پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات

صابر علی

۲۷ مارچ ۱۶۹۰ء کو دمشق کے نامور عالم عبدالغنی النابلسی  اپنے احباب اور مریدین کے ہمراہ دمشق سے یروشلم (بیت المقدس) کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ بیت المقدس کی جانب ایک پُرسکون اور اطمینان بخش سفر تھا جس کا راستہ اولیاء کے مزارات، صوفیانہ ملاقاتوں اور بہار کے دلکش مناظر سے مزین تھا۔ سفر سے قبل ایک خواب میں النابلسی نے خود کو ایک خوبصورت عربی گھوڑے پر سوار دیکھا تھا جس کے پاؤں دو توانا اور خوش لباس نوجوانوں کی ہتھیلیوں پر ٹکے ہوئے تھے۔ قافلے کی روانگی کے چار دن بعد دو نوجوان صوفی نہایت انہماک کے ساتھ النابلسی کے آگے آگے چل رہے تھے جن کی چال میں فرشتوں جیسا وقار تھا۔ یہ نوجوان یروشلم تک اور واپسی کے پورے سفر میں قافلے کے ہمراہ رہے۔ فجر کی نماز کے بعد سفر کا آغاز اموی جامع مسجد میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مزار پر حاضری سے ہوا اور سولہ دن کے پرُلطف اور مسرت انگیز سفر کے بعد یروشلم افق پر نمودار ہوا۔

شوق و اشتیاق کی ایک لہر پورے گروہ کے دلوں میں دوڑ گئی؛ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکے تھے اور اب مقدس مقام کے قرب میں تھے۔ تاہم شہر میں داخل ہونے سے قبل وہ شیخ حسام الدین الجراحی کے مزار پر حاضری دینے کے لیے جراحیہ اسکول گئے۔ وہاں روحانی پیشواؤں اور معززین کی ایک جماعت جھنڈے لہراتے اور مذہبی دعائیں پڑھتے ہوئے ان کے استقبال کی منتظر تھی۔ ادھمیہ زاویہ کے صوفیاء بھی جلد ہی اس استقبال میں شامل ہو گئے اور سب مل کر باب العمود (جسے دمشق گیٹ بھی کہا جاتا ہے) کی جانب بڑھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس آمد نے پورے شہر کو پرُجوش کر دیا ہے۔

جوں ہی النابلسی اندر داخل ہوئے اور یروشلم کے بازاروں اور تنگ گلیوں کی جانب اترے، وہ شہر کے حسن اور برکت سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کی یادداشتیں اس وقت کی کیفیت کو ہیبت اور مسرت کے امتزاج سے تعبیر کرتی ہیں۔ جلوس کی شکل میں چلتے ہجوم اور حمد و نعت پڑھتے ہوئے گروہ کے ساتھ، زائرین نے اپنے حتمی مقصد یعنی حرم الشریف کا رخ کیا۔ وہ باب القطانین (روئی کے تاجروں کا دروازہ) سے حرم میں داخل ہوئے۔ داخلے کا یہ لمحہ یادگار بن گیا کیونکہ عین اسی وقت ایک شاعرانہ مصرعہ پڑھا گیا جس میں مکہ سے یروشلم تک پیغمبر اسلام ﷺ کے سفرِ معراج کا جشن منایا جا رہا تھا:

”تم نے رات کے وقت حرم سے حرم تک سفر کیا،

جیسے کہ گھنی تاریکیوں میں چودھویں کا چاند سفر کرتا ہے۔“

اس جلیل القدر مذہبی رہنما کی آمد سے پرُجوش ہو کر مقامی لوگوں کا ایک بڑا ہجوم النابلسی کے پیچھے مملوک سلطانیہ اسکول (جسے اشرفیہ بھی کہا جاتا ہے) تک چلا آیا جہاں مہمانوں کے قیام کا انتظام تھا۔ ہجوم نے ملحقہ جگہوں اور آس پاس کی چھتوں کو بھر دیا۔ جیسے ہی النابلسی اسکول کے قریب پہنچے، وہ دروازے کے عمدہ تراشیدہ پتھروں اور رنگین جڑاؤ کام سے بے حد متاثر ہوئے۔ مینار کی گول سیڑھیوں سے استقبالیہ ہال کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے اپنے بصری تجربات نوٹ کیےاور اپنی یادداشتوں میں بڑی باریک بینی سے بیان کیاجن میں اسکول کی فضائی اور مادی خصوصیات کی تفصیلات شامل تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مملوک عمارت کے فنِ تعمیر سے گہرا اثر لے چکے تھے۔ حرم کی سرحد پر واقع اس بیرونی مقام سے النابلسی کو بلند سطح مرتفع پر ایستادہ قبۃ الصخرہ کی جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں۔

اگرچہ سلطانیہ ہال کے فاصلے سے قبۃ الصخرہ کا یہ بصری رابطہ ایک سرشاری اور وجدانی کیفیت سے لبریز ملاقات کی نوید سنا رہا تھا، تاہم پرُجوش ہجوم اور مہمان نوازی کے تقاضوں اور آداب نے زائرین کو روکے رکھا؛ نیز طویل سفر کی تھکان کے باعث وہ کچھ آرام کے بھی متقاضی تھے۔ اطمینان اور سکون کا سانس لیتے ہوئے انہوں نے سورۃ الفاتحہ  کی تلاوت کے ذریعے اپنی بخیر و عافیت آمد کا اعلان کیا جس کے بعد ہجوم منتشر ہو گیا۔

لیکن زائرین کو سستانے کا موقع بمشکل ہی ملا تھا کہ اذان کی پکار نے انہیں دوبارہ حرکت میں آنے پر مجبور کر دیا۔ اگرچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شہر کے نقیب  اور شیخ الحرم عبداللطیف آفندی  کی جانب سے فیاضانہ طور پر بھیجے گئے لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے مگر انہیں ظہر کی نماز کی ادائیگی کے لیے ”مسجد الصخرہ“ کی جانب عجلت میں نکلنا پڑا۔ انہوں نے قبۃ الصخرہ میں نماز ادا کی، وہ مقام جہاں عموماً حنفی مسلک کے لوگ نماز پڑھتے تھے۔ ترتیب کے اعتبار سے یہ تیسرے نمبر پر تھے؛ ان سے قبل مالکی (جو جامع المغاربہ میں نماز پڑھتے تھے) اور شافعی (جو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرتے تھے) فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔ حنفیوں کے بعد حنبلیوں کی باری آتی تھی جو سلطانیہ اسکول کے نیچے واقع مسجد میں نماز ادا کرتے تھے۔

اس یادگار عمارت کا مختصر اور کسی قدر غیر جذباتی   تعمیراتی بیان، حرم اور صخرہ دونوں کے فضائل، دیومالائی روایات اور مقدس تاریخ پر محیط کوئی تیس صفحات کے تفصیلی تبصروں کے بعد سامنے آتا ہے۔ اگرچہ ان کا تمام تر دھیان ’صخرہ‘ میں اٹکا ہوا تھا مگر وہ اس کے اوپر ایستادہ ڈھانچے کے بارے میں کسی قدر تذبذب کا شکار تھے۔ اس شہرہ آفاق اموی عمارت کا وجود ان پر کوئی خاص تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا جسے آج ’اسلام کے شاندار ترین تعمیراتی اور فنی شاہکاروں میں سے ایک‘ مانا جاتا ہے۔  انہوں نے تو اسے ایک اسلامی عمارت کے طور پر شناخت ہی نہیں کیا۔ وہ تمام نفیس آرائش اور ہندسی نقوش جو اس کے در و دیوار کو ڈھانپے ہوئے ہیں اور سب سے بڑھ کر ۲۴۰ میٹر طویل قرآنی آیات اور دیگر عربی کتبوں کی پٹی ان کے لیے جیسے ’ناپید‘ تھی؛ وہ تمام جمالیاتی خوبیاں جن کی آج دنیا معترف ہے، ان کے مشاہدے میں نہ آ سکیں۔ ان کا گمان تھا کہ یہ عمارت فرنگیوں   نے گیارھویں صدی کے اواخر میں شہر پر اپنے پہلے تسلط کے دوران تعمیر کی تھی۔ ان کی اس دلیل کی بنیاد عمارت کی وضع قطع یا طرزِ تعمیر پر نہیں تھی، بلکہ اس انداز پر تھی جس طرح یہ عمارت مقدس چٹان  سے مربوط تھی، گویا یہ دانستہ طور پر چٹان کے فضا میں معجزانہ طور پر معلق ہونے کے عقیدے کو چھپا رہی ہو۔

اپنی یادداشتوں میں وہ چٹان کی مقدس تاریخ کے حوالے سے متعدد مآخذ کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے کی بنیاد اندلس کے ممتاز فقیہ ابن العربی  کا وہ خاص عینی شاہدانہ بیان ہے جس میں انہوں نے زمین کی سطح سے اوپر فضا میں اس چٹان کو معلق دیکھنے کا ذکر کیا تھا۔ النابلسی کے نزدیک یہ معجزاتی تعلیق  پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزہِ معراج کی ایک واضح دلیل ہے (جو بعض روایات کے مطابق اسی چٹان کی چوٹی سے پیش آیا تھا)، اور جسے اس ”مشکوک عمارت“ کے ذریعے ہرگز چھپایا نہیں جانا چاہیے تھا۔ سترھویں صدی کے قاہرہ کے عالم علی الحلبی   کی ”سیرت“ کا حوالہ دیتے ہوئے النابلسی لکھتے ہیں:

”شیخ علی الحلبی نے اپنی سیرت میں ذکر کیا ہے کہ ابن العربی نے مالک کی موطا کی شرح میں فرمایا: بیت المقدس کی چٹان اللہ کے عجائبات میں سے ہے۔ یہ مسجد اقصیٰ کے وسط میں واقع ایک غیر ہموار اور بے ترتیب چٹان ہے جو ہر طرف سے زمین سے جدا ہے۔ اسے کسی چیز نے نہیں تھام رکھا سوائے اس ذات کے جس نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ وہ اس کے اذن کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے۔ جنوبی سمت میں اس کی چوٹی پر نبی کریم ﷺ کے پائے مبارک کا نشان ہے ، آپ پر درود و سلام ہو اور دوسری سمت میں ان فرشتوں کی انگلیوں کے نشانات ہیں جنہوں نے چٹان کو اس وقت تھاما تھا جب وہ ایک جانب جھک گئی تھی۔ اس کے نیچے ایک غار ہے جو ہر سمت سے زمین سے جدا ہے، چنانچہ یہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے۔ اس کے پرہیبت وجود کے سامنے میں (یعنی ابن العربی) اپنے گناہوں کے خوف سے اس کے نیچے جانے سے کتراتا رہا کہ مبادا یہ مجھ پر گر پڑے۔ تاہم، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں اس کے نیچے گیا اور ایک انتہائی حیرت انگیز منظر دیکھا: آپ اس کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ زمین سے منقطع ہے۔ کوئی چیز، یہاں تک کہ زمین کا کوئی حصہ بھی اس سے نہیں جڑا ہوا، اور یہ انقطاع بعض حصوں میں دوسرے حصوں کی نسبت زیادہ نمایاں ہے۔“

میں (یعنی النابلسی) کہتا ہوں: معلوم ہوتا ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے،کہ یہ عمارت جو اب چٹان کے گرد کھڑی ہے، فرنگیوں   نے بیت المقدس پر اپنے قبضے کے دوران تعمیر کی تھی تاکہ اس عظیم عجوبے کو ختم کیا جا سکے جس سے اسلام کی شان و شوکت واضح طور پر آشکار ہوتی ہے“۔

النابلسی کے نزدیک فرنگی تو چھپانا چاہتے تھے، مگر چھپانے کی غرض سے انہوں نے جو کچھ تعمیر کیا وہ اب بھی بامعنی اور پرُوقار حد تک حسین تھا۔ انہوں نے شاید فنِ تعمیر کو ایک جارحانہ آلے کے طور پر مکارانہ انداز میں استعمال کیا ہو لیکن جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا اس کی اپنی ایک جوازیت  اور شعریات  تھی جو صورتحال کی ’سیاست‘ سے ماورا ہو کر بھی قابلِ ستائش تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ النابلسی بنانے والے کی شناخت یا نیت کی پرواہ کیے بغیر فنِ تعمیر کی حسی اور روحانی خصوصیات کے ذریعے عمارت کے حسن کی داد دینے کے اہل تھے۔

قسط دوم

Visited 1 times, 1 visit(s) today

3 thoughts on “پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات”

  1. Pingback: پوشیدگی کی شعریات: عبدالغنی النابلسی کا سفرِ یروشلم اور قبۃ الصخرہ کی تعمیراتی مابعدالطبیعیات 2 – bayania.com

  2. wonderful publish, very informative. I ponder why the opposite specialists of this sector do not understand this.
    You must continue your writing. I am sure, you have a huge readers’ base already!

Leave a Reply to Kèo Nhà Cái Cancel Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *