بصارت، معنی اور قصد: ادراک کا اسلامی تصور بمقابلہ جدید سائنسی فکر

صابر علی

نماز سے متعلق ایک حدیثِ مبارکہ کی مختصر شرح میں مشہور اندلسی قاضی اور محدث ابوبکر ابن العربی  نے بصری ادراک کی ماہیئت کے بارے میں عہدِ جدید سے قبل کے ایک اسلامی فہم کی بصیرت افروز تشریح پیش کی ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی قوتِ بصارت کا حوالہ دیا ہے۔ ایک مرتبہ امامت کرواتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی سرزنش کی جو نماز کے دوران درست انداز میں نہیں کھڑے تھے، اور فرمایا: ”کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میرا قبلہ صرف میرے سامنے ہے؟ خدا کی قسم، تمہارا رکوع اور سجود مجھ سے پوشیدہ نہیں؛ میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھ سکتا ہوں حالانکہ تم میری پشت کی جانب ہو“۔ بہت سے مسلم علماء اور شارحینِ حدیث نے ان طریقوں پر بحث و تمحیص کی ہے جن کے ذریعے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے۔ بعض تو یہاں تک گئے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک تیسری آنکھ کی موجودگی تجویز کر دی؛ دوسروں کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کا عکس سامنے کی دیوار میں دیکھا جو آئینے کی مانند ہو گئی تھی؛ جبکہ کچھ زیادہ عقلیت پسندوں نے اس کے لیے گوشہ چشم یا چہرے کے معمولی سے جھکاؤ (بغیر گردن موڑے) کی توجیہات پیش کیں۔ تاہم، ابن العربی ان پیچیدہ تاویلات کو مسترد کرتے ہیں اور ایک ایسی غیر معمولی بصری صلاحیت کے حق میں استدلال پیش کرتے ہیں جس کے ذریعے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سر موڑے بغیر اپنی پشت کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے، بالکل اسی طرح جیسے ایک اور موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے دیوار کی وسعت میں جنت دیکھنے پر قادر تھے۔

ابن العربی اپنے استدلال کی بنیاد بصری ادراک کی ایک خاص تفہیم پر رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ”بصری ادراک درحقیقت ایک ایسا معنی ہے جو اللہ تعالیٰ آنکھ میں تخلیق فرماتا ہے، اس بنیاد پر کہ دیکھنے والا مرئی اشیاء میں سے کیا دیکھنے کا ’قصد‘ (ارادہ) رکھتا ہے“۔ ناظر جو کچھ دیکھنے کا ارادہ کرتا ہے، وہ بلاشبہ اس کی استعداد اور افتادِ طبع کے عین مطابق ہوتا ہے اور چونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم غیر معمولی قوتوں سے مالا مال تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سب کچھ دیکھنے کے اہل تھے جو دوسرے دیکھنے سے قاصر تھے۔ اسی حدیث کی شرح میں، معروف محدث ابن حجر عسقلانی مزید وضاحت کرتے  ہوئے ’ابصار‘ (دیکھنا) اور ’رویت‘ (بصیرت) میں فرق واضح کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ ابصار کے برعکس، رویت کے لیے عقلی طور پر یہ ضروری نہیں کہ دیکھنے کے آلے (آنکھ) کا ہونا، قربت یا بصری رابطہ موجود ہو۔ یہ موقف اہلسنت علماء کے اس عمومی عقیدے کے برعکس ہے کہ بصارت قربت یا بصری رابطے کے بغیر ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ نکتہ ابن العربی کے اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ ’قصد‘ یا ’نیت‘ بذاتِ خود ایک طرح کی بصارت یا سادہ لفظوں میں ایک نقطہ نظر بن سکتی ہے جو انسان کی بصری وسعت کے مطابق ہوتی ہے۔

بصری ادراک کا یہ فہم ہمارے جدید اور سائنس پر مبنی تصورات کے لیے چند چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ اول، دیکھنے والے  اور دکھائی دینے والی شے کے درمیان نہ ٹوٹنے والا ربط، نیز مرئی شے کی تشکیل میں ناظر کا موثر کردار، اس جدید تصورِ ’معروضیت‘کو چیلنج کرتا ہے جو ایک آزاد اور خود مختار حقیقت (یعنی وہ دنیا جو باہر موجود ہے) کی مستحکم خصوصیات کو اولیت دیتا ہے۔ وہ لچک یا گنجائش جو دیکھنے والے کی نیت اور افتادِ طبع کے مطابق مرئی حقیقت کو تبدیل کرنے کا اختیار دیتی تھی، اسے پس کارتیسی سائنسی فکر میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

دوسرا، دیکھنے والے کا موثر کردار اور مرئی حقیقت کی لچک و تغیر پذیری، غیر معمولی، غیر متوقع اور نامعلوم کے لیے ایک گنجائش فراہم کرتی ہے، یعنی یہ ”سرّ“ (راز) کا مقام ہے۔ العسقلانی ان لوگوں کو ”اہلِ بدعت“ شمار کرتے ہیں جو ”العادۃ“ (ناقابلِ تبدیل فطری عادات یا قوانینِ فطرت) پر اصرار کرتے ہیں۔ چنانچہ، عہدِ جدید سے قبل کے اسلامی نقطہ نظر میں ہمیشہ ایک ایسا خلا موجود رہا ہے جہاں فطرت کے قوانین کی طے کردہ معمول کی دنیا اور اشیا کے تسلسل کو توڑا جا سکتا ہے۔ اس خلا میں ایک مافوق الفطرت یا الوہی طاقت تاریخ کے ردوبدل، واقعات کی تخلیق اور اپنے ماورائی مقاصد کے تحت اشیاء کی تشکیل میں حصہ لیتی ہے۔ وجود کی یہ حالت ”چشمِ بصیرت“ کے لیے غور و فکر کا ایک موضوع بن جاتی ہے۔ اور پھر ”معنی“ کو ایک ایسی شے تصور کرنا جسے خدا ذہن کے بجائے آنکھ میں تخلیق کرتا ہے، ہمارے موجودہ تصورات میں احساس  اور استدلال کے درمیان تفریق کو ایک اور چیلنج پیش کرتی ہے؛ وہ موجودہ تصورات جو محسوسات اور معقولات میں فرق کرتے ہیں اور استدلال کو احساس پر برتری دیتے ہیں۔

معانی کا تعلق عام طور پر سوچ اور استدلال سے جوڑا جاتا ہے اور اس طرح وہ ذہن کی پیداوار سمجھے جاتے ہیں نہ کہ حواس کی۔ لیکن جب معانی کا تعلق آنکھ سے جڑ جاتا ہے تو آنکھ ایک ادراکی صلاحیت اختیار کر لیتی ہے، بصری التباس ایک نئی اہمیت حاصل کر لیتا ہے اور شناخت کے عمل میں فوری پن  نمائندگی  ختم کر کے تعبیر کا کردار محدود کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر ابن عربی کی جانب سے ”پشت کی بینائی“ کی وضاحت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا حدیث کی اپنی شرح میں وہ انسان کی پشت کی جانب دیکھنے کی صلاحیت کے فقدان کو ”بصری عجز“ یا ”غیب القدرۃ“ (طاقت کی عدم موجودگی) سے تعبیر کرتے ہیں جس کے ازالے کے لیے آپ کے بقول خدا نے آئینہ تخلیق کیا۔ لہٰذا ابن عربی کے نزدیک آئینے کا وجود انسان کی محدود بصری صلاحیت کے ثبوت اور اس کی توسیع کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم، انسانی قوتِ بصارت (قدرۃ) میں توسیع کے طور پر آئینے کی وساطت ایک مسئلہ بن جاتی ہے، کیونکہ عکس کا ظہور شے اور اس کی تصویر کی دوئی پیدا کرتا ہے۔ اس دوئی پر قابو پانے کے لیے ابن عربی دلیل دیتے ہیں کہ آئینے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ کسی چیز کی ”مثال“ (تصویر) نہیں بلکہ وہ ”شے خود“ ہے یعنی اس کی ”حقیقت“۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ آئینے میں ایسی کوئی خلائی گہرائی یا مادہ نہیں ہوتا جو اس میں کسی ”تصویر“ کے مجسم ہونے کا بوجھ سہار سکے اگرچہ یہ گہرائی اور تجسیم کا وہم ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ مظہر ان پر ثابت کرتا ہے کہ وہ انعکاسی موجودگی جو دیکھنے کی نیت (قصد) سے مشروط ہے کسی غیریت یا نمائندگی کی حامل نہیں ہوتی: یعنی وہ ”معنی“ جو خدا آنکھ میں، نہ کہ ذہن میں، تخلیق کرتا ہے، وہ بذاتِ خود وہ شے ہی ہوتی ہے۔

بصری ادراک کی نوعیت کا یہ فہم اگرچہ مسلم سائنس دانوں کے بصریات پر مبنی نقطہ نظر یا ارسطوئی سوچ سے ہم آہنگ نہیں  مگر اٹھارھویں صدی تک محدثین، متکلمین اور صوفیاء کے ہاں رائج رہا ہے۔

Visited 7 times, 1 visit(s) today

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *