (خاص طور پر اشاعرہ) کے نزدیک خیر اور شر دونوں کا خالق اللہ ہی ہے، شیطان تو محض ایک ”کاسب“ (Acquirer) یا ذریعہ ہے۔ اوریجن کی کوشش یہ ہے کہ خدا کی پاکیزگی (Goodness) اور خدا کی طاقت (Supremacy) دونوں کو بچایا جائے، اور اس چکر میں وہ شیطان کو ایک ایسے ”تزویراتی مہرے“ کے طور پر پیش کرتا ہے جسے خدا اپنی بساط پر اپنی مرضی سے چلتا ہے۔

ہینز کی کتاب میں ایک اور اہم بحث ”خدا کی اجازت“ اور ”خدا کے ارادے“ کے درمیان فرق پر ہے۔ اوریجن کہتا ہے کہ خدا برائی کا ”ارادہ“ نہیں کرتا لیکن وہ برائی کی ”اجازت“ دیتا ہے تاکہ اس سے کوئی بڑا خیر برآمد ہو سکے۔ وہ ایوب علیہ السلام کے قصے کو بنیاد بناتا ہے جہاں شیطان خدا سے اجازت لے کر ایوبؑ پر مصیبتیں ڈھاتا ہے۔ اوریجن کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان خدا کی زنجیر میں بندھا ہوا ایک کتا ہے، جسے صرف تب ڈھیل دی جاتی ہے جب کسی ”دوست“ کا امتحان لینا مقصود ہو یا کسی ”مجرم“ کو سزا دینی ہو۔ یہ فکر ہمیں مولانا روم اور ابنِ عربی کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے ابلیس کے وجود کو کائنات کے تکوینی نظام (Cosmic Order) کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اقبال نے بھی جب کہا کہ

 ”مزی اندر جہانِ کور ذوقے، کہ یزداں دارد و شیطان ندارد“

 اس بے ذوق جہاں میں مت رہو جہاں خدا تو ہو مگر شیطان نہ ہو

 تو وہ دراصل اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ خیر کی پہچان اور ارتقاء کے لیے شر کی رگڑ ضروری ہے۔

تاہم، اوریجن کے اس ماڈل پر ایک تنقیدی سوال بھی اٹھتا ہے، جس کی جھلک ہمیں ہینز کے تجزیے میں ملتی ہے۔ اگر خدا شیطان کو بطور آلہ استعمال کرتا ہے، تو کیا بالواسطہ طور پر وہ انسانوں کی گمراہی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرتا؟ اوریجن اس کا جواب ”ہینڈنگ اوور“کے تصور سے دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا کسی کو دھکا دے کر شیطان کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ جب انسان خود خدا کی روشنی سے منہ موڑ لیتا ہے تو خدا اپنی حفاظت کا حصار ہٹا لیتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے شیطان آ موجود ہوتا ہے۔ یعنی شیطان کا مسلط ہونا خدا کا ظلم نہیں بلکہ انسان کے اپنے انتخاب کا قدرتی نتیجہ ہے۔ یہ توجیہہ عقلی طور پر تو اطمینان بخش لگتی ہے لیکن جذباتی سطح پر یہ سوال پھر بھی کھٹکتا ہے کہ وہ خدا جو ”محبت“ ہے، وہ اپنے بندوں کو ایسے درندے کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑتا ہے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ انہیں چیر پھاڑ دے گا؟

کتاب کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ اوریجن نے عیسائیت کو ”ثنویت“ کے گڑھے میں گرنے سے تو بچا لیا، لیکن اس کے نتیجے میں اس نے شیطان کے کردار کو اتنا پیچیدہ کر دیا کہ وہ بیک وقت ”خدا کا دشمن“ اور ”خدا کا کارندہ“ بن گیا۔ صابر علی کی نظر میں، یہ محض پرانے زمانے کی لفاظی نہیں ہے بلکہ آج کے انسان کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم آج بھی اپنی زندگی میں آنے والے شر کو کبھی ”قدرتی آفت“ کہتے ہیں، کبھی ”شیطانی وار“ اور کبھی ”خدا کی آزمائش“۔ اوریجن ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ تینوں الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ یہ ایک ہی بڑے ڈرامے کے مختلف پردے ہیں۔ اس کی فکر میں ایک عجیب سی امید ہے کہ آخرکار، جب کھیل ختم ہوگا، تو یہ ”سرکاری ملازم“ (شیطان) بھی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور صرف خدا کی رحمت باقی رہے گی۔ یہ نظریہ اسلامی تصورِ توحید کی اس شان کے بہت قریب ہے جہاں اللہ کے سوا کوئی ”مؤثرِ حقیقی“ نہیں، اور شیطان کی تمام تر شرارتیں بھی بالآخر اللہ کی مشیت کے سمندر میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔

Visited 4 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *