محمد دین جوہر

لفاظی کی دھول میں علمی فرار: محمد دین جوہر کے معقولاتی تضادات

صابر علی

نعمان علی خان کے دو سوالوں پر  محمد دین جوہر صاحب کی تحریر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ تحریر ”جواب“ سے زیادہ ”فرار“ کی ایک کوشش ہے۔ جوہر صاحب الفاظ کی بازی گری اور پیچیدہ فلسفیانہ اصطلاحات کی دھول اڑا کر اصل سوالات غائب کر دیتے ہیں۔ ذیل میں ان … Read the rest

, , , , , , , , , , , , , , , ,

محمد دین جوہر کا ”ماتمِ معقولات“: ایک تنقیدی و فکری جائزہ

صابر علی

نعمان علی خان کے دو سوالوں پر محمد دین جوہر صاحب نے پانچ حصوں میں اپنے تاثرات فیس بک پر پیش کیے ہیں۔ان پانچوں حصوں کو ایک مسلسل مضمون کے طور پر  دیکھا جائے تو آپ کی یہ تحریر  ان کے مخصوص پیچیدہ اسلوب، فکری یگانگی کے دعوے اور شدید تہذیبی مایوسی کی عکاس ہے۔ اس تحریر کا تنقیدی جائزہ … Read the rest

, , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

علم، اقتدار اور عصری تقاضے: پسپائی یا شعوری مزاحمت؟

صابر علی

برصغیر کے مابعد استعماری تناظر میں علم اور اقتدار کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ جدید ریاستی ڈھانچے کی تشکیل اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے سماجی کرداروں(صحافی، ٹیچر اور دانشور) کو اکثر استعماریت کے تسلسل یا سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس بیانیے میں … Read the rest

, , , , , , , , , ,

الہٰیات، جدید تشکیک اور اعجاز کا فہم: ایک تجزیاتی محاکمہ

صابر علی

جناب محمد دین جوہر نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ بعنوان ”جناب زاہد مغل کا تصورِ خدا“ میں زاہد مغل پر شدید تنقید کرتے ہوئے روایتی علم الکلام اور تصوف کے کچھ اصولوں کا سہارا لیا ہے، تاہم یہ تنقید جدید ذہن کی علمیاتی ساخت کو نظر انداز کرتی ہے۔ زاہد مغل کی یہ بات زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے … Read the rest

, , , , , , ,