عقل، تخیل اور ہمارا فکری بحران: آرکون اور الجابری کا ایک تقابلی جائزہ

صابر علی

ہمارے معاصر فکری منظرنامے میں دو نام ایسے ہیں جن کے بغیر جدید عرب اسلامی فکر کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی، ایک محمد عابد الجابری اور دوسرے محمد آرکون۔ یہ دونوں مفکرین اگرچہ ایک ہی مسئلے کا حل تلاش کر رہے تھے یعنی ”عرب اسلامی عقل کی تنقید اور تشکیلِ نو“ مگر ان کے راستے، ان کے اوزار اور ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف بلکہ کئی مقامات پر متضاد ہیں۔ یہ مضمون انہی دو دیو قامت شخصیات کے فکری پروجیکٹس کا ایک تقابل پیش کرتا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ یہ دونوں ”مذہبی تخیل“ اور ”لا معقولیت“ (The Irrational) کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم آج بھی انہی سوالات سے نبردآزما ہیں جنہیں ان دونوں نے دہائیاں پہلے اٹھایا تھا۔

اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے تراث یا ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں عقلی باتوں کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ایسا ملتا ہے جو بظاہر عقل کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا مثلاً کرامات، خواب، دیومالائی قصے اور باطنی علوم۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ”غیر عقلی“ مواد کے ساتھ کیا کیا جائے؟ یہاں الجابری اور آرکون کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ الجابری کا رویہ ایک سخت گیر سرجن جیسا ہے جو سمجھتا ہے کہ جسم (عرب عقل) کو بچانے کے لیے اس فاسد مادے کو کاٹ کر پھینک دینا ضروری ہے۔ وہ اسے ”اللامعقول“ (لا عقل) کا نام دیتے ہیں۔ الجابری کے نزدیک اسلامی تاریخ میں عرفان، تصوف اور شیعہ امامیہ کی باطنی تاویلات نے عرب عقل کو بیمار کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں نے ”برہان“ یعنی خالص منطقی استدلال کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اس لیے الجابری کا پورا پروجیکٹ دراصل ایک علمیاتی صفائی مہم ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ تراث میں سے ”معقول“ کو ”لا معقول“ سے الگ کر دیا جائے اور صرف ان عقلی روایات (جیسے ابن رشد اور ابن خلدون) کو زندہ کیا جائے جو ہمیں ترقی دے سکتی ہیں۔

اس کے بالکل برعکس، محمد آرکون کا رویہ ایک ماہر بشریات  کا ہے۔ وہ ”لا معقول“ کو رد کرنے یا اسے گالی دینے کی بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آرکون اسے ”المتخیل الدینی“ (مذہبی تخیل) کا نام دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تخیل کوئی جھوٹ یا فریب نہیں ہے بلکہ یہ انسانی وجود کا ایک لازمی حصہ ہے۔ آرکون جدید مغربی علوم، جیسے لسانیات، نفسیات اور تاریخ کا سہارا لے کر یہ دکھاتے ہیں کہ انسان صرف دلیل سے زندہ نہیں رہتا بلکہ وہ علامتوں، نشانیوں اور مقدس کہانیوں کے سہارے بھی جیتا ہے۔ جہاں الجابری ”لا معقول“ کو عقل کا دشمن سمجھ کر اسے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں، وہاں آرکون یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس ”تخیل“ کے میکنزم کو سمجھنا ہوگا کہ یہ معاشروں میں کیسے کام کرتا ہے، یہ کیسے تقدس حاصل کرتا ہے اور کیسے لوگوں کو متحرک کرتا ہے۔

الجابری کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی فکر میں بہت زیادہ ”آئیڈیالوجیکل“ ہو جاتے ہیں۔ وہ پہلے سے طے کر لیتے ہیں کہ ”عرفان“ اور ”باطنیت“ بری چیزیں ہیں اور یہ سازش کے تحت اسلام میں داخل ہوئیں۔ وہ ابن سینا اور اخوان الصفا جیسے مفکرین کو بھی اسی خانے میں ڈال دیتے ہیں کہ انہوں نے یونانی دیومالا کو اسلام میں سمو کر عرب عقل کو نقصان پہنچایا۔ الجابری چاہتے ہیں کہ ہم ماضی کے اس ”غیر عقلی“ بوجھ کو اتار پھینکیں تاکہ ایک جدید اور روشن خیال مستقبل کی تعمیر ہو سکے۔ لیکن آرکون اس اپروچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ آرکون کا کہنا ہے کہ آپ تاریخ کے کسی حصے کو محض اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر ”لا معقول“ کہہ کر رد نہیں کر سکتے۔ جسے الجابری ”لا معقول“ کہہ رہے ہیں، وہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے ”معنی“ کا سرچشمہ رہا ہے۔ آرکون کا کمال یہ ہے کہ وہ ”لا مفکر فیہ“ (جس کے بارے میں سوچا نہیں گیا) کو سامنے لاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرکاری اسلام اور فقہی اسلام نے بہت سی چیزوں کو دبا دیا تھا اور جسے ”عوامی اسلام“ یا توہمات کہا جاتا ہے، دراصل وہ بھی انسانی ثقافت کا ایک اہم مظہر ہے۔

یوں سمجھیے کہ الجابری ایک سیاسی اور سماجی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں جہاں وہ عقل کو ”لا عقل“ سے پاک کرنا چاہتے ہیں، جبکہ آرکون ایک سائنسی اور تحقیقی ایجنڈے پر ہیں جہاں وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسانی ذہن ”تقدس“ کو کیسے تخلیق کرتا ہے۔ الجابری متن کے ظاہری اور شعوری پہلو پر رک جاتے ہیں، جبکہ آرکون متن کے پیچھے چھپی نفسیات اور سماجی محرکات کھود کر نکالتے ہیں۔ الجابری کے ہاں ”لا معقول“ ایک گالی ہے، جبکہ آرکون کے ہاں ”تخیل“ ایک تخلیقی قوت ہے۔

اس تقابلی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگرچہ الجابری نے عرب عقل کی ساخت کو سمجھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کا رویہ بہت حد تک ”اقصائی“ (Exclusionary) تھا یعنی وہ بہت سے اہم فکری دھاروں کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کے عقلی پیمانے پر پورے نہیں اترتے۔ دوسری طرف آرکون کا منہج زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ مذہب اور ثقافت کو صرف ”صحیح اور غلط“ یا ”عقل اور لا عقل“ کے ڈبوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی تجربہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے فکری بحران سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں الجابری کی طرح عقل کی اہمیت کو تو ماننا ہوگا، لیکن ساتھ ہی آرکون کی طرح اس ”مذہبی تخیل“ کی طاقت کو بھی سمجھنا ہوگا جو صدیوں سے ہمارے معاشروں کے لاشعور میں رچا بسا ہے۔ محض اسے ”لا معقول“ کہہ کر نظر انداز کر دینے سے وہ ختم نہیں ہو جائے گا، بلکہ اسے سمجھ کر ہی ہم اس کی اصلاح یا تشکیلِ نو کر سکتے ہیں۔

Visited 1 times, 1 visit(s) today

2 thoughts on “عقل، تخیل اور ہمارا فکری بحران: آرکون اور الجابری کا ایک تقابلی جائزہ”

  1. Hey just wanted to give you a quick heads up. The text in your
    post seem to be running off the screen in Internet explorer.

    I’m not sure if this is a formatting issue or something to do with web browser compatibility but I figured I’d post to let you know.
    The design look great though! Hope you get the issue
    solved soon. Many thanks

Leave a Reply to hh88 Cancel Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *