جناب محمد دین جوہر نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ بعنوان ”جناب زاہد مغل کا تصورِ خدا“ میں زاہد مغل پر شدید تنقید کرتے ہوئے روایتی علم الکلام اور تصوف کے کچھ اصولوں کا سہارا لیا ہے، تاہم یہ تنقید جدید ذہن کی علمیاتی ساخت کو نظر انداز کرتی ہے۔ زاہد مغل کی یہ بات زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے کہ عصرِ حاضر کا تشکیک زدہ ذہن معجزے کی بھی توجیہ کر لے گا۔ قرآن مجید میں متعدد بار یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ کفار معجزات دیکھنے کے باوجود اسے ”سحر“ یا نظر کا دھوکہ قرار دیتے تھے۔ مصنف کا یہ دعویٰ کہ ”الوہی آواز کے بعد انکار کی مجال نہیں ہوتی“، صرف ”تجلیِ ذات“ کے لیے درست ہو سکتا ہے، مگر ”آیات“(نشانیوں) کے باب میں انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ غیب پر ایمان لائے۔ اگر آواز سن کر جبرِ ایمان طاری ہو جائے تو یہ ”دارالاسباب“ کے اصول کے منافی ہے۔ زاہد مغل یہاں خدا کی ”ذات“ کی بات نہیں کر رہے بلکہ انسانی ”ادراک“ کی حدود اور جدیدیت کے مادی پیراڈائم کی بات کر رہے ہیں جو ہر مابعدالطبیعیاتی مظہر کو طبعی قوانین کے تحت رد کرنے کا عادی ہے۔ لہٰذا، زاہد مغل کو ”جاہل متکلم“ قرار دینا خود علم الکلام کی باریکیوں اور نفسیاتِ کفر سے عدم توجہی کا نتیجہ ہے۔
جناب جوہر کی تحریر کا ایک نکتہ یہ ہے کہ الوہی آواز کے سامنے انسان کو انکار کی مجال نہیں ہوتی، لہٰذا زاہد مغل کا استدلال غلط ہے۔
قرآنی بیانیہ اس کے برعکس ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کوہِ طور پر بادلوں کے سائے اور آواز کے باوجود بچھڑے کی پوجا کی۔ ابلیس نے براہِ راست خطابِ الٰہی سنا مگر انکار کیا۔ الوہی کلام کا سنا جانا (بطور معجزہ یا آیت) انسانی ارادے کو سلب نہیں کرتا، ورنہ امتحان کا فلسفہ ختم ہو جائے گا۔ زاہد مغل کا اشارہ اسی نفسیاتی سرکشی کی طرف ہے جو نشانی دیکھ کر بھی تاویلیں تراشتی ہے۔
جوہر صاحب کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ زاہد مغل کا تصورِ خدا تشبیہی ہے کیونکہ وہ الوہی آواز کو دنیاوی آوازوں پر قیاس کر رہے ہیں۔
یہ تشبیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ”علمیاتی بحران“ کی نشان دہی ہے۔ زاہد مغل خدا کی آواز کی ”ماہیت“ بیان نہیں کر رہے، بلکہ سامع (جدید انسان) کے ردعمل کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ جدید سیکولر عقل ہر شے کو حسی اور مادی تناظر میں پرکھتی ہے، اس لیے وہ غیبی آواز کو بھی ”ایلینز“ یا ”ٹیکنالوجی“ قرار دے کر رد کر سکتی ہے۔
جوہر صاحب کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا اگر حاضر و ظاہر ہو تو مخلوق معدوم ہو جائے گی۔
تجلیِ ذات اور کلامِ الٰہی میں فرق ہے۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور وہ معدوم نہیں ہوئے۔ جبرائیل امین وحی لاتے رہے اور انبیاء زندہ رہے۔ جوہر صاحب وجودی فنا کو تشریعی مکالمے کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں۔ جاوید اختر کا سوال ”ثبوت“ کا تھا اور زاہد مغل کا جواب یہ تھا کہ ”ثبوت“ بھی متعصب ذہن کے لیے کافی نہیں ہوتا۔
https://web.facebook.com/share/p/1A2pEJstcb

I was able to find good advice from your blog posts.