Sabir Ali

طاقت کے جدید بیانیے کا تنقیدی جائزہ

عثمان عمر

جدید دنیا میں طاقت کی نوعیت خاموشی سے بدل چکی ہے۔ وہ طاقت جو کبھی تلوار، تخت یا فوج سے وابستہ تھی، اب ڈیٹا، منڈی اور بیانیے کے ذریعے بروئے کار آتی ہے۔ طاقت کی شکل ظاہراً نرم اور شفاف لگتی ہے مگر اس کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے۔ جدید ریاست جو کبھی شہریوں کے … Read the rest

تداول، تداخل اور تقریب

صابر علی

(نوٹ: عبدالرحمٰن طہ کی فکر میں تداول، تداخل اور تقریب  کی یہ تفہیم وائل حلاق کی کتاب ”اصلاحِ جدیدیت“ کے مطالعہ پر مبنی ہے)

عبدالرحمٰن طہٰ کے فکری منصوبے میں تداول، تداخل اور تقریب تین ایسے بنیادی اصول ہیں جو روایت کے ساتھ نئے سرے سے سوچ بچار کرنے اور جدیدیت کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک منظم … Read the rest

نظریے اور تجربے کی جدلیت

صابر علی

ابہام سے پاک اور فکری دیانت لیے ہوئے سیدھے سپاٹ تجزیات خال خال ہی ملتے ہیں۔ اس اعتراف کے بعد ایسے تجزیات پر سوال ہے کہ تجربے اور نظریے کے درمیان ایک سخت اور قطعی تقسیم پائی جاتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب محض نظری وسائل سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ نظریہ خود … Read the rest

جان ٹیلر گاتو اور مبشر زیدی کا مدافعانہ بیانیہ

صابر علی

مبشر زیدی صاحب نے امریکی نظام تعلیم کی مداحی میں ایک پوسٹ لگائی تھی۔ اس پوسٹ کا لنک آخر میں دیا گیا ہے اور اس پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے۔

زیدی صاحب کی تحریر کو اگر اس کے اجزائے ترکیبی میں تقسیم کیا جائے تو چار بنیادی مقدمات سامنے آتے ہیں:

  1. ۔ امریکی نظامِ تعلیم خود احتسابی، تحقیق اور
Read the rest

مسلم فکری روایت میں ”اخلاقی علم“ کا تصور

صابر علی

علم اور اخلاق کے درمیان رشتہ انسانی فکر کی قدیم ترین بحثوں میں سے ہے۔ قدیم یونان سے لے کر جدید اسلامی فلسفے تک یہ سوال بار بار اٹھایا گیا کہ کیا علم خود بخود اخلاقی ہوتا ہے یا اخلاق علم سے ماورا ایک روحانی جوہر ہے؟ مسلم مفکرین نے اس سوال کو محض نظری سطح پر نہیں بلکہ وحی، … Read the rest