جب ہم لفظ ”نسل کشی“ (Genocide) سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟ ہٹلر کے گیس چیمبرز، روانڈا کا قتل عام، یا ہلاکو خان کی کھوپڑیوں کے مینار۔ یعنی لاشوں کے ڈھیر اور خون کے دریا۔
لیکن ایک ایسا ہولناک سچ بھی ہے جو اس سے کہیں زیادہ گہرا اور خطرناک ہے۔ جدید دور میں نسل کشی محض ایک ”حادثہ“ نہیں ہے جو کبھی کبھار پاگل ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں ہو جاتا ہے؛ بلکہ یہ جدیدیت کا ایک مستقل ”ڈھانچہ“ (Structure) یا ساخت ہے۔ اسے ”ساختی نسل کشی“ (Structural Genocide) کا نام دیا گیا ہے۔
قتل کا نیا طریقہ: وجود کا خاتمہ
پیٹرک وولف (Patrick Wolfe) کا ایک مشہور قول ہے:
”استعمار حملہ کر کے واپس نہیں جاتا، وہ وہیں رہنے کے لیے آتا ہے“۔
اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہیں تو روایتی جنگوں میں آپ دشمن کو ہرا کر اس پر ٹیکس لگا دیتے تھے۔ لیکن جدید ”آبادکار استعمار“ (Settler Colonialism) جیسے امریکا، آسٹریلیا اور اسرائیل کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ انہیں صرف زمین نہیں چاہیے، انہیں وہ زمین ”لوگوں کے بغیر“ چاہیے۔
یہاں ”ساختی نسل کشی“ جنم لیتی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو جسمانی طور پر مارنا (جو کہ اکثر ہوتا ہے) سے زیادہ ان کے ”طرزِ زندگی“ کو مارنا ہے۔ استعمار مقامی باشندوں (Natives) کی ثقافت، زبان، قانون اور سوچنے کے انداز کو اس طرح ختم کرتا ہے کہ وہ اپنی ہی زمین پر اجنبی بن جائیں۔ وہ زندہ تو رہتے ہیں مگر ”ریڈ انڈین“ یا ”فلسطینی“ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی مخلوق کے طور پر جو اپنے آقا کی نقل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
فلسطین: ایک زندہ مثال
لبرل مغرب اسرائیل کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ اس لیے نہیں کہ وہ یہودیوں سے محبت کرتا ہے بلکہ اس لیے کہ اسرائیل بالکل وہی کر رہا ہے جو یورپ نے امریکا اور آسٹریلیا میں کیا تھا۔
صیہونیوں کے لیے فلسطین ”ایک زمین تھی جس کے کوئی لوگ نہیں تھے“۔حالانکہ وہاں لاکھوں فلسطینی بستے تھے۔ جدیدیت کی نظر میں فلسطینی ”انسان“نہیں تھے، وہ محض راستے کا”پتھر“ یا ”رکاوٹ“ تھے۔
صہیونی رہنما ولادیمیر جابوتنسکی نے اپنے مضمون ”آہنی دیوار“(The Iron Wall) میں صاف لکھا تھا کہ مقامی لوگ اپنی مرضی سے کبھی نہیں جائیں گے، انہیں طاقت کے زور پر کچل کر ہی اپنی ریاست بنائی جا سکتی ہے۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ جو کیا، وہ محض جنگ نہیں تھی۔ انہوں نے ان کے دیہاتوں کے نام بدل دیے، ان کے زیتون کے درخت اکھاڑ کر یورپ کے درخت لگا دیے، ان کی تاریخ مٹا دی اور ان کے ”وجود“ کو ایک مسئلہ بنا دیا۔ یہ ہے ساختی نسل کشی جہاں آپ صرف جسم نہیں مارتے، آپ یادداشت کا قتل کرتے ہیں۔
قلم سے قتل تک
سوال یہ ہے کہ مغرب اور اسرائیل اتنے بڑے پیمانے پر ظلم کر کے بھی خود کو ”مہذب“اور ”جمہوری“ کیسے کہتے ہیں؟
اس کا جواب ہے”علمی حاکمیت“(Epistemic Sovereignty) ۔
جدید علم (سائنس، فلسفہ ،استشراق) نے یہ طے کر دیا ہے کہ جو چیز ”جدید“ نہیں، وہ ”فالتو“ ہے۔ چونکہ قدیم قومیں، قبائل اور روایتی معاشرے (جیسے اسلامی دنیا) جدید پیمانوں پر پورا نہیں اترتے، لہٰذا ان کا خاتمہ ”ارتقاء“ (Progress) کا حصہ ہے۔
جب آپ کسی کو ”غیر مہذب“، ”جاہل“ یا ”دہشت گرد“ قرار دے دیتے ہیں (جیسا کہ اورینٹلزم نے کیا)، تو پھر اس پر بم گرانا یا اس کی نسل کشی کرنا ایک ”اخلاقی جرم“ نہیں رہتا بلکہ وہ ”تہذیب کی خدمت“ بن جاتا ہے۔ لبرل ازم کے پاس وہ اخلاقی زبان ہی نہیں ہے جو اس ظلم کو روک سکے کیونکہ لبرل ازم خود اس ظلم کا بانی ہے۔
استثناء یا اصول؟
یورپ کہتا ہے کہ ہولوکاسٹ ایک ”استثناء“ (Exception) تھا، ایک پاگل پن کا دورہ تھا جو گزر گیا۔ لیکن یہ ہولوکاسٹ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ ہٹلر نے وہی کچھ یورپ کے اندر کیا جو یورپ صدیوں سے افریقہ اور ایشیا میں کر رہا تھا۔
جب آپ انسان کو اشرف المخلوقات اور خدا کا نائب سمجھنے کے بجائے محض ”مادہ“ (Matter) اور ”وسائل“ (Resource) سمجھتے ہیں تو پھر انہیں گیس چیمبر میں ڈالنا یا ہیروشیما پر بم گرانا صرف ایک ”انتظامی فیصلہ“ (Administrative Decision) بن جاتا ہے۔ یہ جدیدیت کی منطق کا حتمی نتیجہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ غزہ میں گرنے والے بم اور ہماری یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانے والا نصاب، دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: ”دوسرے“ (The Other) کو مٹا کر اسے اپنی شبیہ میں ڈھالنا۔ جب تک ہم اس ”ساختی نسل کشی“ کو نہیں سمجھیں گے، ہم فلسطین یا کشمیر کے مسئلے کو محض ”سرحدی تنازعات“ سمجھتے رہیں گے جبکہ یہ دراصل ہمارے وجود کی جنگ ہے۔
