Abdul Ghani al-Nabulsi

پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات 2

صابر علی

آشکار کرنے کی بجائے چھپانے کی غرض سے تعمیر کرنا ہماری فنِ تعمیر کی فہم پر نئے تقاضے عائد کرتا ہے جس کا آغاز ’عملِ تخلیق‘ کو ’نیت‘  سے الگ کرنے کی ضرورت سے ہوتا ہے۔ نیت کا تعلق ’پوشیدگی کی سیاست‘ سے ہے جیسا کہ فرنگیوں کے عمل کے واضح معانی میں نظر آتا ہے وہیں عمل بذاتِ خود … Read the rest

, , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات

صابر علی

۲۷ مارچ ۱۶۹۰ء کو دمشق کے نامور عالم عبدالغنی النابلسی  اپنے احباب اور مریدین کے ہمراہ دمشق سے یروشلم (بیت المقدس) کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ بیت المقدس کی جانب ایک پُرسکون اور اطمینان بخش سفر تھا جس کا راستہ اولیاء کے مزارات، صوفیانہ ملاقاتوں اور بہار کے دلکش مناظر سے مزین تھا۔ سفر سے قبل ایک خواب میں … Read the rest

, , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اسلامی روشن خیالی کا گمشدہ باب: عبدالغنی النابلسی اور جدیدیت کا متبادل بیانیہ

صابر علی

عرب اور عثمانی مفکروں نے یورپی روشن خیالی کے تصورات انیسویں صدی میں اختیار کیے۔ اس سے پہلے سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے مسلمان اہل علم کا اپنا فکری پروگرام تھا  جس کی روشنی میں وہ مغرب سے معاملات کرتے تھے۔ اس فکر کی روشنی میں وہ دیکھتے کہ کیا کچھ اختیار کرنا ہے۔ وہ نئے خیالات سے نمٹنے میں … Read the rest

, , , , , , , , , , , , , , , ,